New Age Islam
Tue Mar 17 2026, 08:36 AM

Urdu Section ( 13 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mas‘udi’s Reservations about Comparative Religion and Indology تقابل ادیان اور ہند شناسی پر مسعودی کے تحفظات

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

( قسط اول)

13 نومبر،2025

(مروج الذہب و معادن الجوہر ایک تعارف(

ابو الحسن علی بن حسین المسعودی( 280- 345یا346) کوعظیم محق، تاریخ نویس اور جغرافیہ دان کی حیثیت سے دنیائے اہل علم جانتی ہے۔ یقیناً انہوں نے تاریخ و جغرافیہ اور دیگر سائنسی علوم و فنون پر انتھائی وقیع اور عالمانہ کام کیا ہے۔ ان کی کتب کا مطالعہ مصنف کی متنوع جہات اور علمی رتبہ و قد کو اجاگر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ مسعودی کو مشہور فرانسیسی مورخ" فان کریمرکا" عرب کا" ہیروڈ وٹس "لقب دیتے ہیں ۔ ان کی متعدد کتب ہیں  جن میں بہت ساری نایاب ہیں ۔  لیکن مسعودی کی معلومات تالیفات کی فہرست درج ذیل ہے:

1- مقدمہ التنبیہ الاشراف۔ 2- اخبار الزمان و حوادث عالم۔3- کتاب القضایا والتجارب ۔4- ذخائر العلوم وماکان فی سالف الدھور۔5- کتاب الرسائل۔ 6- کتاب التاریخ فی اخبار الامم من العرب والعجم۔ 7- کتاب الخزائن الملک وسرالعالمین۔8- کتاب المقالات فی اصول الدیانات وغیرہ وغیرہ ۔ مسعودی نے  " اخبار الزمان و حوادث عالم " "کتاب المقالات فی اصول الدیانات " اور " مروج الذہب و معادن الجوہر " میں تقابل ادیان پر کافی بحث کی ہے نیز اقوام  و ملل کی خصال اور ان کے عبادت و اصنام کو  بھی قلمبند کیا ہے ۔ مسعودی  کی کتب میں سب سے زیادہ مروج الذہب  معروف و متداول ہے۔ اس کو تاریخ مسعودی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا۔ عموماً یہ تصور ہے کہ یہ کتاب تاریخ پر لکھی گئی ہے۔ بر عکس اس کے اگر اس کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے یہ کتاب تقابل ادیان اور ہند شناشی کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اس کتاب کے اندر مصنف نے متعدد ادیان اور تہذیبوں کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ ابوریحان البیرونی سے قبل تقابل ادیان پر مسعودی  نے انتہائی جامع نکات بیان کئے ہیں۔ ضمنا یہ عرض کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آ ج مغرب کا یہ دعویٰ ہے کہ تقابل ادیان جیسے اہم شعبہ کو ہم نے دنیا کے سامنے پیش کیا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب ہم ابن ندیم کی کتاب " الفہرست" کا مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بہت سارے مسلم مفکرین نے اس باب سے دنیا کو کافی پہلے متعارف کرایا دیا تھا اگرچہ وہ کتب منگولوں کے حملے میں ضائع ہو چکی ہیں لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ تقابل ادیان پر اولین خدمت مسلم علماء نے ہی کی ہے۔ اسی سلسلہ الذہب کی ایک کڑی مسعودی کی  " مروج الذہب" ہے۔ مسعودی کی اس کتاب کے متعدد زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں ۔ جن میں انگریزی، فرانسیسی اور اردو سر فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ بلاد یورپ اور بلاد مشرق کی جامعات میں کافی تحقیقی مقالے بھی لکھے جاچکے ہیں ۔ اس وقت راقم کے سامنے جو نسخہ ہے وہ اردو ترجمہ ہے۔ یہ اردو ترجمہ پروفیسرشادانی ایم اے نے کیا ہے۔ اس کو نفیس اکیڈمی اسٹریچن روڈ کراچی نے 1985 میں شائع کیا ہے۔ اس کی پہلی اور دوسری جلد 760 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے اردو مترجم نے مقدمہ تحریر کیا ہے جو نہایت اہم معلومات پر مشتمل ہے۔ اب ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعض دیگر گوشوں پر گفتگو کی جائے۔

مروج الذہب کے قلمی نسخے

یہ بات آ چکی ہے کہ یہ کتاب اصل عربی میں ہے۔ چنانچہ ذیل میں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس کے قلمی نسخے کہاں کہا پائے جاتے ہیں اور ان کی تحقیق و تدوین کس کس نے کی۔ محققین نے اس کتاب کے چار قلمی نسخے  دریافت کیے ہیں۔   " مروج الذہب و معادن الجوہر " کا فرانسیسی نسخے سے عربی میں ترجمہ یوسف اسعد داعز "معتمد دارالطباعت والاشاعت " دارالاندلس، لبنان بیروت "نے کیا تھا انہوں نے ایک قیمتی مقدمہ درج کیا جس میں انہوں نے بتا یا ہے کہ مسعودی کی اس کتاب کے قلمی نسخے کہاں ہیں۔ " مروج الذہب و معادن الجوہر" کا اولین نسخہ پیرس کے شاہی کتب خانے میں تین جلدوں کی صورت میں موجود تھا۔ اسی نسخے کو فرانسیسی زبان میں منتقل کرنے سے قبل ایک جلد میں مرتب کیا گیا۔ اسی نسخہ کا ذکر " موسیو رینو نے اپنی فہرست مخطوطات میں 714 کے تحت درج کیا ہے۔ اس فہرست کے مطابق اس کی کتابت کی تکمیل ۔ 1708  میں ہوئی۔ یوسف اسعد نے دونسخوں کا اور ذکر کیا ہے لیکن ان کی تفصیل یہاں ترک کرتے ہیں۔ البتہ چوتھے نسخہ کے متعلق لکھا ہے کہ موسیو رینو کی فہرست اندراج کے مطابق حروف تہجی (د ) کے تحت درج کیا ہے۔ اور اس کو ایشیائی سوسائٹی کی ملکیت بتایا ہے۔ اس نسخے کی کتابت , ہبة اللہ بن محمد بن علی بن حسین القرشی نے 591 ھ  تک تکمیل  کی ہے۔ یوسف اسعد داعز کی تحقیق کے مطابق یہی نسخہ قابل اعتبار ہے۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس میں اکثر مقامات وہ ہیں جنہیں " مروج الذہب و معادن الجوہر" کے مؤلف نے ہندوستان کے مشہور شہر بنارس  اور خراسان ( ایران ) میں لکھا ہے۔  ( دیکھئے تفصیل مروج الذہب کا اردو ترجمہ، صفحہ 29-31)

—-

مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

---

URLhttps://newageislam.com/urdu-section/reservations-comparative-religion-indology/d/137622

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..