New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:32 PM

Urdu Section ( 24 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔7)

18دسمبر،2025

’تمہید ات‘ سے فقہی بصیرت پیدا ہوتی تھی اور ’عوارف‘ سے نظام خانقاہی کو سنبھالنے کی صلاحیت۔انہوں نے پنجاب کے ایک گاؤں اجودہن میں بیٹھ کر چشتیہ سلسلہ کی نشرو اشاعت میں اپنی زندگی گزاردی۔ ضیاء الدین برنی نے لکھاہے کہ انہوں نے ”ابالی ایں دیار رازیر بال گرفتہ“۔اس جملہ میں بڑی بلاغت ہے۔ جب خطرات نظر آتے ہیں تو پرندے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اسی طرح بابا صاحب نے اس ملک کے باشندوں کو اپنے بال وپڑ کے نیچے لے لیا تھا۔ باشاہ،وزیر، امیر، غریب، جاہل اور عالم سب ان کے آستانہ پرحاضر ہوتے اور طمانینت، خدا پرستی اور روحانی اقدار کے احترام کا جذبہ لے کر اٹھتے۔ان کے مریدین اور خلفاء مختلف مقامات پر پہنچے اور شمالی ہندوستان کے مختلف مقامات پرچشتیہ سلسلہ کی شمعیں روشن کیں۔ لیکن ان  کے آخری زمانہ میں جب ان کا آفتاب ارشادلبِ بام آچکا تھا، شیخ نظام الدین اولیاؒ ان کی خدمت میں پہنچے۔بوڑھے شیخ کی دور بیں نگاہوں نے ان میں وہ صلاحیتں دیکھیں جو سلسلہ کے فروغ میں ممدومعاون ہوسکتی تھیں اور ان کو اپنا جانشین مقرر کردیا۔ حضرت محبوب الہٰیؒ کا سب سے اہم فرض یہ تھاکہ اپنے پیر کے مریدین او رمعتقدین کو ایک جگہ رکھیں۔ چنانچہ امیر خسروؒ نے ان کے متعلق صحیح لکھا ہے کہ۔

شد سلکِ فرید از تو منظوم

زانست کہ شد لقب نظامت

حضرت محبوب الہٰیؒ نے بقول صاحب ’گلزار ِ ابرار‘ 700 احتسابی باکمال خلیفہ مختلف حصوں میں دعوت واصلاح کے کام کے لیے بھیجے تھے۔اس طرح انہوں نے چشتیہ سلسلہ کو ایک کل ہند نظام کی شکل دے دی۔ ان کے ملفوظات ’فوائد الفؤاد‘ کو دستوار العمل صادقان کی حیثیت حاصل ہوگئی، اورنہ صرف اس میں بھی چشتیہ سلسلہ کے بنیادیں اصول نئے او رموثرانداز میں محفوظ ہوگئے، بلکہ فروغ سلسلہ میں بے حد مدد ملی۔ میرے پاس ایک ہندو راجہ کا قلمی نسخہ ہے جس میں اس کے اس اعتقاد کاذکرکیا گیاہے جو اس کو لکھ لے اس کی مراد کتابیں ختم ہونے سے پہلے پوری ہوجاتی ہے۔ سرسید نے اپنے زمانہ کا یہ واقعہ لکھا ہے کہ بچیاں گھروں میں ’فوائد الفؤاد‘ پڑھتی تھیں۔دکن میں حضرت محبوب الہٰیؒ کے مریدین علاء الدین خلجی کی فوجوں سے پہلے داخل ہوئے۔ ابھی سیاسی فتوحات کادور شروع نہیں ہوا تھاکہ حضرت نظام الدین اولیاؒ نے دکن میں چشتیہ سلسلہ کی تعلیم کے لیے زبردست امکانات کو محسوس کرلیا تھا۔غالباً یہی وجہ تھی کہ امیر خسروؒ نے ایک مثنوی ’صحیفۃ الأ وصاف‘ لکھ کر جونا خاں کو پیش کی اور دیوگیری کی فضا کاذکر کیا۔جب محمد بن تغلق نے دولت آباد کوجنوبی ہند میں اپنا دوسرا سیاسی اور انتظامی مرکز بنایا تو یہاں چشتیہ سلسلہ کی داغ بیل خود بخود مضبوط ہوگئی۔ گودہلی میں جہاں دوہزار خانقاہیں مختلف سلاسل کی تھیں خاموشی چھا گئی، لیکن دکن میں نئی زندگی کے آثار پیداہوگئے۔

چودہویں صدی میں ہندوستان کی سیاسی اور ثقافتی زندگی کا مرکزِ ثقل شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہوگیا۔ دہلی میں حضرت محبوب الہٰیؒ کے خلیفہ حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ نے محمد بن تغلق کے غصہ اور سزاؤں کو برداشت کیا، لیکن جس زمین پر شیخؒ نے بٹھادیا وہاں سے اٹھنے کانام نہیں لیا۔ اقبال کا یہ شعر لفظاً ومعناً پرصادق آتاہے۔

ہوا ہے گوتند وتیز لیکن چراغ اپنا جلارہا ہے

وہ مرد درویش جس کو حق نے دیئے ہیں اندازِ خسروانہ

حضرت شیخ برہان الدین غریبؓ کے مریدین نے ’أحسن الاقوال‘، ’نفائس الأنفاس‘ وغیرہ ملفوظ لکھ کر سلسلہ کی روایات کو پھیلا یا۔’أحسن الأقوال‘ میں جس طرح روش او ریروہاں کے عنوان سے سلسلہ کی روایات اور مشایخ کی رسوم وعادات کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ بڑی دلکش ہے۔ جماالدین نے حضرت محبو ب الہٰیؒ کے ایک خلیفہ کے بیٹے تھے، حضرت محبوب الہٰیؒ کے بعض حالات زندگی اور ان کے ملفوظات کو  ’قوام العقائد‘ میں سلطان علاء الدین بہمنی کے دور میں جمع کیا۔ دکن میں چشتیہ سلسلہ کی تعلیم کو ایک فکری نظام کی شکل دینا اور ان تمام کوششوں کو ایک جگہ سمیٹنا جو حضرت محبوب الہٰیؒ کے خلفاء نے انجام دی تھیں، حضرت گیسودراز بندہ نوازؒ کا کام تھا۔ جب محمد بن تغلق نے حضرت چراغ دہلویؒ کو سندھ طلب کیا تو حضرت چراغ دہلویؒ نے اپنے سجادہ پرحضرت گیسودرازؒ کو بٹھایا اور ان کو ہدایات دے کر سندھ گئے۔ ان کی ذات میں علم، عشق اور عقل کا وہ عظیم الشان اجتماع تھاجس پر بابا صاحبؒ او رمحبوب الہٰیؒ نے خلافت کے استحقاق کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے جنوبی ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ کو منظم کیا، اور جو کام شیخ نظام الدین اولیاؒ نے شمالی ہندوستان میں وسیع پیمانے پر انجام دیا تھا، جنوبی ہندوستان میں انہوں نے انجام دیا۔انہوں نے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک جگہ کیا۔ ان کے ذریعہ حضرت چراغ دہلویؒ کے کام کی جنوبی ہندوستان میں تکمیل ہوئی۔ انہوں نے چشتیہ سلسلہ تعلیم کو عوام تک پہنچایا، مشایخ سلف کے افکار کی تشریح کی، کتابوں کی شرحیں لکھیں، تصوف کا تعلق تفسیر، فقہ، کلام سے مستحکم کیا، مقامی زبانوں میں سلسلہ کی تعلیم کی نشرواشاعت کی ابتدا کی اور ساتھ ہی ساتھ چشتیہ سلسلہ کانظام اصلاح تربیت انتہائی مؤثر انداز میں پھیلایا۔ وہ’سلطان القلم‘ بھی تھے اور ’سلطان الارشاد‘ بھی۔ ان کی گرمیئ نواسے دکن میں روحانی زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی۔ اس کے اثرات سے دکن میں چشتیہ سلسلہ کی تاریخ ان کے گرد گھومتی ہے اور گوشہ گوشہ سے یہ صدائیں آتی سنائی دیتی ہیں۔

تری نواسے ہے بے پردہ زندگی کاضمیر

تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی!

خواجہ غریب نوازؒ

مولانا آزاد نے تذکرہ میں ایک جگہ لکھا ہے:

”نظام شمسی کی طرح نظام انسانی کے بھی مرکز ومحور ہیں، مگر تم کو ان کا حال نہیں معلوم! تم کو اجرام سماویہ کامرکز معلوم کرنے میں جب ہزاروں برس لگ گئے تو نہیں معلوم عالم انسانیت کے نظام ومراکز کے کشف کیلئے کتنا زمانہ درکار ہوگا۔ یہ معلوم رہے کہ ہر عہد اور ہر در میں خدا کے چند بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کاوجود ستاروں کے مرکز شمسی کی طرح تمام انسانوں کا مرکز محبت او رکعبہئ انجذاب ہوتاہے۔ او رجس طرح نظام شمسی کا متحرک ستارہ صرف اسی لیے ہے کہ کعبہئ شمسی کا طواف کرے، اسی طرح انسانوں کے گروہ اور کعبہ ہدایت کاطواف کریں“۔(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-7/d/138135

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..