ڈاکٹر جاوید اختر، نیو ایج
اسلام
2 اگست 2023
تعارف
دور حاضر میں، ہم ایک
انتہائی نازک حالات سے دو چار ہیں۔ اسلام کو مغربی. عالم کے چیلنجوں کا سامنا ہے،
جو اس کے عقائد و نظریات کو سوالات کے گھیرے میں لاتے ہیں، اور دوسری طرف بنیاد
پرست اسلام کے لیے داخلی طور پر خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ یہ پیچیدہ صورت حال بہت سے
جدید مسائل پیدا کرتی ہے اور آج کے علمائے کرام کے لیے چند مشکل سوالات کو جنم
دیتی ہے۔ اس صورت میں ہمارے لیے ایک سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روایات اور
سائنسی علم دونوں کو اپناتے ہوئے ہم اپنے دین پر کیسے قائم رہ سکتے ہیں۔ اس مختصر
مضمون میں دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے
تاکہ سائنسی تعلیم کی موجودہ خامیوں کو دور کیا جا سکے اور اس میں بہتری کی طرف
ایک معمولی قدم اٹھایا جا سکے۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی
آبادی کافی بڑی ہے۔ اس بڑی آبادی کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچے تین قسم کے
ہوتے ہیں اور ان کے لیے تین طرح کے مسائل بھی ہیں:
1. مسلمان طلباء کی اکثریت
اپنی تعلیم یا تو مدارس میں حاصل کرتی ہے، جہاں بنیادی طور پر مذہبی تعلیمات پر
توجہ دی جاتی ہے، اور سائنس کی تعلیم پر کوئی خاص زور نہیں دیا جاتا ہے۔
2. یا مسلمانوں کے ذریعے
چلائے جانے والے سیکولر اسکولوں میں جہاں سائنس کی تعلیم ناقص معیار کی ہے؛
3. بہت کم مسلم طلباء اتنے
خوش قسمت ہیں جو نجی اسکولوں میں جا سکتے ہیں اور سائنس کی تعلیم حاصل کر سکتے
ہیں، لیکن وہ مذہبی تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔
سائنسی علوم کے موجودہ
پھیلاؤ کے پیش نظر، تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا
بہت ضروری ہے۔
کئی صدیوں سے، مسلمانوں کی
فکری سرگرمیاں زیادہ تر زبان و ادب، مذہبی علوم اور سماجی علوم کے چند مضامین تک
ہی محدود رہی ہیں، اور ان کی سائنسی علوم کے حصول میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی
ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فزیکل، بائیولوجیکل، میتھمیٹکل اور ٹیکنیکل سائنس کی بڑھتی
ہوئی اہمیت سے وہ بالکل غافل ہیں۔ سائنسی علوم میں اس قدر مسلمانوں کی پسماندگی پر
ان کی توجہ مبذول کرانے اور اس کے خاتمے کی طرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے کے لیے اس
مختصر سے مضمون میں چند نکات پیش کیے گئے ہیں جن سے دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم
کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، نیز دینی مدارس میں سائنسی علوم کو فروغ دینے کے لیے کچھ
ایسے اقدامات بھی پیش کیے گئے ہیں جو مسلمان اٹھا سکتے ہیں۔
پہلے اس کا کچھ پس منظر
سمجھ لیا جائے
اسلامی حکومتوں کے دور
میں، مدرسے کا تعلیمی نظام رائج تھا، جس میں دینی اور عصری دونوں طرح کی تعلیم دی
جاتی تھی۔ تاہم، جیسے ہی 19ویں صدی کا آغاز ہوا، مدرسے کی تعلیم سے خالی اسکولوں
کے قیام کا ایک سلسلہ شروع ہوا، جو بنیادی طور پر ہندوستان میں عیسائی مشنریوں کے
ذریعے چلائے جاتے تھے۔ ان مشن اسکولوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باوجود، مدارس
کی اہمیت و افادیت میں کوئی کمی نہ آئی، خاص طور پر 19ویں صدی کے نصف اول تک،
کیونکہ مدارس کے فارغ التحصیل افراد کو اب تک سرکاری عہدوں کے لیے اہل سمجھا جاتا
تھا۔
تاہم، 1857 میں انگریزوں
نے جب مسلمانوں سے اقتدار چھین لیا اس کے بعد منظر نامے میں یکسر تبدیلی آئی۔
مدرسہ کے فارغ التحصیل افراد کو اہم سرکاری عہدوں کے حصول میں زبردست رکاوٹوں کا
سامنا کرنا پڑا، اور برطانوی حکومت نے روایتی مسلم تعلیمی نظام کی حمایت میں کوئی
خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ آنے والے چیلنجوں کو محسوس کرتے ہوئے، مسلمانوں نے اپنے
بچوں کو مذہبی تعلیم فراہم کرنے کے لیے اپنے تعلیمی مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی خودمختاری کے تحفظ اور حکومت کی ممکنہ مداخلت کو روکنے کے لیے، انہوں نے جان
بوجھ کر برطانوی حکام سے کوئی گرانٹ یا فنڈنگ قبول کرنے سے گریز کیا۔
1865 میں، اتر پردیش کے
مغربی علاقے میں دہلی کے قریب واقع دیوبند میں ایک دارالعلوم کا قیام کر کے ایک
اہم سنگ میل حاصل کیا گیا۔ اس واقعہ نے مسلمانوں کی کوششوں میں اور جان پھوک دیا،
جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں مدارس کا قیام عمل میں آنے لگا۔ ان مدارس
کے پیچھے بنیادی مقصد اسلامی علوم و فنون کی وراثت کو محفوظ رکھنا تھا، اور یہ ایک
ایسا مشن تھا جو برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان کے تناظر میں بڑی چیلنجوں کا سامنا
تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ 20ویں صدی کے اوائل تک، ان مدارس کے فارغ التحصیل افراد
بنیادی طور پر مسلمانوں کے درمیان دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف عمل رہے۔
مدارس کی تشکیل نے نہ صرف مذہبی
اقدار کو برقرار رکھنے کا کام کیا بلکہ یہ ہندوستان کے سماجی و سیاسی منظر نامے
میں ہونے والی تبدیلیوں کا ردعمل بھی ثابت ہوا۔ اس وقت کے حالات نے مسلمانوں کو
اپنے ثقافتی اور تعلیمی ورثے کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کرنے پر مجبور کیا، اور
اس طرح انہوں نے برطانوی سامراجیت کے حملوں کے درمیان ایک الگ شناخت کو فروغ دیا۔
دینی مدارس میں سائنس کی
تعلیم کیوں ضروری ہے؟
عصر حاضر میں، اسلام کے
حوالے سے حالات انتہائی نازک ہیں، ایک محاذ پر اسلام کو مغربی نظریات سے پیدا ہونے
والے چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف اسے بنیاد پرست عناصر کے خطرات کا سامنا
ہے۔ اس پیچیدہ صورت حال میں بہت سے جدید مسائل پیدا ہوتے ہیں اور چند فکر انگیز
سوالات بھی جنم لیتے ہیں جن کا جواب آج کے علماء اور فقہاء کو دینے کی ضرورت ہے۔
اس صورت حال میں ہمارے لیے ایک سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روایات اور
سائنسی علوم دونوں کے ساتھ دین اور مذہب کا تال میل کیسے قائم کیا جائے۔
سائنسی علوم میں کی خامیوں
کو دور کرنا اور دینی مدارس کے نصاب میں سائنسی مضامین کو شامل کرنا وقت کی اشد
ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر، ذیل میں ان دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم کو شامل
کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اس کا مقصد مذہبی اداروں کے
اندر سائنسی علوم کے موجودہ فقدان کو ختم کرنے کی طرف ایک معمولی قدم اٹھانا ہے۔
اس سمت میں پیش قدمی کے
لیے ضروری ہے کہ علمائے کرام اسلامی تعلیمات کو سائنس کے ترقی پسند اصولوں کے ساتھ
ہم آہنگ کریں، اور اس حوالے سے ایک ایسی محتاط تفہیم کو فروغ دیں جس میں موجودہ
معاشرے میں دینی اور سائنسی دونوں علوم کی اہمیت و افادیت کی رعایت کی گئی ہو۔
ایسا کر کے وہ مسلمانوں کو بیرونی شکوک و شبہات اور داخلی انتہاء پسندی دونوں سے
پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
دینی مدارس میں سائنس کی
تعلیم کی اہمیت کو فروغ دینا محض مطابق پذیری کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ حصول علم کے
اسلامی اصول کی عملی تصویر بھی ہے، جیسا کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا ہے۔ سائنسی علوم کو اپنا کر علمائے کرام اسلامی تعلیمات کو ایک جامع نقطہ
نظر کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہوں گے، جس سے مومنین کے ایمان کو تقویت ملے گی اور
دین کے بارے میں روشن خیال نقطہ نظر کو فروغ ملے گا۔
(الف) یہاں کچھ اقدامات بیان کیے جا رہے ہیں جن سے دینی مدارس میں
سائنسی تعلیم کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے:
مکمل علیحدگی: دینی مداس
کے نصاب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ جدیدیت اور عالم مغرب سے مکمل طور پر کٹا ہوا
ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدرسے کے طلباء جدید دنیا کے نقطہ نظر اور اس کی زبان
اور محاورات نہیں سمجھ پاتے۔
ضروری وضاحت: دینی مدارس کے
نصاب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ جدیدیت اور مغربی افکارو نظریات دونوں سے یکسر
منقطع ہے۔ اور اس انقطاع کا نتیجہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء منقطع عصری
حاضر کے افکار و نظریات، اور اس کے زبان و بیان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جس کی وجہ
سے مدارس میں پڑھنے والے طلباء کو دور جدید کے مسائل کو سمجھنے اور ان کا جواب
دینے میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا نظام تعلیم انہیں موجودہ عالمی
منظر نامے کی باریکیوں کو سمجھنے کے لائق نہیں بناتا اور مروجہ سماجی و ثقافتی اور
جغرافیائی و سیاسی معاملات کو سمجھنے کی ان کی صلاحیت کو ختم کرتا ہے۔
اس خلا کو پر کرنے کے لیے
ضروری ہے کہ مدارس کے نصاب میں کچھ ضروری مضامین کا اضافہ کیا جائے۔ عصری مضامین
مثلاً سماجیات، زبان و ادب، جدید تاریخ اور عالمی معاملات کو نصاب میں شامل کرنے
سے دینی مدارس کی تعلیم کا معیار کچھ بلند ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، جدید زبانوں اور
مواصلاتی صلاحیتوں میں طلباء کو ماہر بنانے کے لیے لینگویج کورسوں کو شامل کرنے سے
طلباء عالمی برادری کے ساتھ مؤثر طریقے تعامل کرنے اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو
بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے
لیے ضروری ہے کہ دینی مدارس میں آزادانہ مکالمے اور تنقیدی سوچ کے ماحول کو فروغ
دیا جائے۔ ایسے علمی مباحثوں کی حوصلہ افزائی کرنا جن کا مقصد روایتی علوم و فنون
اور عصری علوم کے درمیان مطابقت کو تلاش کرنا ہو، ایک جامع تعلیمی ماحول کی راہ
ہموار کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینا اور مرکزی دھارے کے
تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل، افکار و نظریات کے تبادلے کو آسان بنانے اور
دینی اور عصری علوم کے درمیان خلا کو پر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
آخر کار، دینی مدارس کے
نصاب میں ایک جامع تبدیلی، جو ترقی پسند اور ثقافتی عناصر سے مزین ہو، طلباء کو
اپنے روایتی علوم و فنون کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کی مسائل سے نمٹنے
کے قابل بنا سکتی ہے۔ اپنے شاندار عملی ورثے اور عصری علوم و فنون دونوں کو حاصل
کر کے، مدارس کے طلباء عالمی برادری میں ایک فعال حصے دار بن سکتے ہیں، ایک زیادہ
ہم آہنگ اور باہم مربوط دنیا کو فروغ دے سکتے ہیں۔
تنوعات کی سطحیں:
ہندوستان کے لوگوں کو جس چیز کا سامنا ہے، مثلا، سماجی تناؤ وغیرہ، وہ اس سے کافی
مختلف ہے جس کا سامنا شام میں یا سرحد کے اس پار پاکستان میں یا شمالی امریکہ والوں
کو ہے اور جس قسم کے سوالات، ہمارے یا ان کے، اسلام کے حوالے سے یا اسلامی نصوص کے
حوالے سے ہیں اور یہاں تک کہ ان کے جوابات بھی کافی مختلف ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم
اس قسم کے ثقافتی تجرباتی پہلوؤں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تاکہ مذہب یا مذہبی
افکار و نظریات میں ترقی لائی جا سکے۔
ضروری وضاحت : دنیا کے
مختلف خطوں میں جتنے قسم تنوعات پائے جاتے ہیں، مثلاً ہندوستان میں پایا جانے والا
سماجی تناؤ، شام اور پاکستان کے لوگوں کے اپنے منفرد تجربات، اور شمالی امریکہ کی
اسلام اور اسلامی نصوص کی الگ تحقیقات و تشریحات، اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ
مذہب اور اس کے عقائد کو سمجھنے کے اعتبار سے لوگوں کے نقطہ ہائے نظر میں بڑے
اختلافات۔ افسوس کی بات ہے کہ ان ثقافتی تجرباتی جہتوں اور مذہبی عقائد کے ارتقاء
پر ان کے گہرے اثرات پر اکثر دھیان نہیں دیا جاتا اور ان کی قدر نہیں کی جاتی۔ مذہبی
معاملات میں ایک جامع تفہیم حاصل کرنے کے لیے، ان پیچیدگیوں کا جائزہ لینا اور ان
تناظرات کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو ثقافتی سیاق و سباق کی بدولت مذہبی منظر نامے
میں نمودار ہوتے ہیں۔ لہٰذا، ان تنوعات کو شامل ایک گہری علمی تحقیق، مذہبی افکار
میں موجود پیچیدگیوں اور باریکیوں کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ ایسا کر کے ہم
روحانیت اور دین و ایمان کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کو تقویت دیتے ہوئے دیگر
ثقافتی اقدار کے متعلق اپنی فہم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
لہذا، مدارس کے طلباء کو
دنیا بھر کے مختلف خطوں میں متنوع سطح کے مذہبی معاملات اور مذہبی عقائد کی
نشوونما پر ثقافتی اور تجرباتی پہلوؤں کے اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ
ہندوستان، شام، پاکستان، اور شمالی امریکہ جیسی مثالوں کو نمایاں کرتا ہے، جہاں
سماجی تناؤ، تاریخی واقعات، اور سماجی و سیاسی سیاق و سباق مذہب کے حوالے سے منفرد
نقطہ نظر کی تشکیل دیتےرتے ہیں۔ عالمی سطح پر روحانیت اور مذہب کی زیادہ جامع اور
وسیع تفہیم کو فروغ دینے کے لیے ان ثقافتی اثرات کو پہچاننے اور ان کا مطالعہ کرنے
کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
اختلاف رائے کی حوصلہ
افزائی: مدرسہ تعلیم اور غیر مدرسہ تعلیم کے درمیان بڑا فرق یہ ہے کہ مدرسہ کا
نظام طلباء کو علمائے کرام سے اختلاف کرنے کی ترغیب نہیں دیتا لیکن اسکول میں
طلباء استاد سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
اختلاف رائے کو فروغ دینا
مدرسہ کی تعلیم اور غیر مدرسہ تعلیم کے درمیان ایک لازمی فرق ہے، جو طلباء میں
تنقیدی سوچ اور علمی مباحث کو فروغ دینے کے ان کے متعلقہ نقطہ نظر میں مضمر ہے۔
مدرسہ کے نظام میں، روایتی طور پر علمائے کرام کے احترام پر زور دیا جاتا ہے، جہاں
اختلاف رائے کی حوصلہ افزائی یا ان کی تعلیمات پر سوال اٹھانے کو اچھا نہیں مانا
جاتا۔ اس کے برعکس، اسکول میں طلباء کو فعال طور پر تعمیری مکالمے میں مشغول ہونے
اور اپنے اساتذہ کے نقطہ نظر کو احترام کے ساتھ چیلنج کرنے کی ترغیب دی جاتیی ہے۔
فکری انحراف کو اپناتے ہوئے، اسکول و کالج ایک ایسا ماحول تیار کرتے ہیں جو آزاد
فکر کو پروان چڑھاتا ہے، شاگردوں کو اپنے اندر مختلف مضامین کی گہری سمجھ پیدا
کرنے اور ان کے فکری افق کو وسیع کرنے کے قابل بناتا ہے۔ عصری تدریسی نقطہ نظر کے
تناظر میں، آزادانہ مکالمے اور احترام کے ساتھ اختلاف رائے کی فضا کو فروغ دینے کی
اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے طلباء اپنے مضامین میں ماہر بناتے اور
تنقیدی تجزیہ کرنے اور عم مباحثوں میں بدھ چڑھ کر حصہ لینے کے قابل ہوتے ہیں۔
سراسر محکومیت: یہودیوں
کی تاریخ مصریوں، بابلیوں، اشوریوں، فارسیوں، یونانیوں اور رومیوں کے ہاتھوں ظلم اور
محکومی سے بھری پڑی ہے لیکن پھر بھی وہ اب تک زندہ ہیں! لیکن کیا مسلمانوں کے ساتھ
ایسا نہیں ہوا؟
محکومیت سے بھری: اپنی
پوری تاریخ میں، یہودیوں نے مصریوں، بابلیوں، اشوریوں، فارسیوں، یونانیوں اور
رومیوں جیسی مختلف سلطنتوں اور تہذیبوں کے ہاتھوں بے شمار جابرانہ آزمائشوں کو
برداشت کیا ہے۔ مسلسل مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود، یہودیوں نے مضبوطی کے ساتھ
ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اب تک اپنے وجود کو برقرار رکھا ہے۔ اس کے مقابلے میں
یہ بات غور طلب ہے کہ مسلمانوں کے معاملے میں جد وجہد اور بقا کی ایسی کوئی تاریخی
داستان بظاہر کیوں نہیں پائی جاتی۔
کیا امت مسلمہ کو اپنے
ماضی میں کبھی آزمائشوں اور فتنوں کا سامنا نہیں ہوا، اور ان کے تاریخی سفر میں کن
عوامل کا کردار رہا ہے؟ اس معاملے کو مزید جاننے کے لیے، دونوں قوموں کو پیش آنے
والے الگ الگ تاریخی سیاق و سباق اور سماجی و سیاسی حالات کا ایک جامع انداز میں
جائزہ لینا ضروری ہے۔ اپنی پوری تاریخ میں یہودیوں اور مسلمانوں کو پیش آنے والے
مخصوص چیلنجوں اور ان سے لڑنے میں ان کی حکمت عملیوں کا جائزہ لے کر، ہم ان قوتوں
کی زیادہ باریک بینی سے سمجھ حاصل کر سکتے ہیں جن سے ان کی بقا اور بقاء کی جد
وجہد کے بیانیے کی تشکیل ہوتی ہے۔
دینی مدارس کی جامعیت پر
وار: اگر دینی مدرسہ کی قرون وسطی کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت
تک مدرسہ کے نصاب میں مذہبی اور سیکولر تعلیم کا کوئی فرق نہیں تھا۔ لہٰذا، ان
مدرسوں سے عظیم سائنسدان، ریاضی دان، فلسفی، ماہرین فن تعمیر وغیرہ پیدا ہوتے تھے۔
لیکن آنے والے زمانوں میں، دینی تعلیم کو سیکولر علوم سے الگ کرنے کا تصور دینی
مدارس کی جامعیت کے لیے مہلک ثابت ہوا۔
دینی مدارس کی جامعیت کا
جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ قرون وسطیٰ کی پوری تاریخ میں ان تعلیمی اداروں میں
بغیر کسی فرق کے مذہبی اور سیکولر دونوں طرح کے علوم شامل نصاب تھے۔ سائنس، ریاضی،
فلسفہ اور فن تعمیر کو سمیٹے ہوئے طرح طرح کے مضامین کے اس امتزاج نے قابل ذکر
ثمرات دیے، جس سے ماہر علماء اور دانشوروں کی ایک جماعت پیدا ہوئی۔ افسوس کی بات
ہے کہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا، مذہبی اور سیکولر تعلیم کی تقسیم بڑھتی گئی،
جس کے نتیجے میں مدرسوں کی جامعیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس پیش رفت نے ایک
جامع اور ہم آہنگ تعلیمی ماحول کو فروغ دینے کی مدارس کی صلاحیت میں رکاوٹ پیدا کر
دی، اور اس طرح اپنے پھلتے پھولتے علمی ورثے بچانے میں ناکام ہو گئے۔ ان مشاہدات
کی روشنی میں، دینی مدارس میں علم کے مختلف شعبوں کو دوبارہ شامل کرنے کے راستے
تلاش کرنا اس کی علمی جامعیت کے تاریخی ورثے کو بحال کرنے کے لیے ناگزیر ہو جاتا
ہے۔
(ب) یہاں کچھ ایسے اقدامات
پیش کیے جا رہے ہیں، جو مسلمان دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے
اٹھا سکتے ہیں:
ایک جامع نقطہ نظر کو
فروغ دیں: اس بات پر زور دیں کہ اسلام سائنس سمیت تمام شعبوں میں علم حاصل کرنے کی
حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسلام کے سنہرے دور میں سائنسی ترقیات کی اسلامی تاریخ پر روشنی
ڈالی جائے، جس میں علماء نے مختلف سائنسی شعبوں میں اہم خدمات پیش کیں۔
نصاب میں اضافہ: سائنس
کے مضامین کو موجودہ نصاب میں ضم کرنے کے لیے اساتذہ اور منتظمین کے ساتھ کام کیا
جائے۔ اور یہ کام اس طرح انجام دیا جا سکتا ہے جو اسلامی اصولوں اور قدروں سے ہم
آہنگ ہو۔
قابل اساتذہ: اس بات کو
یقینی بنایا جائے کہ دینی مدارس کے پاس سائنس کے ایسے اساتذہ ہوں جو نہ صرف اپنے
مضمون میں ماہر ہوں بلکہ وہ جن طلباء کو پڑھا رہے ہیں ان کے مذہبی رجحان کو بھی
سمجھتے ہوں۔
غلط فہمیوں کا ازالہ کیا
جائے: سائنس کی تعلیم کے حوالے سے والدین یا متعلقہ افراد کے اندر پیدا ہونے والی
غلط فہمیوں یا خدشات کا ازالہ کیا جائے۔ یہ واضح کیا جائے کہ سائنس کا علم حاصل
کرنا مذہبی عقائد سے متصادم نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی تخلیق کے عجائبات کو ظاہر
کرکے اس کی تکمیل کرتا ہے۔
سائنس کو اسلامی تعلیمات
سے جوڑیں: یہ واضح کریں کہ سائنسی اصول کس طرح اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں
اور طلباء کو سائنس اور دن کے درمیان ہم آہنگی کو دریافت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
سائنسی تعلیم کو فروغ
دیں: آج کی دنیا میں سائنسی علوم اور تنقیدی سوچ کی اہمیت پر زور دیا جائے۔ اس میں
سائنسی طریقہ کار کو سمجھنا، شواہد کا جائزہ لینا، اور سائنس اور جعلی سائنس کے
درمیان فرق کرنا شامل ہے۔
تحقیق و جستجو کی حوصلہ
افزائی کی جائے: طلباء کو ایسے سائنسی تحقیق و جستجو پر مبنی پروجیکٹوں میں مشغول
ہونے کی ترغیب دی جائے جو ان کی دلچسپی کا باعث بنیں۔ اس سے ان کے تجسس کو بڑھاوا
ملے گا اور سائنسی تصورات کی گہری سمجھ ان کے اندر پیدا ہوگی۔
سائنس کلب اور سرگرمیاں
تشکیل دیں: سائنس کلب یا غیر نصابی سرگرمیاں تشکیل دیں جس سے طلباء تفریحی اور
مکالماتی انداز میں سائنس کا علم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ یہ کلب سائنس میلوں،
ورکشاپوں اور سائنس پر مہمان لیکچروں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
وسائل تک رسائی فراہم
کریں: اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر ممکن ہو تو دینی مدارس کو سائنس کی مناسب
نصابی کتب، تعلیمی مواد اور لیبارٹری کی سہولیات میسر ہوں۔
سیکولر تعلیمی اداروں کے
ساتھ تعاون کیا جائے: سائنس کی تعلیم میں وسائل، علم اور بہترین طریقوں کا اشتراک
کرنے کے لیے مرکزی دھارے کے تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے۔
کمیونٹی کو شامل کیا
جائے: سائنسی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور اس طرح کے اقدامات
کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مسلمانوں کو شامل کیا جائے۔
کامیابیوں کو تسلیم کریں
اور ان کا جشن منائیں: دوسروں کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کے لیے سائنس کے مضامین
میں مہارت حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابیوں کو تسلیم کریں اور ان کا جشن منائیں۔
(اوپر بیان کیے گئے)
اقدامات کو بروئے کار لا کر، مسلمان دینی مدارس میں سائنس کی تعلیم کے فروغ میں
اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، اور ایسے قابل افراد پیدا کر سکتے ہیں جو اپنے مذہبی
ورثے اور جدید سائنس کی ترقی دونوں سے فایدہ اٹھائیں۔ یہ متوازن نقطہ نظر مسلم طلباء
کو اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے دنیا کے مسائل کو سمجھنے کے قابل بنائے گا۔
نتیجہ
دور جدید کے مدارس کو اپنے
نصاب میں سائنس کی تعلیم کو شامل کرنا چاہیے تاکہ طلبہ کو ضروری ہنر اور ذہنی
صلاحیتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ ایسا کرنے سے، نئے فارغ التحصیل علماء اسلام کی
تشریح عصری تناظر میں کر سکیں گے اور مذہبی اصولوں اور تجرباتی شواہد کے درمیان
فرق کو ختم کر سکیں گے۔ دینی مدارس میں سائنسی تعلیم کو شامل کرنے سے غلط فہمیاں
ختم ہو سکتی ہیں، علمی مکالموں کو فروغ مل سکتا ہے، اور مذہبی نظریات اور سائنسی
دریافتوں دونوں سے اچھی طرح واقف علماء کی ایک نسل تیار کر سکتی ہے۔ یہ نقطہ نظر
عصر حاضر میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور
پر اسلامی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مغربی اثرات اور انتہا پسندانہ نظریات کے
درمیان فرق کرنے میں۔ خلاصہ یہ کہ مدارس میں سائنس کی تعلیم کو شامل کرنا مسلم
طلبہ کی فکری اور جامع ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے وہ دنیا کو بہتر طور
پر سمجھنے، تنقیدی سوچ کو فروغ دینے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل
ہوں گے۔
English
Article: Science Education in Deeni Madaris: What Muslims Can
Do Keeping Their Faith with Traditions as well as Science
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism