New Age Islam
Tue Mar 03 2026, 08:35 AM

Urdu Section ( 13 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Social System of Iran in the Sixth Century CE-Part-1 چھٹی صدی عیسوی میں ایران کا سماجی نظام

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

(قسط اول)

13 فروری،2026

کوئی بھی سماج اپنے وجود ، رہن سہن کے آداب ، معاشی بندو بست ، رسوم و رواج ، خاندان اور شادی بیاہ کے اصولوں و طریقوں سے جانا جاتا ہے ۔ ہر سماج اور معاشرے کی اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان و بیان کے ساتھ ساتھ دین و دھرم بھی تنوع ہوتا ہے ۔ سماج کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ تمام طرح کے افکار و نظریات اور خیالات کو معاشرے میں پنپنے دیا جائے ۔ تحمل و بردباری کے ساتھ مل کر رہا جائے ۔ فارس یا ایران بھی اپنی تاریخ و تہذیب رکھتا ہے محمد انسائیکلوپیڈیا کا مصنف فارس کی معاشرتی حیثیت کے متعلق رقم طراز ہے:

" فارس کی ثقافت کا شمار بھی دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے۔ فارس کا معاشرہ مذہبی پیشواؤں کے گرد گھومتاتھا ۔ یہ معاشرہ مختلف طبقات میں منقسم تھا اور ان طبقات کے درمیان واضح فرق تھا۔ فارسی معاشرے میں اول درجہ بادشاہ کا ہوا کرتا اور اس کے ماتحت فارسی قابل قدر خاندانوں کے نمائندے ہوا کرتے تھے۔ قدیم فارس میں شاہی خاندانوں کے افراد عیش و عشرت کی زندگی میں مستغرق رہتے تھے ۔معاشرتی معاملات میں انہیں زیادہ دلچسپی نہیں ہوا کرتی تھی۔ان میں نچلے طبقوں ، خاص طور پر غلاموں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ اور ہتک آمیزسلوک روا رکھا جاتا تھا، اس کے علاوہ عورتوں کو فقط اولاد کے حصول اور جنسی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ الغرض طبقاتی تقسیم ، امراء کی شاہانہ زندگی ، عوام کی خستہ حالی، نکاحِ محرمات جیسی رسومات کی بنیاد پر فارس منفرد حیثیت کا حامل رہا ہے۔ اس میں بھی تقریباً وہی امراض پائے جاتے تھے جنہوں نے رومی معاشرت کے جسد اجتماعیت کو کھالیا تھا کیونکہ سکندر اعظم کے فارس پر حملے کے بعد طبقاتی تقسیم عروج پر ہوچکی تھی اور اجتماعی احساس مجروح ہوچکا تھا "

(https://muhammadencyclopedia.com)

اس کے علاوہ تنظیم الاسلام المجتمع ، المجتمع الفارسی کے مصنف ابو زھرہ نے ایران کی سماجی حیثیت پر درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:

"دراصل سکندر مقدونی کے حملے کے بعد کم از کم اثر یہ ہوا کہ فارسی معاشرے کی اجتماعیت ختم ہوگئی کیونکہ اس نے سلطنت فارس کے مختلف حصوں پر اشراف کو مسلط کردیا تھا اور یہ سیاسی تفرقہ معاشرتی انتشار کا باعث بنا۔ گو بعد میں سیاسی وحدت کی کوئی صورت بن گئی تھی لیکن معاشرتی انتشار بدستور قائم تھا۔ معاشرتی استحکام زوال پذیر ہونے کے باعث فارسی معاشرہ عجیب تضادات کا شکار ہوگیا تھا"

(محمد ابوزھرۃ،تنظیم الاسلام للمجتمع،المجتمع الفارسی،مطبوعۃ:دارالفکرالعربی،القاھرۃ، مصر،ص :9)

ایران کی معاشرتی حیثیت اور ایرانی  معاشرہ جن اخلاقی اور سماجی برائیوں میں لت پت تھا ان کا نقشہ مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب " انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" میں اس طرح پیش کیا ہے:

"متمدن دنیا کی تولیت و انتظام میں ایران روم کا شریک تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ دشمن انسانیت افراد کی سرگرمیوں کا پرانا مرکز تھا، وہاں کی اخلاقی بنیادیں زمانہ دراز سے متزلزل چلی آرہی تھیں ۔جن رشتوں سے ازدواجی تعلقات دنیا کے متمدن و معتدل علاقوں کے باشندے ہمیشہ ناجائز اور غیر قانونی سمجھتے رہے ہیں اور فطری طور پر اس سے نفرت کرتے ہیں، ایرانیوں کو ان کی حرمتوں کراہت تسلیم نہیں تھی، یزدگرد دوم جس نے پانچویں صدی کے وسط میں حکومت کی ہے اس نے اپنی لڑکی کو زوجیت میں رکھا پھر قتل کر دیا ۔ بہرام  جو چھٹی صدی عیسوی میں حکمراں تھا اس نے اپنی بہن سے اپنا ازدواجی تعلق رکھا" ( ندوی ، سید ابوالحسن علی ، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ، 2001 صفحہ 40-41)

پروفیسر آرتھر کرسٹن نے اپنی ایک مستند فرانسیسی تصنیف جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد اقبال نے ایران بعہد ساسانیان کے نام سے کیا ہے ، میں لکھا ہے:

" اس قسم کا رشتہ ایران میں کوئی ناجائز فعل تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک عبادت اور کار ثواب سمجھا جاتا تھا۔ مشہور چینی سیاح ( ہوئن سیانگ) کا بیان ہے کہ ایرانی قانون و معاشرت میں ازدواجی تعلقات کے لیے کسی رشتے کا بھی استثناء نہ تھا" ( دیکھیے تفصیل: آرتھر کرسٹن سین (پروفیسر) ایران بعہد ساسانیان ، مترجم ڈاکٹر محمد اقبال، انجمن ترقی اُردو ، دہلی ، 1941، صفحہ: 429-430)

—-

مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

--------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/social-system-iran-sixth-century-ce-part-1/d/138835

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..