New Age Islam
Sat May 30 2026, 06:12 PM

Urdu Section ( 15 Jun 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sacrifice and the Environment: Challenges of the Modern Age قربانی اور ماحولیات: جدید دور کے چیلنجز

عبدالعزیز انصار زبیر

14 جون،2024

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت ہے۔ قرآن و حدیث میں اس عمل کی فضیلت او راہمیت پر زور دیا گیاہے۔ تاہم، آج قربانی کے ماحولیات پر اثرات اور اس سے بڑے چیلنجز ایک اہم موضوع بن چکے ہیں۔ اسلام میں صفائی ستھرائی اور نظافت کی بہت اہمیت ہے، خواہ وہ انسان کے جسم اور کپڑوں کی پاکی اور ظاہری نظافت ہو، یا قلب وذہن کو برے خیالات سے، زبان کوبدگوئی، نظر کو بد نظری سے بچانا ہو، قربانی جہاں ایک طرف عظیم تقریب خداوندی کا ذریعہ ہے وہیں اس میں کئی اہم اور نازک پہلو بھی ہیں جن کالحاظ رکھنا اس موقع پر از حد ضروری ہوجاتا ہے۔ کم از کم اس ملک عزیز میں جہاں ہمارے قریبی محلوں اور گلیوں میں دوسرے مذاہب کے لوگ یعنی برادران وطن قیام پذیر ہیں، ان پر ہونے والے منفی اثرات سے بے پرواہ ہوکر کسی نظم و ڈسپلن کے بغیر یہ سارا کام انجام پذیر نہ ہونے پائے۔ قربانی کے وقت ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ یہ عمل کئی ماحولیاتی چیلنجز پیدا کرسکتاہے۔ ان چیلنجز سے نپٹنے کے لئے ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت اور اس کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ بے احتیاطی سے قربانی کرنے سے معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً دوسرے لوگوں کو بیمار کرنے کا خطرہ ہوسکتاہے یا ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

عیدالاضحی کے موقع پر اس تعلق سے عمومی بے توجہی دیکھنے میں آتی ہے۔ جہاں ماحولیات کی آلودگی کی فکر رکھنے والے افراد موجود ہیں، وہاں کچھ شہروں میں اپارٹمنٹس او رمحلے کی سوسائٹیوں کی جانب سے قربان گاہ کاباضابطہ انتظام کیاجاتا ہے، پانی اور صفائی کااہتمام، کارپوریشن کی گاڑیاں بلانے کابھی انتظام کیا جاتا ہے، لیکن کچھ میٹرو سٹیز اور چھوٹے شہروں میں حالت بد سے بدتر نظر آتی ہے۔سڑکوں پر اور گلیوں میں خون کی دھاریں بہہ کرنالیوں اور گٹر کو ڈھونڈتی خون کے نشانات چھوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں، جانوروں کے چارے اور ہر طرف بکھری ہوئی ان کی گندگی ماحولیات کی آلودگی کی داستان الم بیان کررہی ہوتی ہے، لیکن کسی کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔

اس سلسلہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ قربانی کے بعد خون اور دیگر فضلات کے لئے مناسب انتظام نہ ہوتو یہ پانی کے ذخائر کو آلودہ کرسکتے ہیں جس سے پینے کے پانی کی قلت اور صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ جانوروں کی بڑی تعداد میں قربانی  سے فضا میں میتھین گیس اور دیگر آلودگی پھیل سکتی ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں میں اضافہ کرتی ہے۔جانوروں کے جسمانی فضلات اور چربی وغیرہ کا مناسب طریقے سے تصرف نہ ہونے کی صورت میں زمین او رپانی کی آلودگی ہوسکتی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں صفائی اور ماحولیات کی حفاظت کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔بے احتیاطی کرنے والے لوگوں کو ان تعلیمات کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ بے احتیاطی کرنے سے دوسرے لوگوں کی صحت یا ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ انسانیت کی قیمتوں کے خلاف ہوتاہے اور ہمیں دوسروں کی محبت اور حفاظت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔چنانچہ لوگوں کو قربانی کے دوران ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے آگاہ کریں۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے ماحول دوست قربانی کے فوائد کو فروغ دیں۔قربانی کے لئے ایسی جگہوں کا انتخاب کریں جو کھلی اور ہوادار ہوں تاکہ ہوا کی مناسب گردش ہوسکے اور آلودگی کم سے کم ہو۔ لوگوں کو فضائی آلودگی کے نقصانات او راس سے بچاؤ کے طریقو ں کے بارے میں آگاہ کریں۔ اس میں معاشرتی اور مذہبی دونوں پہلوؤں پر زور دیا جائے۔

ماحولیات پر منفی اثرات کے باوجود، جدید دور میں کئی ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے ان اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے: قربانی کے دوران صفائی اور باقیات کو ٹھکانے لگانے کے لئے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ قربانی کے بعد جانوروں کی کھال او رباقیات کوری سائیکلنگ کے عمل میں شامل کیا جائے۔ اس کے خون او رپلیدی کو بلیچنگ پاؤڈر سے ڈھک دیناچاہئے اور بعد میں اسے پیک کرکے کوڑادان میں ڈال دینا چاہئے۔ مویشیوں کی افزائش کے لئے ماحول دوست طریقے اپنائے جائیں، جیسے کہ قدرتی چارہ اور پانی کے استعمال کو بہتر بنانا۔ جانوروں کی افزائش کیلئے جنگلات کی کٹائی کو روکنے کیلئے حکومتی پالیسیوں کو مضبوط بنایا جائے۔ مویشیوں کی افزائش کے دوران کاربن اخراج کو کم کرنے کیلئے جدید تکنیکیں اپنائی جائیں۔

قربانی کے جانوروں کی نقل وحمل کو مقامی سطح پر محدود رکھا جائے تاکہ کاربن فٹ پرنٹ کم ہو۔ سڑکوں،شاہ راہوں، گلی کوچوں میں جانور ذبح کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ چرم قربانی کو فوراً ٹھکانے لگانے کا انتظام کیا جائے۔ صحت مند او رجسمانی لحاظ سے مکمل جانور کا انتخاب کریں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤسے بچا جاسکے۔ قربانی سے پہلے او ربعد میں جانوروں کی مناسب دیکھ بھال کریں۔ ان کو پانی اور خوراک فراہم کریں اور مناسب جگہ پر رکھیں۔قربانی کیلئے صاف او رموزوں جگہ کا انتخاب کریں، جو گندگی اور تعفن سے پاک ہو۔ قربانی کے لئے استعمال ہونے والے تمام آلات کو صاف رکھیں اورجراثیم سے پاک کریں۔ قربانی کرنے والے افراد دستانے او رماسک پہنیں تاکہ خون اور جانوروں کے دیگر فضلات سے بچا جاسکے۔ قربانی کے بعد جانوروں کے باقیات کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ پلاسٹک بیگز سے بچیں او ر ماحول دوست مواد استعمال کریں۔ لوگوں کو قربانی کے صحیح طریقے اورفضائل کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ غیر ضروری مسائل سے بچا جاسکے۔

اگر ممکن ہوتو مشترکہ قربانی کا اہتمام کریں تاکہ جانوروں کی تعداد کم ہو اورفضلات کی مقدار بھی کم ہو۔ قربانی کے دوران یا بعد میں اگر کسی بیماری کا خدشہ ہوتو فوراً ماہرین صحت سے رابطہ کریں۔قربانی کے تمام مراحل کو اسلامی تعلیمات کے مطابق انجام دیں تاکہ روحانی فوائد حاصل ہوں۔ جانور کو اذیت دینے سے بچیں اور شریعت کے مطابق تیز دھار آلہ استعمال کریں۔ قربانی کے عمل میں کمیونٹی کوشمولیت کو فروغ دیں تاکہ مل جل کر صفائی اور دیگر امور نپٹائے جاسکیں۔ قربانی کا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کریں تاکہ قربانی کی اصل روح قائم رہے۔ قربانی کا سماجی فلسفہ فرد اور معاشرت دونوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتاہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی، اقتصادی اور روحانی پہلوؤں کو بھی شامل کرتاہے۔ قربانی کے ذریعے ہم اپنے معاشرے کو بہتر بناسکتے ہیں، غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں، اور انسانی خدمت کے جذبے کو فروغ دے سکتے ہیں۔

قربانی کا اصل مقصد ایثار اورقربانی کی روح کو فروغ دیناہے۔ فرد اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے اپنی نفسیانی خواہشات پر قابو پاتاہے اور دوسروں کی خوشیوں کے لئے اپنے مفادات کو قربان کرتاہے۔اسی  طرح قربانی کا گوشت غرباء او رمساکین میں تقسیم کرنا معاشرتی برابری او رانصاف کو فروغ دیتا ہے۔ اس سے کمزور طبقے کے لوگ بھی خوشی میں شریک ہوسکتے ہیں او ران کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ قربانی کے موقع پر لوگ مل جل کر قربانی کرتے ہیں، جس سے سماجی اتحاد ویگانگت بڑھتی ہے۔ مختلف طبقوں اور پس منظر کے افراد ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔ ان فوائد کے پیش نظر سماجی صحت او رماحولیات کے تعلق سے اپنی ذمہ داری انجام دی جائے او رماحول کو درست او رسازگار بنانے میں حد درجہ احتیاط کاپہلو اپنایا جائے۔ اسلام میں ماحولیات کی حفاظت کی بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔قرآن میں مختلف مقامات پر زمین کی حفاظت اور فطری وسائل کے استعمال میں اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے۔سورۃ الاعراف آیت نمبر 56 میں اللہ نے فرمایا: ترجمہ: ”اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین سبز وشاداب ہے، اور اللہ نے تمہیں اس خلیفہ بنایا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو“(مسلم) ان احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے آس پاس مکمل صفائی اور ستھرائی کا خیال رکھا جائے۔

قربانی ایک عظیم عمل ہے جو مختلف پہلوؤں سے ہماری زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کرتاہے۔ اس عمل کے ذریعے ہم اپنے مذہبی فرائض کو پورا کرتے ہیں، روحانی فوائد حاصل کرتے ہیں، معاشرتی برابری کو فروغ دیتے ہیں، اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، او رماحولیات کی حفاظت کرتے ہیں۔ قربانی کا یہ جامع فلسفہ ہمیں ایک بہتر انسان اوربہتر معاشرہ بنانے کی طرف راغب کرتاہے۔ ان سب باتوں کے استحضار کے ساتھ جب قربانی کی عظیم سنت ادا کی جائے گی تو انشاء اللہ ہماری انفرادی و اجتماعی اور معاشرتی زندگی میں اس کا فائدہ ہوگا، قربانی کا ایک مثبت پیغام ساری انسانیت تک پہنچے گا، خصوصاً برادران وطن میں پھیلی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوگا۔

14 جون، 2024، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

--------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sacrifice-environment-challenges-modern-age/d/132514

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..