New Age Islam
Sun May 31 2026, 05:18 PM

Urdu Section ( 24 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Representation of Refugees in the Azad Kashmir Assembly, State Unity, and Our Political Directionlessness آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نمائندگی، ریاستی وحدت اور ہماری سیاسی بے سمتی

سردار شوکت علی کشمیری

24مئی،2026

سردار شوکت علی کشمیری

-------

 پاکستان کے زیر انتظام"آزاد جموں و کشمیر "میں اس وقت قانون ساز اسمبلی کے اندر مہاجرینِ جموں و کشمیر کی مخصوص نشستوں اور ان کی سیاسی نمائندگی کے سوال پر ایک نئی اور گرم جوش بحث جنم لے رہی ہے۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور انتخابی معاملہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ سوال ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت، جغرافیائی شناخت اور مستقبل کے سیاسی تصور سے گہرا جڑا ہوا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حساس اور دور رس اثرات کے حامل موضوع پر دور اندیشی اور سنجیدہ مکالمے کے بجائے، جذباتی نعروں، فتووں اور معاشرتی تقسیم در تقسیم کے خطرناک رجحانات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

تعجب اس بات پر ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی پر معترض حلقے یا تو اس مسئلے کی تاریخی و سیاسی حساسیت سے یکسر ناواقف ہیں، یا پھر شعوری طور پر "مقامی بمقابلہ مہاجر" کی مصنوعی اور نفرت انگیز دیواریں کھڑی کر کے اپنے مخصوص اور قلیل مدتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تاریخی اور مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ 15 اگست 1947ء سے قبل پوری ریاست جموں و کشمیر (بشمول جموں، لداخ، وادی، گلگت بلتستان اور موجودہ آزاد کشمیر) ایک ناقابلِ تقسیم سیاسی اور جغرافیائی وحدت تھی۔ تقسیمِ ہند کے بعد پیدا ہونے والے حالات، علاقائی جنگوں، اور بین الاقوامی سیاسی مفادات کے نتیجے میں یہ خطہ مختلف حصوں میں بٹ گیا۔ اس جبری تقسیم نے صرف خطے کا جغرافیہ نہیں بدلا، بلکہ لاکھوں انسانوں کو اپنی صدیوں پرانی دھرتی سے ہجرت، اپنوں سے دوری، معاشی محرومی اور سب سے بڑھ کر شناخت کے ایک مستقل بحران میں مبتلا کر دیا۔

مہاجرینِ جموں و کشمیر کسی ایک مخصوص دور یا واحد واقعے کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ ان کی ہجرت کے پیچھے کئی خونی اور سیاسی المیے کارفرما رہے ہیں:

1947ء میں تقسیم کے وقت جموں اور دیگر علاقوں سے لاکھوں کشمیریوں کو منظم تشدد کے ذریعے ہجرت پر مجبور کیا گیا، جنہوں نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں پناہ لی۔

1965ء اور 1971ء کی پاکستان بھارت جنگوں کے نتیجے میں ورکنگ باؤنڈری اور سیز فائر لائن (موجودہ لائن آف کنٹرول) کے قریبی علاقوں سے بالخصوص پونچھ، چھمب اور جموں کے سیکٹرز سے نئی ہجرتوں نے جنم لیا۔

1989ء میں وادیِ کشمیر میں شروع ہونے والی مسلح تحریک اور اس کے نتیجے میں جبر ہزاروں خاندان ایل او سی عبور کر کے آزاد کشمیر کے کیمپوں میں پناہ گزین ہوئے۔ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ سیکیورٹی اور

سیاسی بحران آج بھی تھما نہیں ہے۔

یہاں یہ اصولی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنی ہی ریاست کے اندر حالات کے جبر کے تحت نقل مکانی کرنے والا کوئی بھی باشندہ اپنی بنیادی ریاستی شناخت اور سیاسی حقِ رائے دہی سے محروم ہو جاتا ہے؟ اگر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کے تحت ریاست جموں و کشمیر اب بھی ایک متنازع اور غیر فیصلہ شدہ اکائی ہے، تو پھر اس کے ہر باشندے کو خواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں آباد ہو۔ ریاست کے سیاسی نظام میں نمائندگی اور اظہارِ رائے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر ایکٹ 1970ء اور بعد میں بنائے گئے عبوری آئین 1974ء میں مہاجرین کے لیے پاکستان بھر میں پھیلے حلقوں میں 12 نشستیں (6 جموں اور 6 وادی کے مہاجرین کے لیے) مختص کی گئیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جب تک پوری ریاست کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کا تعلق جموں و کشمیر کے ریاستی وجود اور اسمبلی سے برقرار رہے۔ ان نشستوں کو ختم کرنے یا ان کی مخالفت کرنے کا مطلب عملاً اس تقسیم کو مستقل حقیقت کے طور پر قبول کرنا ھے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے نشستوں کی تعداد، آزاد کشمیر کے حلقوں میں رائج آبادی کے تناسب کے مطابق ہونی چاہیے، جو کہ ایک جائز اور جمہوری عمل ہوگا۔ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بنیادی انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے۔

ریاست جموں و کشمیر کے 'اسٹیٹ سبجیکٹ' (ریاستی باشندے) کے حامل شہریوں کو آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی سے محروم کرنے اور ان کے حاصل حقوق کے خاتمے کا یہ مطالبہ، دراصل ریاست جموں و کشمیر کی مستقل تقسیم کے ایک درپردہ اور خطرناک منصوبے کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو مذہب، علاقے، لسان، قبیلے اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کر کے ان کے درمیان نفرتوں اور عداوتوں کے ایسے پہاڑ کھڑے کرنا مقصود ہے، تاکہ وہ اس نہج پر پہنچ جائیں جہاں آپس میں اکٹھے رہنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔

ہم ریاست جموں و کشمیر کے تمام اسٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز کو بلاامتیازِ رنگ، نسل، مذہب، عقیدہ، زبان، علاقہ، قبیلہ، جنس اور نظریہ، برابر کا شہری اور تاریخی ریاست جموں و کشمیر کا سانجھا وارث سمجھتے ہیں۔

آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ (4.5 ملین) ہے۔ خطے میں صنعتوں کے فقدان اور متبادل روزگار کی عدم دستیابی کے باعث کل آبادی کا تقریباً چالیس فیصد حصہ دیارِ غیر میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ بیرونِ ملک مقیم یہ کشمیری آزاد کشمیر میں موجود اپنے خاندانوں اور عزیز و اقارب کا سہارا ہیں، جو دھرتی سے اپنا ناطہ جوڑے رکھنے کے لیے ہر طرح کی مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ تارکینِ وطن اپنے پیاروں کو ان کے روح وتن کے رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ، خوراک، چھت، معیاری تعلیم اور علاج معالجے کی خاطر ہر سال اربوں ڈالرز کا بھاری زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں۔

جو حلقے آج جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نشستوں اور کوٹے کی مخالفت پر اترے ہوئے ہیں، وہ کل تارکینِ وطن کشمیریوں کے خلاف بھی یہ بیانیہ کھڑا کر سکتے ہیں کہ چونکہ ان کی دوسری اور تیسری نسل برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک میں مستقل آباد ہو چکی ہے، اس لیے انہیں بھی حقِ رائے دہی سے محروم کیا جائے اور آزاد کشمیر میں جائیدادیں رکھنے کا حق چھین لیا جائے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ کچھ حلقے فکری طور پر اس مستقل تقسیم کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں، اس لیے وہ مہاجرین کی نمائندگی کو بوجھ یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ آج بھی ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی وحدت اور مشترکہ کشمیری شناخت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے نزدیک مہاجرین کی یہ نمائندگی محض چند انتخابی نشستوں یا سیاسی مفادات کا کھیل نہیں، بلکہ یہ قوم کے وجودی تسلسل اور الحاق یا خودارادیت کے اس مشترکہ خواب کی علامت ہے جو سیز فائر لائن کے دونوں طرف دیکھا جاتا ہے۔

آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل (جیسے بے روزگاری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، اور گورننس کا فقدان) کا تمام تر ملبہ مہاجرین پر ڈالنا نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ شدید سیاسی بددیانتی بھی ہے۔ آزاد کشمیر کے اساسی مسائل بنیادی طور پر پاکستان کی وفاقی پالیسیوں، اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان اختیارات کے مبہم ڈھانچے، اور مقامی مقتدرہ کی نااہلی کا نتیجہ ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے گلگت بلتستان کی آئینی محرومیاں اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بدترین حالات وہاں کی مسلط کردہ ریاستی و سیکیورٹی پالیسیوں کا شاخسانہ ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اس پورے خطے کو گذشتہ پون صدی سے جنوبی ایشیا کے دو بڑے ریاستی بیانیوں، طاقت کی بالادستی کی سیاست اور مقامی حکمران طبقات کے شاطرانہ رویوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس رسی کشی کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ عام کشمیری نے چکائی ہے۔ چاہے وہ لائن آف کنٹرول کے اس پار ظلم جھیل رہا ہو، آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر ہو، یا پاکستان کے شہروں میں مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہو۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان مصنوعی تفریقوں، لسانی و علاقائی تعصبات اور نفرت انگیز سیاست سے بلند ہو کر بحیثیتِ قوم اپنے اصل اور بنیادی مسئلے کا ادراک کریں۔ "مقامی بمقابلہ مہاجر" کی یہ حالیہ لہر دراصل عوام کو ان کے حقیقی سیاسی و معاشی حقوق اور اصل ریاستی سوالات سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے۔

اس کے علاوہ، آزاد کشمیر میں جولائی میں متوقع عام انتخابات کو ملتوی کروانے کا بھی ایک منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ کچھ عناصر آزاد کشمیر میں خون خرابہ اور انارکی پھیلانا چاہ رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ ایسے عناصر پر گہری نظر رکھی جائے اور ان کی بھرپور حوصلہ شکنی کی جائے۔ خدا نخواستہ اگر آزاد کشمیر میں حالات زیادہ خراب ہو گئے، تو کوئی بعید نہیں کہ اس پورے سیاسی و آئینی نظام کو ہی لپیٹ دیا جائے۔ موجودہ نظام میں بے شمار خامیاں اور کمزوریاں موجود ہیں، جن میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسی نظام کے تحت ہماری ہائی کورٹ، سپریم کورٹ، انتظامیہ اور باقی تمام ریاستی ادارے کام کر رہے ہیں۔

اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ یہ نظام ہی لپیٹ دیا جائے اور کسی ریٹائرڈ فوجی آفیسر، جج یا بیوروکریٹ کو (بطور نگران) بٹھا دیا گیا، تو عوام اپنے مسائل کے حل اور انصاف کے حصول کے لیے۔ جو آج اپنی نزدیک ترین عدالتوں، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)، ایس پی اور تحصیلدار کے پاس جاتے ہیں۔ پھر کس کے پاس جائیں گے؟

سال 1947ء سے لے کر آج تک آزاد کشمیر کے عوام نے تنکا تنکا جوڑ کر جو کچھ بھی حقوق حاصل کیے ہیں، وہ طویل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ اسی لیے پُرامن جدوجہد، مذاکرات، امن اور باہمی اتحاد ہی ہمیں ہماری حقیقی منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ اس نازک موڑ پر کسی بھی قسم کی مہم جوئی اور انارکی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ عوامی حقوق کی تحریکوں میں عوام کی جان و مال، ان کی عزت و وقار اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے، اور پرتشدد و انارکسٹ سوچ کی حامل قوتوں اور شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہم سب پر لازم ہے۔

بنیادی اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام اپنے سیاسی مستقبل، سلب شدہ شناخت اور حقِ خودارادیت کے مسئلے کو کس طرح ایک منصفانہ، جمہوری اور پائیدار حل کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ جب تک ہم اس بنیادی اور تزویراتی (Strategic) سوال پر یکسو نہیں ہوتے اور اپنی صفوں میں اتحاد قائم نہیں کرتے، تب تک یہ خطہ یوں ہی اندرونی انتشار، بے یقینی، جبری ہجرتوں اور سیاسی بے سمتی کے گھٹن زدہ ماحول میں سانس لیتا رہے گا۔

-----

سردار شوکت علی کشمیری، متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (UKPNP) کے جلاوطن صدر، 25 اپریل 1999 سے سوئٹرزلینڈ میں پناہ گزین ہیں کیونکہ پاکستان آرمی کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی جانب سے ان کی جان کو خطرہ لاحق تھا۔ وہ جموں و کشمیر انٹرنیشنل پیپلز الائنس (JKIPA) کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں، جو کشمیر، گلگت اور بلتستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی سیکولر سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے۔

--------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/refugees-azad-kashmir-assembly-state-unity-political/d/140145

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..