نیو ایج اسلام اسٹاف رائیٹر
18 اکتوبر 2025

سعد رضوی
--------
پاکستان کی انتہا پسند مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان نے 9 اکتوبر 2025ء کو فلسطین سے یکجہتی میں اور اسرائیل کے ظلم و ستم کے خلاف جو احتجاجی مظاہرے شروع کئے تھے وہ اب پاکستان کو ایک اور سیاسی بحران کی طرف لے جارہے ہیں۔تحریک لبیک نے لاہور سے اسلام آباد لانگ مارچ شروع کیا تھا لیکن مریدکے میں پنجاب پولیس نے مظاہرین کے خلاف رات کے وقت شدید کریک ڈاؤن کیا اور تقریباً285 افراد کو ہلاککردیا اور 1900 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ پنجاب پولیس اور پاکستانی حکومت کی اس بربریت کی پورے پاکستان میں مذمت ہورہی ہے اور اسے پاکستانی تاریخکا سیاہ ترین باب قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن دوسری طرف تحریک لبیک پاکستان کا پس منظربھی کچھ شفاف نہیں ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد موجودہ سربراہ سعد حسین رضوی کے والد مولانا خادم حسین رضوی نے ڈالی تھی۔اس تنظیم کا خاص مقصد تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت ہے۔ اس تنظیم نے قرآن سوزی کے خلاف مظاہرے کئے ہیں ۔فرانسیسی صدر میکروں کے اسلام بحران سے گزررہاہے والے بیان کے خلاف بھی پرتشدد مظاہرے کئے تھے اور فرانسیسی سفارت کاروں کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔اس تنظیم نے سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی حمایت میں بھی مظاہرے کئے تھے۔ پاکستان میں توہین رسالت کے ملزمین کے خلاف مظاہرے اور ان کے ساتھ تشدد بھی اس کی پالیسی رہی ہے۔ ان ملزمین میں زیادہ تر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے بلکہ یہ الزام بھی لگا کہ اس تنظیم کے کارکنان نے اقلیتی فرقوں کے افراد سے ہفتہ وصولی کے لئے توین قرآن اور توہین رسالت کے قوانین کا استعمال کیا۔ خود پنجاب پولیس کی ایک اندرونی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے۔ اس تنظیم نے مذہبی معاملات کو عوام میں اپنی ساکھ جمانے اور اپنے حلقہء اثر کو وسیع کرنے کے لئے استعمال کیا اور جب اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا تو اس نے پاکستان کے الکشن میں حصہ۔لینا شروع کیا۔2018ء کے الکشن میں اس نے سندھ میں 2 نشستیں جیتیں اور 2024ء کے الکشن میں اس نے 29 لاکھ ووٹ حاصل کئے اور صرف پنجاب میں اس نے 25 لاکھ ووٹ حاصل کئے ۔اس طڑ تحریک۔لبیک ریاست کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔ یہ تنظیم اپنی متشدد پالیسی کے لئے جانی جاتی ہے۔ 2017ء میں فیض آباد میں اس کے پرتشدد مظاہروں میں کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں جس کے بعد نواز شریف حکومت نے اس پر پابندی لگادی تھی۔ لیکن بعد میں وہ پابندی ہٹالی گئی تھی۔ اس کے بعد 2031ء کے اپریل۔میں بھی عمران خان کی حکومت نے اس تنظیم پر پابندی لگادی تھی لیکن اسی سال نومبر میں وہ پابندی ہٹالی گئی تھی۔ اب اکتوبر 2025ء میں شہباز شریف حکومت نے تحریک کے پرتشدد مظاہروں پر ایک بڑاکریک ڈاؤن کیا اور 285 افراد ہلاک اور 1900 کو زخمی کردیا۔ اس کے ساتھ اس تنظیم پر ایک بار پھر پابندی لگادی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے اس تنظیم۔کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ پنجاب اور پورے ملک میں تحریک لبیک پاکستان نے اپنی مساجد اور مدرسے تعمیر کئے تھے۔ ان تمام مساجد اور مدرسوں کو حکومت نے محکمہء اوقاف کے ماتحت دے دیا ہے ۔ اسلام آباد میں واقع مولانا خادم حسین رضوی کے مزار کو مسمار کردیا گیا ہے اور وہاں سےبورڈ اور دیگر نشانات ہٹادئیے گئے ہیں۔۔ان کی قبر کو دوسری جگہ منتقل کردیا جائے گا۔پنجاب پولیس نے سعد رضوی پر قتل کے 6-7 مقدمے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت درجنوں مقدمے درج کئے ہیں اور سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کی تلاش کررہی ہے۔لہذا ، ان مقدمات کے تحت وہ لمبے عرصے تک جیل میںنرکھے جائینگے۔ سعد رضوی اور انس رضوی 12-13 اکتوبر کی رات پولیس کریک ڈاؤن کے دوران روپوش ہوگئے۔ کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان کو گولی لگی تھی۔ ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں ہے ۔
تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرے پر فائرنگ کے واقعے کو پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے ایک موقع جان کر اسے شہباز حکومت کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ۔کیا۔ پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے وزیراعلی سہیل فریدی نے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا اور جمعہ 17 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاج کی۔پکار دی۔ اس احتجاجی جلسے کی تائید جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحن نےبھی کی اور عوام سے اسلام آباد کی طرف کوچ کرنے کی پکار دی۔ان کے اس احتجاج میں ملک کی اہل سنت والجماعت کی تنظیموں نے بھی حمایت کی۔ مولانا فضل الرحمان نے جمعرات کو کہا کہ پارلیامنٹ اب حکمرانوں کی گھر کی لونڈی بن گئی ہے اس لئے اب پارلیامنٹ میں نہیں میدان میں ملک کے معاملات طئے کئے جائینگے۔
ان اعلانات اور مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے بیانات سے ایسا معلوم ہونے لگا کہ جمعہ کو نماز کے بعد ملک بھر میں اور خصوصاً اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ایک سنگین تصام ہوسکتا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پنجاب پولیس نے اس سے قبل ہی تحریک لبیک کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کیا اور دو دنوں کے اندر 5000 افراد کو گرفتار کرلیا۔تحریک کی 40 مساجد کو جمعہ سے قبل تحریک کے قبضے سے لے کر انہیں اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا اور وہاں سے تحریک لبیک کے مقرر کردہ قاری اور امام کو ہٹاکر سرکاری قاری مقرر کردئے۔ تحریک کے لیڈران کریک ڈاؤن کے ڈر سے روپوش ہوگئے اور پولیس نے ان کے گھروں پر تالا لگادیا۔ان کے مدرسوں کو بھی اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔ خادم حسینرضوی کے مزار کو راتوں رات منہدم کریا گیا۔۔اس طرح تحریک لبیک کی جوعمارت مساجد اور مدرسوں پر قائم تھی اسی بنیاد کو حکومت نے اکھاڑ کر اسے بے دست وپا کردیا۔ اپوزیشن پارٹیوں خصوصاً پی ٹی آئی نے تحریک لبیک سانحے کو بنیادبنا کر شہباز حکومت کو گرانے کا جو خواب دیکھا تھا وہ ٹوٹ گیا۔
تا دم تحریر، تحریک لبیک کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اسی کریک ڈاؤن کے دوران سعد رضوی اور تحریک لبیک کے کچھ اور سیاہ حقائق سامنے آئے ہیں۔ ایک پاکستانی یوٹیوب نیوز چینل کےمطابق پولیس نے سعد رضوی کے گھر پر چھاپہ ماری کرکے ان کے اہل خانہ کو بھی حراست میں لیا ۔ اس دوران ان کے مکان کی تلاشی میں بڑے پیمانے پر سونا ، چاندی اور بیرونی کرنسی ملے ہیں۔ جو چیزیں چھاپہ ماری میں پولیس کو ملیں ان کی تفصیل یوں ہے:
ڈیڑھ کیلو سونا مالیت 3 کروڑ 75 لاکھ
بیرونی کرنسی
یورو 2800
ریال 8500
پاؤنڈ4500
ہانگ کانگ ڈالر 2500
یواے ای ریال 1440
سیرین ریال 5000
سونے کی چوڑیاں ، لاکیٹ ، ہار اور کنگن اور چاندی کے زیورات
پاکستانی کرنسی
کل مالیت 22 کروڑ
سونے اور چاندی کو چھوڑ کر سعد رضوی کے مکان سے 17 کروڑ روپئے کی ملکی اور غیر کرنسی کا اتنی بڑی مقدار میں موجود ہونا کسی دینی اور مذہبی رہنما کے پس منظر ، کردار اور سرگرمیوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں تحریک لبیک کے اس بے موقع مظاہرے پر شکوک و شبہات اور بھی زیادہ گہرے ہوجاتے ہیں۔یہ۔بظاہر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیے لئے یہ مظاہرے ایسے وقت میں شروع کئے گئے جب غزہ میں جنگ بندی ہوچکی تھی اور وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے پر ایک بین الاقوامی مذاکرات میں شرکت کے لئے مصر میں موجود تھے اور ملک اور بیرون ملک یہ قیاس لگایا جارہا تھا کہ شہباز شریف ٹرمپ کے دباؤ میں انڈونیشیا کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرلینگے۔۔اس قیاس کومزید تقویت پاکستانی ٹی وی پر اسرائیی پارلیامنٹ کی کارروائی لائیو دکھانے جانے سے ملی کیونکہ پاکستان میں ملک کے اپوزیشن لیڈران عمران خان ،سعد رضوی اور الطاف حسین کو ٹی وی پر دکھانے پر پابندی ہے۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی ادارے یوایس ایڈ نے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی نام نہاد فلاحی اداروں بشمول ایف آئی ایف یعنی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو لاکھوں ڈالر کی گرانٹ اسکول کھولنے اور دیگر فلاحی کام کے لئے دی جو درپردہ دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کو منتقل ہوگئ۔ یہ بات بھی اب کھل کر آچکی ہے کہ امریکا نے مسلم ممالک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور مخالف اسلامی حکومتوں کا تختہ پلٹ کرنے کے لئے دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کو کھڑا کیا اور اسے ہر طرح کی مدد دی۔ پاکستان میں بھی ایسی تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔ سعد رضوی کے دادالال خان اٹک کے زمیندار تھے لیکن 31سالہ سعد رضوی کے شاہانہ ٹھاٹھ اورگاڑیوں کا قافلہ اور کروڑوں کے اخراجات کے لئے کروڑوں کی آمدنی درکار ہے جبکہ ایک انٹرویو میں انہوں اپنا ذریعہء آمدنی مویشیوں کے لئے غلے کی کھیتی یا فارمنگ بتایا۔ اور ان کی کاروں کے متعلق پوچھنے پربتایا کہ ان کے استعمال میں صرف ایک کار ہے جو دوستوں نے تحفے میں دی ہے۔ ان کے قافلے میں جو کاریں چلتی ہیں وہ دوسرے لوگوں کی ہوتی ہیں۔ یعنی وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کے پاس اپنا کچھ نہیں ہے اور سب کچھ دوستوں نے تحفے میں دیا ہے۔ لیکن دوسری طرف ان کے گھر سے 17 کروڑ کی پاکستانی اور ایرانی ، ملیشیائی ، یوروپین ، برطانوی ، عربی ، سیریائی کرنسی ہزاروں کی۔مالیت کی ملتی ہے۔ملک بھر میں تحریک لبیک کے سینکڑوں دفاتر ہیں جن کی شاندار عمارتیں ہیں۔ یہ عمارتیں تحریک کی ذاتی ملکیت ہیں کرائے کی نہیں ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2021ء میں سعد رضوی کی شادی ہوئی۔ اور تقریب ولیمہ میں ستر ہزار افراد شریک ہوئے۔ اسے پاکستان کی سب سے بڑی تقریب ولیمہ کہا جاتا ہے۔ اور یہ تقریب ولیمہ اس شخص کی تھی جو کہتا ہے کہ وہ موہشیوں کے کھانے کے غلے کی فارمنگ کرتا ہے اور اس کے پاس صرف ایک کار ہے وہ بھی دوستوں کی دی ہوئی۔
ایسا لگتا ہے کہ سعد رضوی نے اس بےموقع اور اپر پرتشدد مظاہرے کا پروگرام کسی بیرونی طاقت کے دباؤ میں بنایا کیونکہ کوئی بھی مذہبی مزاج کا شخص عوام کو تشددپر نہیں اکسا سکتا اور انہیں اپنے سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لئے ہلاکت میں نہیں ڈال سکتا۔
حیرت ہے کہ پاکستان کے ہر سانحے یا مذہبی یا سیاسی تشدد پر پاکستانی میڈیا حتی کہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار بھی فوراً ہندوستانی ہاتھ دیکھ لیتے ہیں لیکن سعد رضوی اور تحریک لبیک کے اس پر تشدد مظاہرے کے پیچھے چھپی ہوئی طاقتوں کا پتہ نہیں لگا سکے ہیں کیونکہ سعد رضوی کے گھر سے ہندوستانی نوٹ نہیں ملے ہیں۔یہ صحافی اور تجزیہ کار ان مظاہروں میں ایرانی، ملیشیائی ، سیریائی، یوروپی ، اماراتی اور امریکی ہاتھ نہیں بتارہے ہیں۔۔۔
ہوسکتا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کے محرکات کا مستقبل قریب و بعید میں پتہ چل جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ راز ہمیشہ کے لئے راز رہ جائے۔
----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/saad-rizvi-shady-background-tlp/d/137304
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism