کنیز فاطمہ، نیو إیج إسلام
30 جون 2026
علماء کی معاشی خود کفالت: وقت کی ایک اہم ضرورت
حال ہی میں ایک عالمِ دین کی خودکشی کی خبر نے پوری ملت کو غم زدہ کر دیا۔ ان کے آخری الفاظ دل کو جھنجھوڑ دینے والے تھے۔ اسلام میں خودکشی بلا شبہ ایک سنگین اور حرام عمل ہے، جس کی قرآن و حدیث میں سخت ممانعت آئی ہے، لیکن اس افسوسناک واقعے نے ایک ایسے سوال کو بھی ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنا ناگزیر ہے: کیا ہمارے علماء کی معاشی زندگی کا واحد راستہ مسجد کی امامت، مدرسے کی تدریس اور عوام کے عطیات پر انحصار ہی رہ گیا ہے؟
یہ سوال کسی فرد یا ادارے پر تنقید کے لیے نہیں، بلکہ پوری ملت کی اجتماعی اصلاح کے لیے ہے۔
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور اکابر صحابہ و تابعین نے محنت اور کسبِ حلال کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے، رسولِ اکرم ﷺ نے تجارت فرمائی، اور بے شمار صحابہ کرام تجارت، زراعت اور مختلف پیشوں سے وابستہ تھے۔ انہوں نے کبھی دین کی خدمت کو معاشی بے بسی کا مترادف نہیں بنایا۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رفتہ رفتہ یہ تصور مضبوط ہو گیا کہ عالمِ دین کی زندگی صرف مسجد، مدرسہ اور چندے تک محدود ہونی چاہیے۔ نتیجتاً ہزاروں علماء اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود محدود تنخواہوں، غیر یقینی مستقبل اور مسلسل معاشی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ملک بھر میں مدارس کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ دینی تعلیم کے فروغ کے اعتبار سے خوش آئند بات ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ فارغین کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی، جبکہ ان کے لیے باوقار اور پائیدار معاشی مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے علماء معمولی مشاہروں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
دوسری طرف کچھ افراد اپنی خطابت، خوش الحانی، تصنیف یا انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے نمایاں مقام حاصل کر لیتے ہیں، لیکن ایک بہت بڑی تعداد ایسے مخلص علماء کی ہے جو نہ خوشامد جانتے ہیں، نہ تعلقات کی سیاست، نہ اپنی عزتِ نفس کا سودا کرنا۔ یہی خاموش خدمت گزار اکثر شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عالمِ دین کے لیے جائز تجارت، صنعت، ملازمت یا کوئی ہنر اختیار کرنا معیوب ہے؟
ہرگز نہیں۔
اسلام نے کبھی بھی رزقِ حلال کے کسی جائز ذریعے کو حقیر قرار نہیں دیا۔ تجارت سنت ہے، محنت عبادت ہے، اور حلال روزی کمانا خود ایک عظیم دینی فریضہ ہے۔ اگر ایک عالم دیانت دار تاجر بن جائے، صنعت کار بن جائے، کسان بن جائے، سرکاری ملازم بن جائے، وکیل، انجینئر، ڈاکٹر یا کسی کمپنی میں پیشہ ورانہ خدمات انجام دے، تو اس کی دینی حیثیت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ بلکہ وہ اپنے کردار، دیانت اور اخلاق کے ذریعے دین کی دعوت کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج ہماری منڈیوں، کمپنیوں، صنعتوں، عدالتوں اور سرکاری اداروں کو جس قدر دیانت دار اور خدا ترس افراد کی ضرورت ہے، شاید اتنی صرف مساجد و مدارس کو نہیں۔ ایک باکردار مسلمان جہاں بھی ہوگا، وہ اپنے عمل سے اسلام کی نمائندگی کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ دینی اداروں کی بھی ایک بڑی ذمہ داری بنتی ہے۔ مدارس کے نصاب میں دینی علوم کے ساتھ پیشہ ورانہ مہارتیں، کاروباری تربیت، کمپیوٹر، زبانیں، مالی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور دیگر عملی اسکلز کو بھی مناسب جگہ دی جائے، تاکہ فارغین صرف ملازمت کے متلاشی نہ رہیں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکیں۔
علماء کو بھی اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی جگہ امامت یا تدریس کے حالات عزتِ نفس کے مطابق نہ ہوں تو کسی دوسرے جائز ذریعے سے معاش حاصل کرنے میں ہرگز تردد نہیں ہونا چاہیے۔ چھوٹی سی دکان، آن لائن کاروبار، کاشتکاری، دستکاری یا کوئی اور حلال پیشہ اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جس میں انسان مسلسل دوسروں کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور ہو جائے۔
البتہ اس موقع پر ایک حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ غربت، تنگ دستی اور معاشی مشکلات یقیناً بڑی آزمائش ہیں، لیکن خودکشی ان کا حل نہیں۔ قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے:
«اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ ۚ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًاۢ بَصِیرًا
"بیشک تمہارا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک وہ اپنے بندوں کو خوب جاننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔" (سورۃ الإسراء: 30)»
ایک مسلمان کو چاہیے کہ سخت ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، صبر، دعا، مشورہ اور جائز اسباب اختیار کرے، کیونکہ آزمائش کے بعد آسانی بھی اللہ ہی عطا فرماتا ہے۔
ہمیں اس افسوسناک واقعے سے سبق لینا چاہیے، نہ کہ صرف افسوس کا اظہار کرنا چاہیے۔ اگر ہم علماء کو معاشی خود کفالت کی طرف راغب کریں، مدارس میں جدید مہارتوں کو فروغ دیں، اور علماء کی عزتِ نفس کے مطابق زندگی کے مواقع پیدا کریں، تو یقیناً مستقبل میں ایسے دردناک سانحات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزش سے درگزر فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور پوری امت کو ایسے المناک حالات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
-------------
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism