New Age Islam
Tue Mar 10 2026, 12:15 PM

Urdu Section ( 29 Oct 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban-Pakistan Talks Fail پاکستان-طالبان مذاکرات ناکام اور جنگ کے امکانات

نیو ایج اسلام اسٹا ف رائیٹر

29 اکتوبر 2025

اکتوبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپ کے علاوہ افغانستان کے کابل، پکتیکا اور قندھار پر پاکستان کے فضائی حملوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی مداخلت سے عارضی جنگ بندی ہوگئی تھی اور اس کے بعد 25 سے 28 اکتوبر تک ترکیہ کی راجدھانی استنبول میں پاکستان اور افغانستان طالبان کے وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ان مذاکرات کا اصل ایجنڈا تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علاحدگی پسند تنظیموں کو طالبان کی مدد اور حمایت اور افغان مہاجرین کا مسئلہ تھا۔ افغان طالبان کے وفد میں پانچ نمائندے تھے جبکہ پاکستانی وفد میں سات نمائندے تھے۔ پاکستان نے طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہی ان پر یہ۔الزام لگایا ہے کہ افغان طالبان پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتا ہے ، انہیں تربیت دیتا ہے اور انہیں پناہ دیتا  ہے۔ اور یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان اور دیگر جنگجو تنظیموں کی مدد اور سہولت کاری بند کرے لیکن طالبان نے اپنے روئیے میں کوئی تبدیلی نہیں لائی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کی صورت حال پیدا ہوئی۔ اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے قطر اور ترکیہ نے مداخلت کی اور دونوں ممالک کے نمائندوں کو استنبول میں مذاکرات کی دعوت دی۔ 25 اکتوبر سے 28 اکتوبر تک چلنے والے ان مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری اور ان کی مدد کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا اور طالبان کے وفد کے سامنے ثبوت اور شواہد پیش کرکے  ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علاحدگی پسندوں کی مدد بند کرے۔ جواب میں طالبان نے پاکستان سے بھی یہ مطالبہ  کیا کہ وہ بھی یہ ضمانت دے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور پاکستا ن امریکا کواہنے یہاں  بیس بنانے نہیں دے گا ۔ ان کا یہ مطالبہ پاکستان نے مسترد کردیا۔ اسی طرح طالبان نے زبانی طور پر تو یہ تسلیم کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان سے مدد ملتی ہے اور انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی مدد نہیں کریں گے لیکن انہوں نے کوئی تحریری ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ طالبان نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان سرحدوں کو کھول دے اور مہاجروں کی منتقلی کا عمل ابھی روک دے اور افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے تجارتی ٹرکوں سے دستاویزات طلب نہ کئے جائیں۔پاکستان نے ان کے یہ مطالبات بھی مسترد کردئیے۔ واضح ہو کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے دو ہفتوں سے سرحدوں  کو بند کردیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بند ہے جس سے افغانستان کے تاجروں کو کافی نقصان ہورہا ہے۔اس طرح دونوں ممالک کے درمیان چارروزہ مذاکرات بےنتیجہ رہے اور پاکستان اور افغانستان کے وفود خالی ہاتھ واپس آگئے۔ مژاکرات کی ناکامی  کا ذمہ دار پاکستان  نے طالبان کو ٹھہرایا ہے ۔ جبکہ افآنستان کیطرف سے ابھی کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔ لیکن پاکستان کے وزیراطلاعات اور نشریات  عطاء اللہ تارڑکا بیان جاری ہوا ہے جس کےمطابق انہوں نے کہا کہ افغانستان کے طالبان وفدنے پاکستان کے منطقی اور جائز دعوے تسلیم کئے اور شواہد کوبھی قبول کیا لیکن دپشت گرد تنظیموں کی حمایت نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی نہیں کرائی۔افغان طالبان نے مژاکرات کے بنیادی مدعے سے انحراف کیا اور کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔طالبان نے الزام تراشی ، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا تاکہ مذاکرات کسی قابل عمل نتیجے پر نہ پہنچ سکیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے طالبان کو سخت پیغام دیتے ہوئےکہا کہ پاکستان حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرے گی اور دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نیست ونابود کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ کھلی جنگ ہے۔ان کے بیان سے یہ ظاہر ہے کہ پاکستان اب افغانستان کے ساتھ ایک بار پھر جنگ کے لئے تیار ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی ان بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ طلوع نیوز نے طالبان حکومت کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر پاکستان اس بار ہم پر حملہ کرے گا تو ہم اس کا ایسا جواب دینگے کہ وہ ان کے لئے ہی نہیں دوسروں کے لئے بھی سبق ہوگا۔طالبان کے ایک اور لیڈر نے کہا کہ اگر پاکستان نے کابل پر حملہ کیا تو ہم اسلام آباد پر حملہ کریں گے اور اٹک تک اپنا جھنڈا لہرادینگے۔۔دونوں طرف سے جاری ہونے والے ان بیانات سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔اوردونوں ممالک کے درمیان جو عارضی جنگ بندی ہوئی تھی وہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

مذاکرات  ختم ہونے کے فوراًُ بعد پاک افغان سرحد پر دونوں فوجوں کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہوگئی اور فریقین نے ایک دوسرے کو نقصان پینچانے کا دعوی کیا۔لہذا، بہت جلد پاکستان کی طرف سے کابل ، قندھار اور دیگر شہروں میں پاکستانی حملوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے اپنی طاقت بڑھانے کے لئے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ غالباًً انہیں اندازہ ہے کہ افغانستان کے خلاف پاکستانی کارروائی کے نتیجے میں انہیں افغانستان سے جنگجوؤں کی شمولیت میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف تحریک لبیک کے خلاف حکومت پاکستان کے کریک ڈاؤن سے تحریک کے کارکنان روپوش ہیں ۔ ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان تحریک لبیک کے ہزاروں کارکنوں کو شامل کرنا چاہتا ہے۔ یہ پاکستانی حکومت کے لئے ایک نیا مسئلہ بن سکتا ہے ۔ چونکہ تحریک لبیک پاکستان پنجاب میں زیادہ مضبوط ہے اس لئے تحریک طالبان پاکستان سے تحریک لبیک کے الحاق سے پنجابی طالبان کا احیا ہوسکتا ہے جو پنجاب کے لئے دردسر بن سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے طالبان اور تحریک طالبان پاکستان جیسی دہشت گرد تنظیموں کو مالی اور سیاسی فائدے کے لئے بڑھاوا دیا تھا لیکن یہی تنظیمیں اب پاکستان کے لئے سب سے بڑا اندرونی خطرہ بن چکی ہیں اور اب وہ انہی تنظیموں کو دہشت گرد اور خوارج  قرار دے رہا ہے جن کو وہ اب تک مجاہدین کا تمغہ دیتا رہا تھا۔ پاکستان کو ایک طرف تو افغان طالبان سے خطرہ ہے تو دوسری طرف اندرون ملک تحریک طالبان اور تحریک لبیک سے خطرہ ہے۔ اور اب حکومت پاکستان ان مسئلوں سے اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہندوستان سے دوبارہ جنگ کی فضا بنارہی ہے ۔ پاکستان اب خود اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس چکا ہے۔

----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/taliban-pakistan-talks/d/137439

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..