New Age Islam
Wed Jun 03 2026, 05:55 PM

Urdu Section ( 23 Aug 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Salient aspects of Farz-e-Kifayah فرض کفایہ کی نمایاں جہتیں

ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد

22اگست،2025

خالقکائنات نے جس کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا وہ انسان ہی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمام ظاہر و خفی مخلوق میں تنہا اسی کو اشرف المخلوقات کے مقام سے سرفراز فرمایا۔ انسان کا مرتبہ اللہ کے یہاں کیا ہے۔ دوسرے جیسا منصب و مرتبہ رکھا، ذمہ داریاں، فرائض اور محاسبے کا طریقہ کار بھی ویسا ہی مقرر فرمایا۔ مخلوق کی ہدایت کے لئے جو عقیدہ و دین مقرر کیا اسے دین فطرت کہا اور اس کا نام اسلام رکھا، سر چشمہ ٔہدایت آخری صحیفۂ آسمانی قرآن کریم اور قطعی نمونہ ہدایت بحوالہ انسانیت خاتم المرسلین سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کو مقرر فرما دیا۔ ما سوائے انسان کے جس کو اس حوالے سے خود مختار بنایا کہ وہ اپنے ایمان ، اخلاق و کردار کا تعین خود کرے۔ بقیہ ہر مخلوق کو جو فطرت عطا کردی وہ اس کی تابع رہنے کی پابند بنادی گئی۔ فرشتے جن کے مراتب کس قدر افضل ہیں، جنات جن کو کمال کی قوتیں اور صلاحیتوں سےاللہ نے نوازا ہے مگر بات جب منصب اشرف المخلوقات کی آتی ہے تو وہ مرتبہ حضرت انسان کے حصے میں آتا ہے۔ فرشتوں اور جنات کے حصے میں نہیں۔ 

سلام در سلام اور حمد ہی حمد اس رب کون و مکاں کے لئے جو ہرشئےپر قادر مطلق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ ہر شئے سے بے نیاز اور ہر شئے اس کی محتاج، وہ جس کی منشی اور مشیت سے نہ کچھ باہر اور نہ ایسا ہونا ممکنات ہی میں شامل! وہ ایک ایسی مخلوق کی تخلیق کرتا ہے جسے بشر یعنی انسان کہا گیا، تخلیق کے بعد دربار خداوندی میں اس کی جو بھی کیفیت ہو فرشتوں کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مرتبہ تو حضرت انسان کا دیکھئے کہ خالق کائنات خدائے وحدہٗ لا شریک وہ جو اس کی اپنی تخلیق ہے اس کو کیا  خاص مقام عطا کر رہا ہے؟ سب نے فرمان ربی کی اتباعکے علاوہ ایک ملعون، مردود و معتوب کے جس نے کھلی حکم عدولی کی اور شیطان قرار پایا تا قیامت اس کی یہی حیثیت رہنے والی ہے۔

انسان کو تنہا نہ چھوڑا گیا بلکہ ہر دور، نسل، علاقے اور جغرافیہ میں اللہ کے نبیؐ، رسول، ہادی، متنبہ کرنے والے اللہ تبارک و تعالیٰ نے بھیجنے کا ایک سلسلہ قائم کیا جو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام پر مشتمل ہے۔ اول انسان آدم جو پہلے نبی قرار پائے اور آخری سردار الانبیاء خاتم المرسلین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ پر یہ سلسلہ مکمل ہوا اور اب تا قیامت نہ کوئی نبی آئے گا، نہ ہی کوئی رسول اور نہ ہی کوئی صحیفۂ آسمانی۔ گویا ہدایت کاسلسلہ جو حضرت آدم سے شروع ہوا وہ متعدد انبیاء و رسل اور آسمانی صحائف کے نزول سے ہوتا ہوا اللہ کی آخری آسمانی کتاب ہدایت قرآن کریم پر مکمل ہوا۔ اس سے پہلے تمام صحائف اور انبیاء و رسل کو اسلام کے عقیدے کا جز و کل قرار دیتے ہوئے ہر مسلم کے لئے سب پر اجمالی عقیدہ رکھنے اور سب کے احترام کرنے کو لازم قرار دے دیا گیا۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی تفریق یا کسی کی ایک کی بھی تنقید یا تنقیص کی قطعاً اجازت نہیں ،اس طرح سب کی حرمت و تقدس کو ایک مسلمان کے عقیدے کا لازمی جز قرار دے دیا گیا۔ 

اسلام کی ابتدا ء۱۴۴۶ برس پہلے نہیں ہوئی۔ جو ایسا سمجھتے ہیں اور اس اسلوب کے ساتھ اسلام کو سمجھتے اور پیش کرتے ہیں وہ اس دین حق و دین فطرت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم کر ہی نہیں سکتے کہ اسے ۱۴۴۶ برس پرانا بتایا جائے۔ اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں بھی اسلام کی تعریف اسی طرح ہے جس کو درست کرانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی دنیا کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس تصحیح کو یقینی بنائے۔  اسلام عدن میں حضرت آدم کی پیدائش اور کرۂ زمین پر آپ کی آمد و نبوت کی سرفرازی سے شروع ہوکر محمد مصطفیؐ تک کے سفر کا حامی و گواہ ہے۔ پہلی شریعت اور پہلی فقہ آدم سے شروع ہوتی ہے۔ آپ اس سفر حق پر مہر آخر، مہر مقدم، مہر مسلم و مہر مستند ہیں۔ یہاں ابہام کی سرے سے کوئی زمین ہی نہیں!

 قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ اے انسانو! اللہ اور اس کے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔ تم بھی کثرت سے آپ پر درود بھیجا کرو ۔پھر پورے قرآن میں عقیدے کی بنیاد اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے اپنے رشتے اور آپ کے مقام کو واضح کردیا ۔اب کس کے قلم میں دم ہے کہ وہ آقا کے لئے وہ الفاظ و مضمون لا سکے جو آپ کے مقام کو اس کے حق کے مطابق قلم بند کر سکے۔

مسلمانان عالم الحمد للہ روز اول سے ایک الہامی کردار کی ادائیگی پرمامور ہیں جس کو فرض کفایہ کا درجہ حاصل ہے۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عین مطابق اپنا ایمان، عمل اور اخلاقیات، ہم کوامت وسط قرار دیا گیا، تمام عالم میں اس کردار کا متحمل بنایا، اس کی ادائیگی کو اپنی حد تک عمل اور بقیہ میں اس کی دعوت و تبلیغ، اس کے نفاذ کی کوشش و جد جہد اور ایک فلاحی معاشرے کا قیام جو دین فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ایک ایسے عدل پر قائم ہو جس میں انصاف کی فراہمی ہر دنیاوی وسوسے اور مادی گرفت سے قطعاً آزاد ہو۔ کیا ہم اس کردار کو ادا کر رہے ہیں ہر دور میں ایک جماعت یہ کام کرتی آئی ہے۔ آج بھی کچھ لوگ یقیناً اس فرض کفایہ کو ادا کر رہے ہوں گے۔ وہ کون ہیں میں نہیں جانتا، مگر وہ جو بھی ہیں ،جہاں بھی ہیں ،اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔ غیب سے ان کی مدد ہو، ہر شر اور فتن سے اللہ ان کی حفاظت فرمائے، ہر کیفیت میں سرخ روئی اور نصرت ان کا مقدر ہو۔

 اگر مسلم دنیا پر نظر ڈالیں تو جبر، نا انصافی، حق گوئی کےلئے تنگ تر زمین، مخالف چاہے کتنا ہی حق پر کیوں نہ ہو اس کے لئے زمین تنگ، تعصب، تفرقہ اور مخاصمت میں کسی کو بھی پابند سلاسل کرنا عام، قید و بند کی صعوبتیں، غیر انسانی مظالم و زیادتیاں اور کیا کیا نہیں؟ حکمرانی موروثی اور عوام کے حقوق پر ڈاکہ، اظہار آزادی اور بنیادی حقوق کا گھٹا ہوا گلا، ہوتے ظلم کو تماشائی بن کر دیکھنا، اپنے ذاتی اقتدار پر دین حق کا قربان کیا جانا، جائز کو نا جائز کرنا، حرام خوری، عہد شکنی، بے ایمانی، بے حیائی اور عزت نفس و ضمیر کی دبی آواز اور حق کے راستے پر چلنے اور چلانے والا حاکم وقت اور حکومت وقت کے نزدیک باغی۔

مسلمانان ہند کے تناظر میں ہم کس حد تک خود امر بالمعروف کے عملاً قائل ہیں اور نہی عن المنکر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ امت مسلمہ سے مختلف نہیں! اصطلاحاً توآخر ہیں مگر عملاً  بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان اور شیطان دونوں کو اس کرۂ ارض یعنی زمین کے اس خطے پر اللہ نے اپنی مشیت کے تحت بسایا ہے ۔دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں اختیار دیا ہے،انسان اپنا کردار خود طے کرے ،خیر یا شر کا اختیار اس کے پاس ہے۔ اس کو  ہدایت کے زمرے میں مخصوص کیا اور شیطان کو وسوسوں میں مبتلا کرکے گمراہ کرنے کی تا قیامت کھلی چھوٹ دی۔ اب خیر و شر کا تا قیامت میدان سجا ہے۔ ہدایت کا ایک خدائی نظم اسلام، قرآن و رسالت کی شکل میں قائم ہے۔ انسان کو ضروری علم، معلومات، حواس خمسہ، تقویٰ اور ولایت کی سعادت، شعور نبوی مگر خصلت انسانی کے ساتھ گویا عطا ہی عطا۔  نیکی اور بدی کی یہ جنگ جاری ہے۔ دونوں میں ہر لمحہ تصادم و مقابلہ آرائی ہے، جو شر کو شکست دے گا۔وہ مولائے کائنات کا ہر دلعزیز اور جو اس کا ساتھی وہ اللہ کا باغی اور اس کے عتاب کا حقدار!

ہم سب مل کر اللہ رب العزت کے سامنے اپنے اس فرض کفایہ کی ادائیگی میں کوتاہی کا اقرار کریں، جہاں بھی ہیں وہاں عدل کا نظام قائم کریں۔ اس کے لئے جد جہد کرنے کو فرض عین سمجھیں۔ اس فریضے میں کوتاہی کے حوالے سے سب مل کر توبہ کریں اور آئندہ اپنے گھر، اولاد اور پڑوس سے اس کردار کی ایماندارانہ اور امانتدارانہ ادائیگی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں پھر دیکھیں کیا کرشمہ ہوتا ہے دشمن میرے اور آپ کے اندر ہے باہر نہیں!

 جو مرتبہ اور کردار مولائے کائنات نے نبیٔ آخر الزماں کے عملی نمونے کے ساتھ اس زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر مجھے اور آپ کو عطا کیا ہے اس فخر اور شکر کے مشترکہ احساس کے ساتھ قدم آج سے آگے بڑھے پیچھے نہ جائے۔ ظلم کے خلاف حکمت سے کھڑے ہونا ، عدل کا خود کو سپاہی بنانا، جنگ و جنون کا نہیں، امن کا  ہدف ہے۔ اسلام امن، صلح و سلامتی کا دین ہے بس ہم سب اس کے پیکر بن جائیں۔

-------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/salient-aspects-farz-e-kifayah/d/136580

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..