New Age Islam
Fri May 08 2026, 11:48 AM

Urdu Section ( 7 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Did Vice-Chancellor of Jamia Millia Islamia Prof. Mazhar Asif Say Anything Against Islamic Principles? کیاشیخ الجامعہ پروفیسر مظہر آصف نے کوئی ایسی بات کہی جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہے؟

 

مولانا ڈاکٹر مسعود عالم فرقانی، نیو ایج اسلام

 

7مئی،2026

"پروفیسر مظہر آصف ثقافت اور ٹریڈیشن پر بات کر رہے تھے، عقیدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا، اس لیے یہ کہنا کہ ان کی بات اسلامی اصولوں کے خلاف ہے، بالکل درست نہیں"، مفتی محمد رئیس الدین الازہری

------

حالیہ دنوں پروفیسر مظہر آصف، وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک بیان کو سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان کا بیان اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔ حالاں کہ اگر پورے بیان کو غیر جانب داری، علمی دیانت اور ہندوستانی تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ گفتگو عقیدۂ توحید یا مذہبی عقائد کے باب میں نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ ثقافت، بقائے باہمی اور تہذیبی ہم آہنگی کے تناظر میں تھی۔  انہوں نے سناتنی ثقافت کو بقائے باہمی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے والا ایک نہایت نفیس اور جامع نظام قرار دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے بھگوان مہادیو کے خاندان کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مختلف اور بظاہر متضاد فطرت رکھنے والی مخلوقات بھی کس طرح محبت اور امن کے ساتھ ایک ساتھ رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہادیو کے خاندان میں پاروتی کا شیر اور شیو کا بیل نندی، باوجود فطری تضاد کے، بغیر کسی دشمنی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی طرح شیو کے گلے میں موجود سانپ واسُکی اور مور، جو کارتیکیہ کی سواری ہے اور سانپوں کا فطری دشمن سمجھا جاتا ہے، شیو کے آنگن میں پُرامن طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ چوہا، جو عام طور پر سانپ کی خوراک ہوتا ہے، گنیش جی کی سواری ہونے کے باوجود شیو کے گلے میں موجود سانپ اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔اپنے خطاب میں مظہر آصف نے ہندوستان کے تنوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں: "یہاں موجود لوگوں کو دیکھ کر مجھے نہیں لگتا کہ سب کی مادری زبان، تربیت یا ثقافت ایک جیسی ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے، اور میں یہ بات خالصتاً جغرافیائی تناظر میں کہہ رہا ہوں، ممکن ہے کہ سب ایک ہی خطے سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ ان کے مذاہب بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود ہم سب ہندوستانی ہیں۔ ہم ہندوستانی اس لیے ہیں کہ مہادیو کا ڈی این اے ہمارے اپنے ڈی این اے میں موجود ہے"۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان عالم یا دانشور دوسری تہذیبوں یا ثقافتوں کا تذکرہ کرتا ہے تو اسے فوری طور پر عقیدے کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی علمی روایت میں ثقافت، تمدن اور عقیدے کے درمیان ایک واضح اور مستحکم حد فاصل موجود ہے۔ پروفیسر مظہر آصف کے بیان کو اسی اصول کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔ یہ وضاحت اس لیے اہم ہے کہ اسلام میں کسی بھی قول یا فعل کا حکم متعین کرتے وقت اس کے مقصد، سیاق اور نیت کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔

اسلامی شریعت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے"۔(صحیح بخاری، حدیث: 1)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جملے یا عمل کا حکم اس کی ظاہری عبارت سے زیادہ اس کی نیت اور مقصد پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ثقافتی یا سماجی مثال دے رہا ہو تو اسے عقیدۂ شرک یا توحید کے پیمانے پر پرکھنا درست نہیں، جب تک کہ وہ صراحتاً کسی غیر اسلامی عقیدے کی تائید نہ کرے۔ پروفیسر مظہر آصف کے بیان میں بھی اصل موضوع ہم آہنگی، بقائے باہمی اور مشترکہ تہذیب تھا۔ انہوں نے ہندو روایت کی ایک علامتی مثال دے کر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ مختلف مزاج، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک ملک میں امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ ایک سماجی و ثقافتی گفتگو تھی، نہ کہ مذہبی عقیدے کی تبلیغ۔

دلیل اول: اسلام نے ثقافت اور عقیدے کو الگ رکھا ہے

قرآنی اصول: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"يا ايها الناس انا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا" (الحجرات: 13) اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تنوع، قومیں، قبیلے، ثقافتیں، کو ایک الٰہی حکمت قرار دیا ہے۔ لِتَعَارَفُوا کا مطلب صرف ملنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تہذیب، روایات اور کلچر کو جاننا اور سمجھنا بھی ہے۔ پروفیسر مظہر آصف نے یہی کام کیا، وہ ہندوستانی تہذیب کو اسی تعارف کے اسلامی اصول کے تحت بیان کر رہے تھے۔

دلیل دوم: نبی کریم ﷺ نے خود دوسری تہذیبوں کے ثقافتی اسباق لیے

حدیثِ مبارکہ: غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایرانی فوجی حکمتِ عملی، خندق کھودنے کی تجویز دی۔ نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اسے قبول فرمایا بلکہ عمل بھی کیا۔(صحیح بخاری، کتاب المغازی) یہ ایک غیر عرب، غیر اسلامی تہذیب کا طریقہ تھا، پھر بھی نبیﷺ نے اسے اپنایا۔ کیونکہ ثقافتی و تمدنی حکمت کو اپنانا عقیدے کی نفی نہیں۔پروفیسر مظہر آصف نے بھی سناتن کلچر میں موجود بقائے باہمی کے تمدنی سبق کو پیش کیا، نہ کہ کوئی عقیدہ اختیار کیا۔

دلیل سوم: اسلامی فقہ میں "عُرف" کا اصول

اسلامی فقہ کا ایک مستقل باب ہے"العادۃ محکمۃ" یعنی رواج (کسٹم) حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ (الأشباہ والنظائر، امام سیوطی) فقہاء نے صراحت کی ہے کہ کسی قوم کے رسم و رواج، ثقافت اور روایات کو سمجھنا، ان پر گفتگو کرنا اور ان سے انسانی سبق لینا، یہ سب عقیدے کا نہیں بلکہ تمدن کا معاملہ ہے۔سناتن کلچر میں بقائے باہمی کی مثال پیش کرنا ایک ثقافتی مشاہدہ ہے، جیسے کوئی چینی یا جاپانی تہذیب میں صبر یا نظم و ضبط کی تعریف کرے۔

دلیل چہارم: "ڈی این اے" ایک استعاراتی (Metaphorical) زبان ہے، عقیدے کا بیان نہیں

قرآنِ کریم نے خود کثرت سے استعاراتی زبان استعمال کی ہے: "اشدد به أزري " (طہ: 31)اور اس سے میری کمر مضبوط کر، یہاںکمر جسمانی نہیں بلکہ قوت واستحکام کا استعارہ ہے۔ "وَٱخفِض لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ"(الاسراء: 24)ان کے لیے عاجزی کا بازو جھکاؤ، بازوجسمانی نہیں، انکسار کا استعارہ ہے۔

جب پروفیسر مظہر آصف نے کہا "مہادیو کا ڈی این اے ہمارے ڈی این اے میں ہے"تو یہ واضح طور پر ایک ثقافتی استعارہ تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستانی تہذیب، بقائے باہمی اور رواداری کی قدریں ہمارے وجود میں رچی بسی ہیں۔ اسے لفظی یا عقیدتی بیان سمجھنا زبان کے فہم کا مسئلہ ہے، عقیدے کا نہیں۔

دلیل پنجم: علماء اسلام کی تہذیبی کشادہ دلی کی روایت

امام غزالی رحمہ اللہ نے یونانی فلسفے کا مطالعہ کیا اور اس پر تنقید بھی لکھی۔ابنِ خلدون رحمہ اللہ نے اپنی مقدمہ میں مختلف تہذیبوں، رومی، فارسی، بربری، کے عروج و زوال کا تجزیہ کیا اور ان کی ثقافتی خصوصیات بیان کیں۔امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ نے مختلف علاقوں کے عُرف و عادات کو فقہی مسائل میں بطور دلیل قبول کیا۔کیا ان میں سے کسی کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے عقیدے سے سمجھوتہ کیا؟ ہرگز نہیں۔پروفیسر مظہر آصف بھی اسی علمی روایت کے تسلسل میں ہندوستانی تہذیب کو بیان کر رہے تھے۔

دلیل ششم: سیاقِ کلام (Context) اصولِ تفسیر

علماء تفسیر کا ایک بنیادی اصول ہے: "الکلام یُحمَل علیٰ سیاقہ"کسی بات کو اس کے سیاق و سباق کے مطابق سمجھا جائے گا۔ (اصول التفسیر، ابن تیمیہ) پروفیسر صاحب کا پورا بیان پڑھیں تو واضح ہے کہ وہ:

·        ہندوستانی سماجی ہم آہنگی کی بات کر رہے تھے

·        مختلف لسانی و ثقافتی پس منظر رکھنے والوں کی یکجہتی بیان کر رہے تھے

·        تعلیمی و اکیڈمک تناظر میں گفتگو کر رہے تھے

·        کہیں بھی مہادیو کی عبادت، پوجا، یا الوہیت کا ذکر نہیں۔ سیاق یکسر ثقافتی ہے۔

دلیل ہفتم: نبی ﷺ کا غیر مسلموں کی تعریف کرنا

نبی کریم ﷺ نے حلفِ الفضول، جو اسلام سے قبل قریش کا ایک معاہدہ تھا، کی تعریف فرمائی اور کہا: "اگر آج بھی مجھے اس جیسے معاہدے میں شرکت کی دعوت دی جائے تو میں ضرور شامل ہوں۔ (السیرۃ النبویہ، ابن ہشام) یہ ایک جاہلی دور کے غیر اسلامی معاہدے کی تعریف تھی کیونکہ اس میں انسانی اقدار تھیں۔ نبیﷺ نے اس تعریف کو عقیدے کا مسئلہ نہیں بنایا۔پروفیسر مظہر آصف نے ہندوستانی تہذیب میں موجود رواداری اور بقائے باہمی کے سماجی سبق کو بیان کیا۔ نہ انہوں نے مہادیو کی عبادت کی، نہ ان کی الوہیت تسلیم کی، نہ اسلامی عقیدے سے انحراف کیا۔ ثقافت کو پہچاننا عقیدے سے منحرف ہونا نہیں، بلکہ اسلام کی اسی آفاقیت کا اظہار ہے جس نے ہر دور میں مختلف تہذیبوں سے مکالمہ کیا۔

اسلام اپنے وطن، معاشرے اور تہذیب کے ساتھ خیر خواہی، امن اور حسنِ تعلق کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے محبت کا اظہار فرمایا اور مدینہ منورہ میں مختلف قبائل اور مذاہب کے ساتھ "میثاقِ مدینہ" قائم فرمایا، جو بقائے باہمی کی عظیم مثال ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی معاشرے میں مشترکہ تہذیبی ورثے کی بات کرنا کوئی غیر اسلامی امر نہیں ۔ اسلام ہمیں اعتدال، حسنِ ظن، سیاق کی رعایت اور علمی انصاف کا درس دیتا ہے۔ اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن کسی بیان کو اس کے اصل مفہوم سے ہٹا کر فتنہ و انتشار کا ذریعہ بنانا اسلامی اخلاقیات کے منافی ہے۔

--------------

مولانا ڈاکٹر مسعود عالم فرقانی، پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوجواہر لعل نہرو یونیورسٹی (JNU)، نئی دہلی

--------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/vice-chancellor-jamia-millia-islamia-prof-mazhar-asif-islamic/d/139929

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

 

Loading..

Loading..