New Age Islam
Tue May 12 2026, 04:07 PM

Urdu Section ( 12 Jul 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Al Shifa Bint Abdullah: A Trailblazer in Education, Medicine, and Governance الشفاء بنت عبداللہ: تعلیم، طب اور گورننس کی سرخیل

 افروز خان، نیو ایج اسلام

 3 جولائی 2025

 الشفاء بنت عبداللہ، اسلامی تاریخ کی ایک عظیم خاتون، جو پہلی خاتون استاذ، طبیب اور وزیر خزانہ تھیں ۔ خطاطی اور نیچروپیتھی میں تعلیم حاصل کی، اور خاص طور پر حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو لکھنا پڑھنا سکھایا اور طب کی تعلیم دی ۔ انہیں خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہا نے مقرر کیا تھا، اور ان کے ذمہ مدینہ کے بازار کا انتظام و انصرام اور منصفانہ تجارت کو یقینی بنانا تھا، جو کہ اسلام میں وومن امپاورمنٹ کی ایک مثال ہے ۔

 اہم نکات:

 1. الشفاء نے خاص طور پر حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو، جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں، لکھنا پڑھنا سکھایا ۔

 2.    آپ نیچروپیتھی میں ماہر تھیں، اور آپ نے بیماریوں کا علاج کیا، اور "الشفا" (شفا بخش) کا خطاب حاصل کیا ۔

 3. مدینہ کے بازار کی نگرانی کے لیے خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو مقرر کیا تھا ۔

 4.  اپنے والدین سے خطاطی اور رقیہ سیکھا، اور اس علم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔

 5.    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معتمد خاص تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاروباری اور اسلامی امور پر تبادلہ خیال کیا کرتی تھیں، جس سے آپ ذہانت و فطانت کی عکاسی ہوتی ہے ۔

 ------

الشفاء بنت عبداللہ کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسی خاتون کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو بہت سے شعبوں میں ایک سرخیل کارواں کی حیثیت رکھتی تھیں ۔

 پہلی خاتون ٹیچر، پہلی خاتون طبیب، پہلی خاتون وزیر خزانہ ۔ جی ہاں، الشفاء بنت عبداللہ کو مذکورہ بالا شعبوں میں سرخیل کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے ۔

 الشفاء بنت عبداللہ کے والد کا نام عبداللہ بن عبد شمس اور والدہ کا نام فاطمہ بنت وہب تھا ۔ آپ مکہ میں قریش کے ایک اشرافیہ قبیلے کی رکن تھیں ۔ الشفاء کی شادی ایک رئیس ابو حثمہ بن حذیفہ سے ہوئی، ان کے دو بیٹے سلیمان اور مسروق تھے۔

 الشفاء کے والد نے اپنے تمام بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی، اور انہیں پڑھنے کے ساتھ خطاطی بھی سکھائی، اور ان کی والدہ نے انہیں رقیہ (قدرتی ادویات) کا فن بھی سکھایا ۔

 الشفاء بہت ہی ذہین و فطین تھیں، انہوں نے اپنے والدین کی طرف سے دی گئی تعلیم تربیت کو اچھی طرح جذب کیا، اور بہت سے لوگوں کو ان علوم و فنون سے آراستہ کیا ۔

 جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغِ اسلام شروع کی، تو الشفاء اسلام قبول کرنے والے اولین لوگوں میں سے ایک تھے ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کی تو آپ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو گئیں ۔

 بطور استاذ

 اسلام میں تعلیم پر ہمیشہ ہی زور دیا گیا ہے ۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق، "بہترین صدقہ وہ ہے جب ایک مسلمان علم حاصل کرتا ہے، پھر اسے دوسرے مسلمان تک منتقل کرتا ہے ۔"

 (سنن ابن ماجہ)

 مذکورہ بالا بیان الشفاء بنت عبداللہ نے اپنی زندگی میں بامعنی ثابت کیا ۔

 اس زمانے میں جب عرب میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد نہ کے برابر تھی ۔ تعلیم و تعلم کا ذریعہ زبانی ہوا کرتا تھا، اور لکھنا جاننا ایک نادر و نایاب بات تھی، وہ ان چند پڑھے لکھے لوگوں میں سے ایک تھیں، جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا علم دوسروں تک پہنچاتی اور لوگوں کو تعلیم دیتی تھیں ۔ انہوں نے جن لوگوں کو تعلیم دی ان میں حفصہ بنت عمر (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی) بھی تھیں، جو بعد میں ان کی قریبی دوست بن گئیں ۔

بطور طبیب

 الشفاء بنت عبداللہ نیچروپیتھی کی ماہر تھیں ۔ اس وقت میڈیکل سائنس اتنی منظم اور ترقی یافتہ نہیں تھی، پھر بھی الشفاء بنت عبداللہ نیچروپیتھی میں اپنی مہارت کی بنیاد پر، کسی بھی بیماری کا علاج کرنے کے قابل تھیں ۔ علاج اور طبی علم کے تئیں اپنی لگن کی وجہ سے، وہ "الشفا" (شفا یا علاج) کا خطاب حاصل کرنے والی خاتون تھیں ۔

 ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا الشفاء کے ساتھ تھیں، تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور الشفاء سے فرمایا: کیا تم (حفصہ رضی اللہ عنہا) کو چیونٹی کے کاٹے کا علاج نہیں سکھاؤ گے، جیسا کہ تم نے انہیں لکھنا سکھایا ہے؟ (سنن ابوداؤد)

 اس واقعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی طبی مہارت پر اعتماد کرتے تھے، یہ ان کے طبی علم کی صداقت کا ثبوت ہے ۔

 جس طرح انہوں نے حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو لکھنا پڑھنا سکھایا، اسی طرح انہوں نے حفصہ (رضی اللہ عنہا) کو طبی ادویات کا علم بھی دیا، جو بعد میں عراق کے شہر بصرہ میں امورِ حفظانِ صحت کی سربراہ بھی بنیں ۔

 انتظامی ہنر

 مدینہ میں رہتے ہوئے انہوں نے اسلامی قانون اور اسلامی امور کا گہرائی سے مطالعہ شروع کیا ۔ ان کا مکان مدینہ منورہ میں بازار اور مسجد کے درمیان واقع تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے، اور بہت سے معاملات پر ان سے بڑا گہرا تبادلہ خیال فرمایا کرتے تھے ۔ الشفاء بنت عبداللہ کو کاروباری معاملات کا بھی بہت گہرا علم تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان سے کاروباری معاملات میں تبادلہ خیال کیا کرتے تھے ۔

 پہلی خاتون وزیر خزانہ

 جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے، تو آپ الشفاء کی انتظامی صلاحیتوں اور کاروباری معاملات کی سمجھ بوجھ سے متاثر ہوئے، اور انہیں مدینہ میں معیشت کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپ دی ۔ اس طرح الشفا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے سرکاری تقرری حاصل کرنے والی، پہلی خاتون اہلکار بن گئیں ۔

 الشفا کو مدینہ کے بازار کی افسر اور کنٹرولر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، تاکہ وہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ بازار میں تجارت منصفانہ انداز میں اور اصول و قوانین کے مطابق ہو رہی ہے ۔

 الشفاء کا کام اس بات کو یقینی بناتا تھا، کہ بازار کے اندر تجارت میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی نہ ہو، اور نہ ہی کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک یا دھوکہ دہی کا معاملہ ہو ۔

الشفاء درحقیقت خواتین کی بااختیاری اور خود اعتمادی کی سب سے بہترین مثال ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے کردار شاندار طریقے سے ادا کر کے، دنیا کو یہ بتا دیا کہ خواتین کی مہارت اور علم کی اہمیت کسی طور بھی کم نہیں ۔ اسلام میں ہر شعبے میں خواتین کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، اور انہیں بہتر مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں ۔ اسلام میں خواتین پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی ہے ۔ اسلام ترقی پسند نظریات کا حامل مذہب ہے، جو خواتین کو مساوی مواقع فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔

 -----

English Article:  Al Shifa Bint Abdullah: A Trailblazer in Education, Medicine, and Governance

URL: https://newageislam.com/urdu-section/shifa-abdullah-education-medicine-governance/d/136158

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..