New Age Islam
Thu Jun 11 2026, 03:45 AM

Urdu Section ( 2 Aug 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sumaiyya Bint Khayyat: The First Female Martyr of Islam سمیہ بنت خیاط: اسلام کی پہلی خاتون شہیدہ

 افروز خان، نیو ایج اسلام

 25 جولائی 2025

 سمیہ بنت خیاط، جو پہلے ایک غلام تھیں، سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ ابوجہل نے آپ پر وحشیانہ تشدد کیا اور آپ نے اس منہ پر تھوکا، اس کے باوجود آپ ثابت قدم رہیں ۔ آپ کو چھرا گھونپ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اس طرح آپ اسلام کی پہلی شہیدہ بن گئی، جو غیر متزلزل ایمان اور جرات و بہادری کی مثال ہے ۔

 اہم نکات:

 1. سمیہ بنت خیاط، پیدائش 550 عیسوی، پہلے ایک غلام تھیں، اولین اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا نام آتا ہے ۔

 2. انہیں، ان کے شوہر یاسر اور ان کے بیٹے عمار کو ان کے مذہب کی وجہ سے وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا ۔

 3. ابو جہل نے اسلام چھوڑنے کے لیے ان پر تشدد کیا لیکن وہ ثابت قدم رہے ۔

 4. سمیہ کو ابوجہل کے نیزے سے مار کر شہید کیا گیا، اور اس طرح آپ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں ۔

 5.  ان کی ہمت اور ان کا ایمان ظلم کے خلاف ثابت قدمی کا حوصلہ دیتا ہے۔

 ----

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی، تو جن چند لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں سے ایک سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا کا نام آتا ہے، جنہیں اسلام کی پہلی شہیدہ ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔

سمیہ بنت خیاط 550 عیسوی میں ابینیشیا (موجودہ ایتھوپیا) میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ایک سیاہ فام خاتون تھیں ۔ اس وقت اسلام کا ظہور نہیں ہوا تھا اور غلامی رائج تھی ۔ سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا بھی غلامی کا شکار تھیں ۔ آپ ابو حذیفہ کی لونڈی تھیں جو مکہ میں رہتے تھے ۔

 ابو حذیفہ نے سمیہ کی شادی یاسر سے کی ۔ یاسر یمن کے رہنے والے تھے اور اپنے بھائی کی تلاش میں مکہ آئے تھے اور وہیں سکونت اختیار کر لی ۔

 سمیہ اور یاسر کا ایک بیٹا عمار بن یاسر بھی تھا ۔ ان کے بیٹے کی پیدائش کے بعد ابو حذیفہ نے انہیں آزاد کر دیا، کیونکہ اس وقت مکہ میں قبائلی روایت رائج تھی اور سمیہ اور ان کے شوہر یاسر کا تعلق کسی قبیلے سے نہیں تھا ۔ اس لیے وہ انتہائی غیر محفوظ تھے ۔ چنانچہ آزادی کے بعد بھی وہ ابو حذیفہ کے قبیلہ بنو ہاشم کے لوگوں کی خدمت کرنے لگے ۔

 جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ شروع کی، تو سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر یاسر اسلام قبول کرنے والے پہلے سات افراد میں شامل تھے ۔

 سمیہ بنت خیاط نے زندگی بھر غلامی اور امتیازی سلوک کا سامنا کیا، لیکن اسلام نے انہیں آزادی اور برابری کا درجہ دیا، جس کے لیے وہ زندگی بھر کوشاں رہیں ۔ اسلام نے انہیں یہ موقع دیا ۔

 مکہ کا ایک اور قبیلہ بنو مخزوم ایک انتہائی طاقتور اور مسلم مخالف قبیلہ تھا، اور اسلام قبول کرنے والوں کو ہراساں اور ذلیل کیا کرتا تھا ۔

 ایک ایسے وقت میں کہ جب مذہب تبدیل کرنا انتہائی خطرناک کام تھا، سمیہ بنت خیاط (رضی اللہ عنہا) اور ان کے خاندان نے، نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اس کا کھلے عام اعلان بھی کیا، جس سے ابوجہل مشتعل ہوگیا ۔

 ابو جہل قبیلہ بنو مخزوم کا ایک طاقتور فرد تھا، جس کا کام اسلام قبول کرنے والوں کو اذیت دینا اور اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تذلیل کرنا تھا ۔ چونکہ قبیلہ بنو ہاشم کے لوگوں پر تشدد کرنا آسان نہیں تھا، اور اسلام اپنے ابتدائی مراحل میں تھا، اس لیے ابوجہل نے سمیہ، ان کے شوہر یاسر اور ان کے بیٹے کو اسلام قبول کرنے پر اذیتیں دینا شروع کر دیا ۔

 جس وقت سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا پر تشدد کیا جا رہا تھا، اس وقت ان کی عمر تقریباً 60 سال تھی ۔ ابوجہل نے سمیہ، ان کے شوہر یاسر اور ان کے بیٹے عمار کو لوہے کی زرہ پہنا کر چلچلاتی دھوپ اور گرمی میں کھڑا کر دیا، ان کے ہاتھ رسیوں سے باندھ کر انہیں چلچلاتی دھوپ میں رکھا گیا، اور ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اسلام چھوڑ دیں اور اسلام کی مذمت کریں ۔

انہیں اور ان کے شوہر کو کوڑے مارے گئے، بے رحمی سے پیٹا گیا، اور انہیں ہر طرح سے اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ اسلام یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جرم کا ارتکاب کر لیں، اور اپنا دین چھوڑ دیں اور ابوجہل کی باتوں کو مان لیں ۔ لیکن سمیہ ایک مضبوط ایمان والی بہادر خاتون تھیں ۔ 60 سال کی عمر میں بھی تمام تر اذیتوں کا سامنا کرنے کے باوجود، ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی ۔

 عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، انہیں اذیت اور بے بسی کی حالت میں دیکھا اور فرمایا: اے یاسر کے گھر والو صبر کرو، جنت تمہارا مقدر ہے ۔

 ابوجہل نے انہیں جتنی اذیت دی، ان کا ایمان اتبا ہی مضبوط ہوتا گیا اور انہوں نے دین کی راہ میں ہر اذیت کو مسکرا کر برداشت کیا ۔ ابوجہل ان کی دیانت دار طبیعت اور ثابت قدمی سے اور زیادہ بھڑک گیا اور انہیں مزید اذیتیں دینا شروع کر دیا ۔

 سمیہ اور ان کے شوہر یاسر کو ابوجہل نے درخت سے باندھ دیا ۔ ان کے شوہر بہت کمزور ہو گئے تھے ۔ پھر ابوجہل سمیہ کی طرف متوجہ ہوا، اور کہا کہ تمہارا شوہر تم سے پہلے مر جائے گا، جب وہ مر جائے گا تو شاید تم بہت خوش ہو گی، کیونکہ تم محمد سے بہت محبت کرتی ہو، تم اپنے شوہر کے مرنے کے بعد ان سے شادی کرنا چاہتی ہو ۔

 ابو جہل کی یہ لغو اور مضحکہ خیز باتیں سن کر سمیہ نے ابوجہل کے منہ پر تھوک دیا، اور کہا اللہ کے دشمن اللہ تجھے رسوا کرے، تم کتنے گھٹیا انسان ہو، میری نظر میں تم کیڑے مکوڑوں سے بھی حقیر ہو، جو زمین پر میرے قدموں کے نیچے ہیں ۔

 یہ سن کر ابوجہل کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے نیزہ لے کر سمیہ کے پیٹ میں گھونپ دیا ۔

 اس طرح سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنی جان قربان کرنے والی پہلی شہیدہ بن گئیں ۔

 قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں ۔ [قرآن | سورہ آل عمران | 3:169]

 سمیہ کے شوہر یاسر نے بھی کچھ عرصہ بعد اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان کر دی، اور وہ بھی جام شہادت نوش کر گئے، اور ان کے بیٹے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی بن گئے ۔

 سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا اسلام کی ایک بہادر خاتون تھیں، جنہوں نے بہت خوبصورتی کے ساتھ غلامی سے اسلام اور پھر شہادت تک کا سفر مکمل کیا، اور تاریخ اسلام کی پہلی شہیدہ کا درجہ حاصل کیا ۔

 وہ جانتی تھی کہ ابوجہل دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لیے، میرا استعمال کرے گا اور انہیں اسلام کے خلاف کرے گا ۔ انہوں نے ابوجہل کے ارادوں کو کبھی پورا نہیں ہونے دیا، اور اپنی شہادت تک اپنے فیصلے پر قائم رہیں ۔ اتنی اذیتیں سہنے کے بعد بھی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ ان کی ہمت، ان کے جذبے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر ان کے ایمان نے، انہیں عظمت کی بلندیوں پر فائز کر دیا ۔ سمیہ بنت خیاط رضی اللہ عنہا اور ان کے خاندان کی زندگی، ہمیں درس دیتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی، ہمیں اپنے ایمان پر قائم رہنا چاہیے ۔ درحقیقت ہمیں اپنے اللہ پر مضبوط یقین رکھنا چاہیے اور ظالم کے سامنے کبھی بھی شکست تسلیم نہیں کرنا چاہیے ۔

 -----

English Article: Sumaiyya Bint Khayyat: The First Female Martyr of Islam

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sumaiyya-khayyat-female-martyr/d/136382

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..