New Age Islam
Sun Jun 07 2026, 12:43 PM

Urdu Section ( 30 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Responsibilities of the Reformist Role: Scholars, Movements, Leadership, and Practical Paths to Establish Moderation in Society – Part-3 اصلاحی کردار کی ذمہ داریاں: علماء، تحریکات، قیادت اور معاشرہ کی اعتدال کے قیام میں عملی راہیں، قسط سوم

کنیز فاطمہ نیو ایج اسلام

30 جولائی 2025

اعتدال کی پکار: اسلام کے سنہرے اصولوں کی روشنی میں انتہاپسندی سے توازن کی جانب سفر

اسلام ایک ایسا دین ہے جو فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے، اور اسی لیے اس کی تعلیمات میں توازن، اعتدال اور میانہ روی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جیسا کہ ہم پہلی قسط میں قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کی اساسات پر گفتگو کر چکے، اور دوسری قسط میں ہم نے ان نظریاتی اور عملی انحرافات پر روشنی ڈالی تھی جنہوں نے اس اعتدال کو مجروح کیا، اب ہم تیسری اور آخری قسط میں اس اہم سوال پر غور کریں گے کہ "اس بگڑے ہوئے توازن کو کیسے بحال کیا جائے؟ اور کون لوگ اس راہِ اصلاح میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں؟"

1. علماء دین کی ذمہ داریاں

علماء ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے فکری و روحانی معمار رہے ہیں۔ تاریخِ اسلام میں جب بھی کسی فتنہ نے سراٹھایا، تو یہ علماء ہی تھے جنہوں نے قلم، قول، اور کردار کے ذریعے امت کی رہنمائی کی۔

الف) علم کی ترویج اور فکری اعتدال کی وضاحت:

علماء کو اپنی گفتگو، دروس، اور تحریرات میں اعتدال کے مفہوم کو اجاگر کرنا چاہیے۔ ان کی زبان، لہجہ اور طرزِ بیان نرم، مدلل اور حکمت آمیز ہو۔ ایسا علم جو صرف جذبات بھڑکائے، شدت کو بڑھائے، یا دوسروں کی تکفیر کرے، وہ اعتدال کے راستے سے دور لے جاتا ہے۔

ب) تکفیری سوچ کی بیخ کنی:

تکفیر کے فتوے دینا کبھی بھی معمولی معاملہ نہیں رہا۔ ایک صحیح العقیدہ مسلمان کو کافر کہنے کی روش نے اُمت کو کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو سامنے رکھتے ہوئے، حتی الوسع مسلمانوں کو دائرہ اسلام میں رکھنے کی روش اپنائیں۔

ج) علمی اختلافات میں حسنِ ادب:

مسائلِ فقہی یا اجتہادی میں اختلافِ رائے ایک رحمت ہے، لیکن اس اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا امت کو انتشار کی طرف لے جاتا ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ اپنے مکتبِ فکر سے وابستگی رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے ساتھ علمی شائستگی کا مظاہرہ کریں۔

2. دینی تحریکات اور اداروں کا کردار

امت میں موجود مختلف دینی، سماجی، اصلاحی تحریکات کو چاہیے کہ وہ اپنے ایجنڈے میں اعتدال کو شامل کریں۔

الف) اصلاحِ نفس پر زور:

تحریکات کو صرف ریاستی یا سیاسی سطح کے تبدیلی منصوبوں سے زیادہ، فرد کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ حقیقی تبدیلی اندر سے شروع ہوتی ہے۔

ب) نوجوانوں کی تربیت:

کئی نوجوان محض جوش و ولولے میں آ کر شدت پسند گروہوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اداروں اور تحریکات کو چاہیے کہ وہ مدارس و جامعات کے طلبہ کو فکری توازن، تنقیدی شعور، اور اعتدال پسندی کی تربیت دیں۔

ج) فرقہ واریت سے اجتناب:

تحریکات کا اصل مقصد دین کی خدمت ہونا چاہیے نہ کہ اپنے فرقے یا مسلک کی برتری۔ انہیں اپنے اجتماعات اور پیغامات میں وحدتِ امت پر زور دینا چاہیے۔

3. قیادت اور حکومتی اداروں کا کردار

اسلامی دنیا میں قیادت ایک بڑی طاقت ہے جو اگر درست سمت میں ہو تو بہتری کے دروازے کھول سکتی ہے۔

الف) دینی آزادی کے ساتھ نگرانی:

ریاستوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف دینی آزادی فراہم کریں بلکہ ان اداروں کی نگرانی بھی کریں جو نفرت، فرقہ واریت یا انتہاپسندی کو ہوا دیتے ہیں۔

ب) تعلیم و ابلاغ کے میدان میں اصلاح:

ریاست کو تعلیمی نصاب اور میڈیا کے نظام میں اصلاح کرنی چاہیے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعتدال، رواداری، اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیا جائے۔

ج) شدت پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی:

ریاستی ادارے ایسے قوانین بنائیں جن کے ذریعے مذہب کے نام پر نفرت انگیزی، تکفیر، اور فرقہ واریت کی روک تھام ممکن ہو۔

4. معاشرہ اور عام افراد کی ذمہ داریاں

کبھی کبھی ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اصلاح صرف خواص کا کام ہے، حالانکہ عام افراد بھی معاشرتی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

الف) گفتگو میں شائستگی:

معاشرے میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے وقت نرمی اور شائستگی کو اپنانا ضروری ہے۔ طنز، طعن، اور تنقیص کی زبان بگاڑ پیدا کرتی ہے۔

ب) سوشل میڈیا پر احتیاط:

آج سوشل میڈیا ایک بڑی طاقت بن چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نفرت انگیز مواد کو پھیلانے سے بچیں اور ایسا مواد شیئر کریں جو دلوں کو جوڑنے والا ہو، نہ کہ توڑنے والا۔

ج) مکالمے کی ثقافت کو فروغ:

ہمیں اپنی مساجد، مدارس، یونیورسٹیوں، اور گھروں میں ایسی گفتگو کو فروغ دینا چاہیے جو دوسروں کی بات سننے، سمجھنے، اور ادب سے اختلاف کرنے کا سلیقہ سکھائے۔

خلاصہ کلام یہ کہ امتِ مسلمہ کو آج جن فکری، روحانی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے، ان میں سے کئی کی جڑ انتہا پسندی، تکفیری سوچ، اور شدت پسند رویے ہیں۔ ان رویوں کا علاج صرف فتووں یا ردّعمل سے ممکن نہیں، بلکہ ایک جامع اصلاحی کوشش، شعوری بیداری، اور سنجیدہ فکری عمل سے ہی ممکن ہے۔

علماء، تحریکات، ریاستی ادارے، اور عام مسلمان، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم اس مقدس راستے کی طرف لوٹ سکیں گے جو ہمیں قرآن و سنت نے سکھایا: وہ راستہ جو وسطیت، حکمت، رحمت، اور عدل پر مبنی ہے۔ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ، ترجمہ:بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔[القرآن: سورۃ النحل، 90]

اگر امت آج اپنے اصل مزاج یعنی اعتدال کو اپنائے، تو ایک بار پھر وہ دنیا کی رہنمائی کے لیے اٹھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اعتدال ہی وہ روشنی ہے جو نفرت کے اندھیروں کو دور کرتی ہے، اور وہی امید ہے جو ہمیں بکھرنے سے بچا سکتی ہے۔والله ولي التوفيق

-----

کنیز فاطمہ عالمہ و فاضلہ ، نیز نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ہیں ۔

-----------

Part-1:  The Call for Moderation: A Journey from Extremism to Balance in the Light of Islam’s Timeless Principles-Part-1 اعتدال کی پکار: اسلام کے سنہرے اصولوں کی روشنی میں انتہاپسندی سے توازن کی جانب سفر

Part-2:  A Critical Analysis of Extremism and Ideological Deviations: Part Two انتہا پسندی اور فکری انحرافات کا تنقیدی تجزیہ، قسط دوم

URL: https://newageislam.com/urdu-section/responsibilities-scholars-leadership-paths-society–part-3/d/136345

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..