New Age Islam
Tue Apr 21 2026, 01:07 PM

Urdu Section ( 16 Feb 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Results of Immediate Actions Taken By the Government حکومتوں کا عجلت پسندانہ اقدام

صفدر امام قادری

12 فروری،2023

حکومتوں کا ایک بڑا کام یہ بھی ہے کہ وہ سماج میں پھیلی ہوئی طرح طرح کی دقیانوسیت او ربرائیوں سے عوام کوبچائیں او رایسے قوانین بنائیں کہ ان برائیوں سے اپنے آپ ہی نجات کی صورت پیدا ہوجائے۔ تحریک آزادی کے دور سے چھوا چھوت سے لے کر عدم مساوات کے ہزاروں سماجی مسئلوں پر گزشتہ ایک صدی میں ہندوستانی سماج اور متعدد حکومتیں سرگرم عمل ہیں مگر پورے طور پر اس سلسلے سے کامیابی نہیں حاصل ہوسکی۔ آئے دن یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مختلف صوبائی حکومتیں کسی ایک قانون پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا کوئی نیا قانون تیار کرکے آناً فاناً نافذ کر دیتی ہیں اور ان کے نفاذ کے لیے حکومت کی طاقت او رانتظامیہ کی شہ زور ی میدان میں کام آنے لگتی ہے۔

گزشتہ دنوں حکومت آسام نے یہ فیصلہ کیا کہ اٹھارہ برس سے کم عمر کی جن لڑکیوں کی شادی پائی جائے گی ، ان کے شوہر او ران کے والدین پر مقدمہ چلایا جائے گا او رانہیں جیل میں بھیج دیا جائے گا ۔ ہندوستان کا آئین ،تعزیرات ہند کی متعدد دفعات او رہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ہزاروں فیصلو ں کو سامنے رکھیں تو ہزاروں کی تعداد میں ایسی سماجی برائیاں ہیں جنہیں آپ وقتاًفوقتاً ابھی بھی سماج میں موجود پاتے ہیں۔ حکومت عدالت سے لے کر عوام تک سب کو اِن علتوں کے بارے میں معلوم ہے ۔ ہندوستانی سماج صرف انگریزوں کی غلامی سے جکڑا ہوا نہیں تھا بلکہ رسوم ورواج کی ہزاروں برسوں کی زنجیروں میں بھی قید تھا۔ مہاتماگاندھی اور ڈاکٹر امبیڈکر کے مختلف فرمودات کو یاد کیجئے تو یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ یہ حضرات ہندوستانی سماج کے لیے سب سے بڑا ناسور سماجی برائیوں کو سمجھتے تھے اور جنگ آزادی کے دوران علّتوں سے بچاؤ کے راستے سجھاتے رہے۔

سماجی برائیوں میں بیشک یہ ایک بڑا عیب ہے کہ لڑکی کی کم عمری میں شادی کردی جائے۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے مہاتما گاندھی کی شادی عمر یا دکیجئے جب کستوربا محض تیرہ برس کی تھیں۔بنگال اور مہاراشٹر میں باضابطہ ایسی تحریکیں چلیں کہ بال ودھوا کی شادی کا سماج میں اہتمام ہو۔ پہلے یہ عام بات تھی کہ پانچ برس کا لڑکا دوبرس کی بچی کیساتھ خاندان والوں کی مرضی سے شادی کے رشتے میں بندھ گئے۔ دونوں اپنے ماں باپ کے گھر پرورش پارہے ہیں۔ کسی وجہ سے دوچار برس میں لڑکے کی موت ہوئی تو اس وقت کاسماج او رمذہبی اُصول اُس نابالغ لڑکی کو بیوہ قرار دیتا تھا او راس بیوہ کی دوبارہ شادی ہندوستانی رسومیات میں ممکن نہیں تھی ۔ جیسے جیسے تعلیم اورنئی دنیا کے تصوّرات عام ہوئے، لوگوں نے ان برائیوں سے اپنے دامن کو پاک کیا ۔ بالعلوم تعلیم یافتہ طبقے میں ایسی علّتیں نہیں ہیں کہ نابالغوں کو شادی کے رشتے میں باندھ دیا جائے۔

مگر جہاں تعلیم عام نہیں ہے جس علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کا کوئی تصور زمین پر نہیں اتر پایا او رمعاشی اعتبار سے جو لوگ بے حد پچھڑے ہوئے ہیں، وہاں ایسی برائیاں اب بھی دکھائی دیتی ہی رہتی ہیں۔ قانون کی کتاب کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن شادی کی عمر کے سلسلے سے کئی بار تبدیلی لانے کی ضرورت پڑی ، عالمی قانون کو یکجا کیا جائے تو بہت آسانی سے یہ بات نظر آئے گی کہ ہر ملک میں شادی کی عمر کے تعلق سے ایک رائے نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں آسام کی حکومت کے سربراہ ہیمنت بسوا شرما نے شب خونی انداز میں نابالغین کی شادی کے سوال پر کریک ڈاؤن کا اعلان کیا اور تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کیں ۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کی جوبھی خاتون شادی شدہ ملیں گی، ان کے والدین اور شورہ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ کچھ معاملات میں والدہ سے بچوں کو بھی الگ کیا جاچکا ہے۔ ابھی تک اکیس سو کے قریب افراد گرفتار ہوچکے ہیں ۔ ہر تھانے دار اس موضوع کے حوالے سے بااختیار ہے او رکسی بھی گھر میں چھاپا مار کر گرفتاریوں کو عمل لا سکتا ہے ۔ کئی عورتیں شوہر کی گرفتاری کے بعد بھوکے مرنے کے لئے مجبور ہوئیں۔ بعض حاملہ عورتیں اسپتال اس لیے نہیں جارہی ہیں کہ وہاں پہنچتے ہی اس قانون کے اثر میں ان کے سرپرست گرفتار ہوجائیں گے اور خود ان کے ساتھ کیا ہوگا یہ پتا نہیں۔ اس خوف میں بعض کی موتیں بھی ہوگئیں۔ حزب اختلاف کے لیڈران بالخصوص کانگریس کے افراد حکومت کی اس حرکت کو غیر منصفانہ اور غیر جمہوری کہہ رہے ہیں مگر حکومت اپنی پیٹھ تھپ تھپانے میں لگی ہوئی ہے۔

آسام کو ہندوستان کے سب سے پس ماندہ اور غیر ترقی یافتہ صوبوں میں سے ایک ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ مشکل جغرافیائی صورت حال کے سبب صوبے کی دشواریاں الگ ہیں۔ سیلاب سے ملک کا کوئی بھی صوبہ آسام کی طرح تباہ وبرباد نہیں ہوتا ہے اور اگر مرکزی حکومت کی معاونت نہ رہے تو اس صوبے کو ہندوستان کے ترقیاتی نقشے میں صفِ آخر سے اوپر آنے کا موقع ہی نہیں مل سکے۔ دشواری یہ ہے کہ اس خطے میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بھارتیہ جتناپارٹی او را س مدد گار جماعتیں منظم طریقے سے کام کرتی رہی ہیں ۔ طلبہ کی تحریکیں چلیں اور ان کے ہاتھ میں صوبائی اقتدار بھی آگئی ۔ بنگلا دیشی در اندازی کی شکایتیں 1971 ء سے ہی اس علاقے میں سب سے زیادہ ہیں اور موجودہ حکومت کے لیے ایسے سوال بڑے پھل دار درخت کی طرح نظر آتے ہیں۔ شہریت قانون کے سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی تجربہ گاہ آسام ہی ہے اور وہیں باضابطہ طور پر ڈی ٹنشن سنٹر بنائے گئے اور لوگوں کو بے یار و مددگار وہاں اب بھی رکھا گیا ہے۔جب سے موجودہ وزیر اعلیٰ کو اچانک نئے چہرے کے طور پر امت شاہ نے پیش کیا، اسی وقت اقتدار کی گلیوں میں یہ بات گشت کرنے لگی تھی کہ انہیں کچھ خاص کام کرنے کے لیے یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ اب یہ باتیں کھلنے لگی ہیں اور یہ سمجھ میں آنے لگا ہے کہ وہ حقیقت میں اقلیت مخالف حکومت سازی کے کام کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں جہاں سے یہ اشارہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ پورے ملک میں ایسے قوانین نافذ کیے جائیں گے او رپولیس کی طاقت پر سب کچھ منوالیا جائے گا۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آسام میں اقلیت آبادی کا تناسب اچھا خاصا ہے اور وہاں کی سیاست میں مسلم اقلیت کازور بھی رہا ہے۔ واحد مسلم خاتون وزیر اعلیٰ بھی اسی صوبے سے آئیں او راب بھی پارلیمنٹ اور وہاں کی اسمبلی میں مسلم اکثریتی علاقے کے نمائندگی موجود ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے آسام کی مسلم آبادی تعلیمی اور مالی اعتبار سے نہایت کمزور ہے۔ ایسی حالت میں بڑی تعداد میں مزدور پیشہ افراد اپنی بیوی بچیوں کو اٹھارہ سال سے پہلے ہی شادی کر دیتے ہیں ۔ یہ بھی یاد رہے کہ صرف آسام ہی نہیں ملک کے ہر صوبے میں غربت او رجہالت کے مارے گھر وں میں علّت موجود ہے۔ راجستھان میں تو اس کی سب سے بڑی شکلیں نظر آتی ہیں مگر حکومت کا چونکہ واضح مقصد ہے کہ آسام میں اقلیت آبادی کو خوف میں رکھا جائے، آزادانہ سیاسی شناخت کے لیے ان کی سرگرمیوں پر کسی طرح قدغن لگائی جاسکے، اس لئے نابالغوں کی شادی کے معاملے میں گرفتار کرکے جیل میں ڈالنے کا ایک ماحول قائم کیا گیا۔ سرکار کا دوہرا منصوبہ بھی ہے کہ اس سے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئندہ اقدام کی سگ بگاہٹ سمجھ میں آجائے گی مگر ملک کے عمومی امن کے لیے یہ فیصلہ خوف پیدا کرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کہا جاسکتا ۔ سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ ان ہی اضلاع میں اس کا نفاذ سختی سے ہورہا ہے جہاں اقلیت آبادی کی کثرت ہے۔

12 فروری،2023 ، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

URL: https://newageislam.com/urdu-section/results-immediate-actions-taken-government/d/129115

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..