New Age Islam
Sun Apr 12 2026, 01:56 PM

Urdu Section ( 26 March 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Significance of Islamic Sociology اسلامی عمرانیات کی عصری معنویت

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی، نیو ایج اسلام

26 مارچ 2026

عمرانیات اور فقہ اسلامی میں تطابق و ارتباط کی کئی وجوہات ہیں ۔ ان میں ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ فقہ اسلامی میں جن امور و مسائل سے بحث کی جاتی ہے ان کا تعلق معاشرتی اداروں اور سماجی فلاح و بہبود سے وابستہ ہے۔  اور عمرانیات کے جو اصول و قوانین ہیں ان میں سماجی مسائل و مباحث کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔  اس لیے یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فقہِ اسلامی اور فقہِ عمرانیات دونوں ایسے علمی میدان ہیں جو انسانی زندگی کے اجتماعی، اخلاقی اور عملی پہلوؤں کو سمجھنے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ دونوں کا منبع، طریقِ کار اور دائرہ کار مختلف ہے، لیکن ان کا مقصد ایک مہذب، متوازن اور عادلانہ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ فقہ عمرانیات کو سمجھنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قفہ اسلام اور عمرانیات کا مفہوم پیش کردیا جائے۔ چنانچہ ماہرین نے لکھا ہے کہ فقہِ اسلامی سے مراد وہ علم ہے جس کے ذریعے قرآن و سنت کی روشنی میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں—عبادات، معاملات، معاشرت، معیشت اور سیاست—کے اصول و احکام اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گزار سکیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جہاں عدل، انصاف، مساوات اور اخلاقی اقدار کا غلبہ ہو۔

فقہِ اسلامی کی بنیاد درج ذیل مصادر پر رکھی گئی ہے ۔

قرآنِ مجید ،سنتِ نبوی ،اجماع اور قیاس۔

فقہِ عمرانیات ایک جدید اصطلاح ہے جو "عمرانیات" (Sociology) اور "فقہ" کے امتزاج سے وجود میں آئی ہے۔ اس سے مراد وہ فہم اور تجزیہ ہے جس کے ذریعے انسانی معاشرے، اس کے مسائل، رویّوں، اداروں اور تبدیلیوں کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔ یہ میدان میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ:

معاشرتی ڈھانچے کیسے بنتے اور بدلتے ہیں، سماجی انصاف کیسے قائم کیا جا سکتا ہے،  مختلف طبقات کے درمیان توازن کیسے پیدا ہو۔  جدید سماجی مسائل کے حل میں اسلامی عمرانیات  کا رول کیا ہوسکتا ہے ۔

آج کے دور میں جہاں معاشرے تیزی سے بدل رہے ہیں، وہاں صرف روایتی فقہی مباحث کافی نہیں، بلکہ ان کا سماجی تناظر میں اطلاق بھی ضروری ہے۔ فقہِ اسلامی اور فقہِ عمرانیات کا باہمی تعلق ایک مکمل اور متوازن نظامِ حیات کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔ ایک طرف یہ الہامی ہدایات کو محفوظ رکھتا ہے، اور دوسری طرف بدلتے ہوئے معاشرتی حالات کے مطابق ان کی عملی تطبیق کو ممکن بناتا ہے۔ اس طرح ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو نہ صرف دینی اصولوں پر قائم ہو بلکہ سماجی طور پر بھی مستحکم، منصفانہ اور ترقی یافتہ ہو۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عمرانیات یا فقہ عمرانیات کا تعارف پیش کردیا جائے ۔

لفظ عمرانیات کو انگریزی میں Sociology کہا جاتا ہے ۔ اس کے دو معنی عموماً ماہر سماجیات بیان کرتے ہیں ۔  ایک معنی  درج ذیل ہے:

" The Study and Classification of Human Societies" اور  اس کا دوسرا معنی یہ بیان کیا ہے:

The Convention that can embody the fundamental values of a group

اسی طرح اُردو زبان میں تمدن اور معاشرے سے وابستہ علوم کو بھی عمرانیات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ محمد بن ابراہیم بن عبد اللہ نے اپنی کتاب موسوعہ فقہ القلوب میں اس کا مفہوم درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:

"عمرانیت کیا ہے یہ تو گھاس پودوں کے کھیتوں کی طرح لوگوں کے بھی کھیت ہیں .یہ گھاس کے کھیت پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں اور وہ (انسانی کھیت ) وحی الٰہی سے سیرب کیے جاتے ہیں ۔ کوئی پودا ان میں سے پاکیزہ عمدہ ہے اور کوئی پودا خراب ہے۔ اس کا  کوئی  پودا بڑھتا اور پھل لاتا ہے اور کوئی پودا خشک ہو جاتا ہے۔ جو پودا پانی کی تاثیر قبول کرتا ہے وہ ترو تازہ رہتا ہے ، اور جو تاثیر لینا چھوڑ دیتا ہے وہ خشک ہو جاتا ہے۔ "

اسی طرح  ویکیپیڈیا میں اسلامی عمرانیات کا ایک دوسرا مفہوم ماہرین عمرانیات نے یہ بیان کیا ہے:

" عمرانیات وہ علم ہیں جس میں انسان کے اجتماعی احوال اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی معاملات کا معاشرتی پہلو کے اعتبار سے مطالعہ کیا جاتا ہے"

اس مفہوم کو ڈاکٹر سید ضمیر علی نے اپنی کتاب" قرآنی عمرانیات " میں لکھتے ہیں:

"اسلامی عمرانیت کی اہمیت کا سب سے بڑا راز طبقاتی، شعبہ جاتی تقسیم میں نہیں،  یہ عالمگیر عمرانیات ہے، اس کی مخاطب نوع انسانی ہے،  وہ تمام لوگ اسلامی عمرانیات سے پورا پورا استفادہ کر سکتے ہیں جو اس کی کما حقہ رہبری حاصل کر سکیں ،یہ شعبوں اور قوموں کی تفریق سے خالی ہے۔  اسلامی عمرانیات کا عالمگیر داعیہ  وحدت انسانی ہے۔ چنانچہ سورہ بقرہ میں کہا گیا ہے کہ ساری نوع انسانی ایک ملت واحدہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو خاندانوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے ، اس کا مدعا صرف یہ ہے کہ ہر خاندان اور ہر قبیلہ اپنے آپ کو پہچان سکے۔ اسلامی عمرانیات کی اساس یہی ہیں، انہی اصولوں کی بنیاد پر وہ ایک عالمگیر معاشرہ اور عالمگیر ثقافت کو وجود میں لانے کے لیے نوع انسانی کو دعوت دیتی ہے"

متذکرہ بالا تمام شواہد و حقائق کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی عمرانیات و سماجیات ایک ایسا موضوع ہے جس میں معاشرتی مسائل کا باہم مل جل کر حل پیش کیا جاتاہے۔ انسانی وحدت کو فروغ دینا ، طبقاتی تفریق سے نوع انسانی کو محفوظ رکھنا وغیرہ وغیرہ ۔ اسلامی عمرانیات کا ایک بنیادی تقاضا یہ بھی ہے کہ ایک ایسے معاشرے کا وجود عمل میں آئے جس میں باہمی تعاون ، سماجی ہم آہنگی اور رواداری کا زیادہ سے زیادہ فروغ ہو ۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلم علماء نے فقہ عمرانیات پر کام اس طرح نہیں کیا جس طرح سے کرنا چاہیے ۔ اسی وجہ سے  یہ موضوع مدارس میں زیادہ معروف نہیں ہے ۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فقہ عمرانیات پر زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے اور اس کے عصری پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تاکہ  علماء ، ارباب دانش کے مابین علمی و فکری ہم آہنگی پیدا ہوسکے ۔  اسی کے ساتھ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اسلامی عمرانیات پر ہر زمانہ میں بڑا علمی و تحقیقی کام کیا ہے۔ جس کی معنویت آج بھی مسلم ہے ۔ آج  کے بدلتے حالات اور تیز رفتار ترقی کے اس دور میں جہاں معاشرے کو جدید مسائل و معاملات سے  واسطہ ہے  ۔ ارباب علم و تحقیق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی عمرانیات میں زیر بحث آنے والےان  مسائل پر سنجیدہ گفتگو کریں جن کی ضرورت ہے،  تاکہ علماء کا جدید طبقہ ان  جدید معاشرتی مسائل سے واقفیت پیدا کر سکے اور اسلام کی درست تعبیر و تشریح کرسکیں ۔

--

مضمون نگار اسلامک اسکالر ، مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

-------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/significance-islamic-sociology/d/139404

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..