New Age Islam
Sat Feb 07 2026, 02:12 AM

Urdu Section ( 12 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu Speakers Should Also Look Within Themselves اہل اردو بھی اپنے گریبانوں میں جھانکیں

سہیل انجم

11 جون،2025

اتر پردیش میں اردو زبان کا مسئلہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ اس بار اس بحث کے مرکز میں ہے بجنور کے سیوہارا بلاک میں واقع ایک پرائمری اسکول کے پرنسپل کی معطلی کا واقعہ اس اسکول کی اندرونی و بیرونی دیواروں پر اسکول کانام انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھا ہوا تھا جس پر ایجوکیشن انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے پرنسپل رفعت خان کو معطل کردیا۔یہ کارروائی ضوابط اورنظم وضبط کی مبینہ خلاف ورزی کے نام پر ہوئی ہے۔حکام کا استدلال ہے کہ اسکول کی املاک پرکچھ لکھنے یا کوئی کام کرانے کے لیے پیشگی اجازت لینی ضروری ہے جسے نظرانداز کیا گیا۔لیکن اس طبقہ پرنسپل کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہواہے۔ جو کہ اس واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف تفریق کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا کہناہے کہ اردو ہمارے ورثے کاایک حصہ ہے اور اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان بھی ہے۔لہٰذا آئین میں مسلمانوں کو دیے گئے حقوق کے تحفظ کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یادر ہے کہ کچھ دنوں قبل اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اردو کو’کٹھ ملاؤں‘ کی زبان قرار دیاتھا جس پرکافی ہنگامہ ہوا تھا۔تھوڑا اورپیچھے جائیں تو اسی ریاست میں ایک اسکول کی اسمبلی میں ’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھائے جانے پراستاذ کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔جہاں تک اردو سرکاری زبان ہے۔ لیکن موجودہ حکومت اسے ایک اچھوت اورمسلمانوں اور مدرسوں کی زبا ن ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر یہ رویہ غلط ہے او ربالکل غلط ہے تو اسے مسلمانوں کے حقوق سے جوڑنا بھی غلط ہے۔ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔یہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کی زبان ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب صرف چند مسلم خاندانوں تک سمٹتی جارہی ہے۔ اور ایک طبقہ اسے مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ اہل اردو کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کوشش کو ناکام بنائیں۔

دراصل اردو کے خلاف مہم کوئی نئی مہم نہیں ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے۔آزادی کے بعد سرکاری سطح پرہندی کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی گئی۔ لیکن جنوب میں یہ پالیسی کامیاب نہیں ہوئی۔ ابھی کچھ دنوں قبل وزیر داخلہ امت شاہ نے ہندی کو نافذ کرنے کے سلسلے میں بیان دیا تھا جس پر تمل ناڈو وغیرہ میں ایک تنازع پیدا ہوا تھا۔ بہر حال حکومتی سطح پر ہندی کو فروغ دینے کی کوششیں بہت زیادہ بار آور نہیں ہیں لیکن اردو کو مٹانے کی کوششیں بڑی حد تک کامیاب ہیں۔ اتر پردیش کی صورت حال یہ ہے کہ اردو میڈیم کا ایک بھی سرکاری اسکول نہیں ہے۔حالانکہ ریاستی حکومت نے 1989ء میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہواکہ تمام سرکاری کام کاج اردو میں بھی ہونے چاہئیں۔لیکن عملی طور پر یہ دیکھا گیاہے کہ یوپی کے علاوہ جن دوسری ریاستوں میں بھی اردو دوسری سرکاری زبان ہے وہاں اس کا عملی طور پراختیار نہیں کیا گیا ہے۔ نہ تو مختلف محکموں میں اردو مترجمین رکھے گئے ہیں اور نہ ہی اردو میں کوئی قابل ذکر کام ہوتاہے۔ اردو اداروں میں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ جہاں تک اردو زبان کی قانونی حیثیت کی بات ہے تو ابھی حال ہی میں سپریمکورٹ نے اردو کے حق میں ایک تفصیلی فیصلہ سنایا ہے او رکہاہے کہ اردو اسی ملک میں پیدا ہوئی۔یہیں اسے پرورش پائی اور یہیں اس کوفروغ حاصل ہوا۔یہ باہری یا غیر ملکی زبان نہیں ہے۔ اس سے قبل’اتر پردیش ہندی ساہتیہ سمیلن‘ نے اردو کو یوپی کی دوسری سرکاری زبان بنائے جانے کو سپریمکورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے آئین بینچ نے خارج کردیا تھا۔ اس بینچ اس وقت کے چیف جسٹس آر ایم لوڈھا، جسٹس دیپک مشرا، جسٹس مدن بی لوکور، جسٹس کورین جوزف اور جسٹس ایس اے بوبڈے شامل تھے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جو کہ پونے کی بلدیہ کے دفتر میں اردو ں میں بورڈ نصف کیے جانے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کرتے ہوئے اس آئینی بینچ کے فیصلے کابھی حوالہ دیا گیا تھا۔5ستمبر 2014ء کو سنائے جانے والے سابقہ فیصلے میں ہندی ساہتیہ سمیلن کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے دستور کی دفعہ 347کا حوالہ دیا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ یہ دفعہ ریاستی قانون ساز ادارے کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ ریاست میں ایک یا ایک سے زائد زبان استعمال کرے یا ہندی کو اپنی سرکاری زبان کے طور پر اپنائے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خود اردو والے اس زبان کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں۔اردو کے فروغ کے نام پر تو متعد دسرکاری ونجی ادارے قائم ہیں لیکن حقیقت یہ کہ نجی ادارے بھی کوئی سنجیدہ کام نہیں کررہے ہیں۔ البتہ سرکاری ادارہ’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘ بہت کچھ کام کررہاہے۔ اس کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال اس سلسلے میں کافی سنجیدہ ہیں۔انہوں نے اپنی کوششوں سے منجمد ہوگئی کونسل کو کافی فعال بنادیا ہے۔ادھر نجی تنظیمو ں میں کچھ دیوانے ہیں جو اردو کے لیے اپنا سب کچھ لٹا نے پرآمادہ رہتے ہیں لیکن اکثریت عملی طورپر مفلوج ہے۔ اردو کے مراکز سے بھی اردو کا خاتمہ ہورہاہے۔ اردو اساتذہ کے لیے ہونے والے امتحانات میں جو طلبہ بیٹھتے ہیں وہ زیادہ محنت نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ فیل ہونے پر بھی ان کو ملازمت مل جائے۔ اخبار’ہندوستان ٹائمز‘ نے اسی سال 30/مارچ کوایک اسٹوری شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یوپی حکومت کی جانب سے ’اردو اہلیتی امتحان‘ منعقد کیا جاتاہے لیکن اس میں بہت کم لوگ بیٹھتے ہیں۔سال 2024 اور 2025 کیلئے ہونے والے امتحان میں صرف پانچ اور 2023 اور 2024ء میں صرف تین امیدوار بیٹھے تھے۔ اس کم تعداد کی وجہ سے ریاستی لینگویج ڈپارٹمنٹ کو ڈھائی لاکھ روپے کے بجٹ میں سے ایک لاکھ پانچ ہزار روپے واپس کردینے پڑے۔ اس نے اس سے قبل کے سال میں ایک لاکھ 41ہزار روپے واپس کیے تھے۔ یہ اطلاع بھاشا ڈپارٹمنٹ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری جتیندر کمار نے دی ہے۔ اس سے قبل امتحان میں کچھ زیادہ امیدوار شریک ہوتے تھے لیکن اب یہ تعداد رفتہ رفتہ کم ہوتی جارہی ہے۔ ریاستی حکومت جونیئر ہائی اسکول اور ہائی اسکول کی سطح پرچار انتخابی مراکز لکھنؤ پریاگ راج، مرادآباد او آگرہ میں اردو اہلیتی امتحان منعقد کراتی ہے۔ امتحان پاس کرنے والے طلبہ کو حکومت کی جانب سے وظیفہ دیا جاتاہے۔ باخبر لوگوں کے مطابق ریاستی حکومت کو قدیم ریونیور یکارڈ ز پڑھنے او ران کو آگے پروسیس کرنے کے لیے اردو میں اہل ملازمین کی ضرورت ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں ایسے امیدوار چاہئیں۔

1989 ء میں اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دیے جانے کے موقع پر جو آرڈر جاری کیا گیا تھا اس کے مطابق سات زمروں میں اردو جاننے والوں کی ضرورت ہے۔ یعنی اردو میں درخواستیں حاصل کرنا اور نمٹانا، ریاستی حکومت کے دفاتر میں اردو دستاویزات کو قبول کرنا، اہم ضوابط اور نوٹی فکیشن کو اردو شائع کرنا، اہم سرکاری اعلانات وسرکلر کو اردو میں شائع کرنا، اہم اشتہارات کو اردو میں جاری کرنا، سرکاری گزٹ کو اردو میں ترجمہ کرکے شائع کرنا اور اہم سرکاری سائن بورڈ کو اردو میں بھی لکھنا۔لیکن ایک طرف جہاں حکومت کو اس سلسلے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے وہیں اردووالوں کو بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اردو والے حکومت کا رونا تو روتے ہیں لیکن اپنے طور پر کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت کو بھی شہ ملتی ہے اور اردو میں اسکول کا نام لکھنے پر ملازمت سے معطل کردیا جاتاہے۔ اردووالوں کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں اردو تعلیم کو رائج کریں خواہ خودہی استاذ کیوں نہ رکھنا پڑے اور دوسرے حکومت کے متعلقہ اداروں او ران کے حکام سے ملاقات کرکے دوسری سرکاری زبان کے تقاضوں کو پورا کرانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ کیا اہل اردو اس کیلئے سنجیدہ اور تیار ہیں۔

------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/urdu-speakers-should-themselves/d/135843

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..