افتخار احمد قادری
30 اگست،2022
مکرمی!
آج کے معاشرے میں امن
وسکون کا تصور اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس میں مساوات،عدل، انصاف کا غلبہ نہ
ہو۔ سوسائٹی کی خوبی و خرابی، صلح و فسادات، اخوت ومحبت کا مدار اسی عدل و انصاف
پر منحصر ہے۔ انصاف کا ترازو ورنگ ونسل، ذات پات، امیر و غریب، حاکم و رعایا اور
اقلیت و اکثر یت کے بھید بھاؤ سے متاثر نہ ہو۔ آج کے دور میں جمہوریت کے باوجود و
امن و شانتی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد
پر ہوتے ہیں اور اکثریت اپنی مرضی و منشا کے اعتبار سے جو چاہیں گل کھلاتی ہے لیکن
مذہب اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے ایک دائمی قانون بنا دیا ہے جسے
کسی اقلیت مخالف بل اور قانون کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔
مسلمانوں او ر غیر مسلموں
کے مذہبی فریضے کی ادائیگی اور عبادات میں مساوات ممکن نہیں، اس لئے مذہب اسلام نے
یہاں عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ معاملات جو مذہبی نہ ہوں ان تمام
حقوق میں مساوات قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر غیر مسلم امن و سکون کے ساتھ زندگی
بسر کریں اور مذہب اسلام و مسلمانوں کے خلاف سرگرم نہ ہوں تو ایسے لوگوں کے ساتھ
مروت و انسانیت، حسن سلوک او ربھلائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن
مجید میں ارشاد فرماتا ہے،ترجمہ: اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں
نہ لڑے اورتمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکلا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف
کا برتاؤ تو بیشک انصاف والے اللہ کے محبوب ہیں۔ اسلام حکومت تمام غیر مسلم
اقلیتوں او ررعایا کے دین و مذہب، جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت کی ذمہ دار اور
پابند ہے۔ اسی لیے ان کو اسلامی مملکت کا شہری ہونے کی بنیاد پر وہ تمام حقوق حاصل
ہوں گے جو ایک مسلمان کو حاصل ہوتے ہیں۔ اسلامی مملکت او رقانون فطرت میں تمام
شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا اور بحیثیت انسان کسی کے ساتھ کوئی امتیاز
روا نہیں رکھا جائے گا۔مذہب اسلام نے اقلیتوں کو ان کے معاملات میں آزادی دی ہے،
وہ اپنی طرز زندگی، رہن سہن، کھان پان، شادی بیاہ او رلین دین وغیرہ میں تو آزاد
ہیں، ساتھ ہی دین و مذہب اور عقیدے کی آزادی کے ساتھ مذہبی رسومات میں بھی انہیں
آزادی ہے۔یہ صرف خوش کن اعلانات نہیں بلکہ مذہب اسلام کا قانون ہے۔ پوری انسانیت
کی تاریخ اس بات سے پاک ہے کہ اقلیت کے کسی ایک فرد کو بھی اس کے کھان پان، شادی
بیاہ، تجارت یا مذہبی رسومات ادا کرنے پر ان کو ہراساں کیا گیا ہو یا ان کو مار
دیا گیا ہو، اقلیتوں کو مذہبی رسومات میں کس قدر آزادی ہے اس کا اندازہ ان باتوں
سے لگایا جاسکتاہے کہ جو مذہب اسلام نے انہیں مراعات عطا کیا ہیں۔ مثلاً غیر مسلم
کو کھانے پینے کی آزادی ہے جو چیز ان کے مذہب میں حرام نہیں اسے وہ کھاپی سکتے ہیں
جیسے خنزیر اور شراب اگر چہ مذہب اسلام میں ان چیز وں کو خریدنا بیچنا او رکھانا
پینا یہ سب ناجائز حرام ہے، لیکن اگر کوئی غیر مسلم جس کے مذہب میں یہ جائز ہے وہ
کرے تو اسے اس کی اجازت ہے۔اسی طرح مذہب اسلام میں جن عورتوں کے ساتھ نکاح حرام
اور غیر مسلم ایسی عورتوں سے نکاح کرتا ہے او راس کامذہب بھی اس کی اجازت دیتا ہو
تو مذہب اسلام اس میں مداخلت نہیں کرتا۔ اسی طرح اسے اختیار ہے کہ اپنے مذہب پر
قائم رہ کر اسلامی سلطنت میں رہ سکتا ہے اس پر کوئی زور اور زبردستی نہیں۔ اس
سلسلے میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ: کچھ زور زبردستی نہیں دین میں۔ دوسری
جگہ ارشاد فرماتا ہے: اور اگر تمہارا رب چاہتا زمین میں جتنے ہیں سب کے سب ایمان
لے آتے۔ یعنی ایمان لانا سعادت ازلی پر موقوف ہے، ایمان وہی لائیں گے جن کو توفیق الہٰی
حاصل ہو۔ اس آیت کریمہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ آپ چاہتے
ہیں کہ سب ایمان لے آئیں اور راہ راست اختیار کریں پھر جو ایمان سے محروم رہ جاتے
ہیں ان کا آپ کو غم ہوتاہے اس کا ا ٓپ کو غم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ازل سے جوشقی
ہے وہ ایمان لائے گا۔ خزائن العرفان، اقلیتو ں کے لیے مذہبی آزادی و رواداری کی اس
سے بہتر قانون کی نظیر نہیں مل سکتی، چونکہ مذہب اسلام دین فطرت او راس اللہ رب
العزت کا بنایا ہوا نظام ہے جو علام الغیوب ہے، اس لیے اس کے نظام میں ہر قوم کو
مذہبی آزادی کا حق ہے، بلکہ مذہب اسلام نے تو مذہبی رہنما اور عبادت گاہوں کی
حفاظت کا حکم دیا ہے، اہل حیرہ سے معاہدے کی تفصیل اس حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے
کافی ہے: ترجمہ، اس بات پر صلح ہوئی کہ یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہیں نہ گرائی
جائیں، یہ قوانین صرف کتابو ں میں اس کی زیب و زینت کی حد تک نہیں تھے بلکہ اس پر
باضابطہ عمل کیا گیا او ریہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ یورپ، افریقہ اور
ایشیا تک جہاں بھی اسلامی سلطنت قائم رہی پوری تاریخ اسلام میں ایک بھی ایسا واقعہ
نہیں کہ مسلمانوں نے اقلیتی فرقے کی عبادت گاہ کو منہدم کیا ہو۔
30 اگست،2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic
Website, African
Muslim News, Arab
World News, South
Asia News, Indian
Muslim News, World
Muslim News, Women
in Islam, Islamic
Feminism, Arab
Women, Women
In Arab, Islamophobia
in America, Muslim
Women in West, Islam
Women and Feminism