ودود ساجد
9 نومبر،2025
امریکہجیسے بڑے ملک کے صدر اور اس کےنیویارک جیسے شہر کے میئرکے درمیان عہدہ کے اعتبارسے کیا کوئی موازنہ کیا جاسکتا ہے؟ٹرمپ 34کروڑ79لاکھ کی آبادی والی’ ریاستہائے متحدہ امریکہ‘ کے حکمران اعلی ہیں جبکہ نیویارک کا میئرمحض 84لاکھ 80ہزار شہریوں کا حکمراں ہے۔ امریکی صدر کوتمام تر داخلی اور خارجی امور میں بے انتہا اختیارات حاصل ہیں جبکہ نیویارک کا میئرصرف اس شہر کے چندداخلی امور کامنتظم ہوتا ہے۔امریکہ کامجموعی بجٹ 67لاکھ 52ہزار ملین ڈالر ہے جبکہ نیویارک شہر کا بجٹ محض 116ملین ڈالر ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیویارک کے میئر کے انتخابات میں ظہران ممدانی کو جیتنے نہ دینے کیلئے پوری طاقت لگادی تھی؟

یہ خبرکوئی چھوٹی نہیں ہے کہ 34سال کے فلسطین نواز ’ظہران‘ نے 79سال کے اسرائیل نواز ٹرمپ کو انتہائی ذلت آمیز‘تاریخ ساز اور معنی خیز شکست سے دوچار کردیا۔نیویارک کے میئر کی انتخابی تشہیر کے دوران ٹرمپ نے ظہران کے خلاف بڑی زہریلی مہم چلائی۔ایسی مہم تو انہوں نے اپنے سابق ہم منصب اوردوسری مدت کیلئے صدارتی امیدوارجوبائیڈن کے خلاف بھی نہیںچلائی تھی۔ ایلون مسک نے امریکہ کی پچاس ریاستوںمیںٹرمپ کی انتخابی مہم پر 288ملین ڈالر خرچ کئے تھے۔جبکہ ظہران کے خلاف نیویارک کے دو درجن سے زائد تاجروں نے صرف نیویارک شہر کے الیکشن میں 40ملین ڈالر خرچ کردئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہران کے خلاف صرف کوئی ایک سیاسی لابی نہیں تھی بلکہ ہرمیدان میں موجود بڑی لابی ان کے خلاف تھی۔ ٹرمپ نے ظہران کو ’کمیونسٹ پاگل‘خوفناک اور کڑوی آواز والا قرار دیا۔انہوں نے ظہران کی مسلم شناخت کا بھی مذاق اڑایا۔انہوں نے اسے یہودیوں اور اسرائیل کا دشمن بھی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ظہران میئر کا الیکشن جیت گیا تو نیویارک شہر تباہ ہوجائے گا۔انہوں نے ظہران کے خلاف ماحول بنانے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ظہران میئر کا الیکشن جیت گیا تو میں نیویارک کا وفاقی فنڈ روک لوںگا۔انہوں نے ایک موقع پر یہ دھمکی بھی دی تھی کہ میں ظہران کو گرفتار کرلوں گا۔آخری دھمکی کے طورپر انہوں نے کہا تھا کہ میں ظہران کو ایک خوفناک نتیجہ سے دوچار کردوں گا۔لیکن اس کے باوجود ظہران نے فتح حاصل کرلی اوردنیا بھر میںسب سے طاقتور صدر کے ہر حربہ کو ناکام کردیا۔
ظہران کے خلاف ارب پتی تاجروں کی باڑھ آگئی تھی۔میڈیا نے بھی ان کے خلاف لوگوں کے ذہنوںمیں شکوک وشبہات پیدا کئے۔ٹرمپ نے بھی اور میڈیا نے بھی اسلاموفوبیا کا اشو اٹھایا ۔یہاں تک کہ خود ظہران کی ڈیموکریٹک پارٹی کی قومی لیڈر شپ نے بھی ان کے خلاف منفی کردار اداکیا۔امیدواری کیلئے ابتدائی داخلی انتخابات کے دوران بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے بیشتر امیدواروں نے یہی کہا کہ جیتنے کے بعد وہ اسرائیل کا دورہ کریں گے لیکن ظہران نے کہا کہ وہ نیویارک کے میئر کا الیکشن لڑ رہے ہیں‘ خارجہ پالیسی کے سفیر کا نہیںاور یہ کہ وہ جیتنے کے بعد یہیں نیویارک میں رہیںگے اور اسرائیل نہیں جائیں گے۔ریکارڈ بتاتا ہے کہ نیویارک کے میئرکا الیکشن جیتنے والا امیدوارفوراً اسرائیل کا دورہ کرتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیویارک میں13لاکھ یہودی آباد ہیں۔یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں یہودی اتنی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔یہاں تک کہ خود اسرائیل کے دارالسلطنت تل ابیب (شہر)میں بھی صرف چار لاکھ یہودی ہی بستے ہیں۔اس اعتبار سے نیویارک کے یہودیوں اور نیویارک کے میئر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔اس شہر کے میئر کے الیکشن میں بھی یہودی ہی سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا الیکشن میں ہر امیدواریہودی ووٹروں کوہی رجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ کوئی امیدواربھی یہودیوں کے خلاف کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ الیکشن جیتنے کیلئے اس کا اسرائیل نواز ہونا ضروری ہے۔خواہ وہ ڈیموکریٹ ہویا ریپبلکن۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تو ظہران کواسرائیل مخالف قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلائی ہی خودظہران کی ڈیموکریٹک پارٹی اور میڈیا نے بھی اسے اسرائیل مخالف قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مہم چلائی اور اسے میئر کے الیکشن کیلئے نااہل بتایا۔لیکن اس سب کے باوجودرپورٹس بتاتی ہیں کہ نیویارک کے33فیصد یہودیوں نے بھی ظہران کوووٹ دیا۔نیویارک میںدس لاکھ مسلمان بھی آباد ہیں۔یہ شہردراصل تارکین وطن کا شہر ہے۔یہاں150ملکوں کے لوگ آباد ہیں۔ظہران کو اسلامی شدت پسندبتاکریہودیوں کا دشمن قرا ردیا گیا لیکن اس کی جیت نے ان لوگوں کے منہ پر طمانچے جڑدے جو اس کی مذہبی شناخت کو ہتھیار بناکر اس کے خلاف مہم چلارہے تھے۔ظہران کی کامیابی اس امرکی عکاس ہے کہ اب دولت کاروایتی حساب کتاب اور اثر ورسوخ ‘ اقتدار حاصل کرنے کی ضمانت نہیں رہ گیاہے۔ماضی قریب کی تاریخ میںچند مواقع کو چھوڑکرنیویارک شہر فی الواقع ڈیموکریٹک پارٹی کے ہی میئروں کے تصرف میں رہا ہے۔لیکن بیشتر مبصرین دعوی کر رہے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار ہونے کے باوجود ظہران ممدانی نے اپنی پارٹی کے متمول قومی لیڈروں کی گرفت سے نیویارک کو آزاد کرایا ہے۔اب تک جتنے بھی میئر آئے انہوں نے عوامی فلاح کی بجائے دولت مندعطیہ دہندگان کے مفادات کو مقدم رکھا۔لیکن ظہران نے جس طرح معاشرہ کے کم آسودہ اورنچلے درجہ کے طبقات کے مسائل کو اٹھایا اس نے انہیں خود اپنی ہی پارٹی کی قیادت سے منفردوممتاز کردیا۔انہوں نے اپنی انتخابی مہم بھی انتہائی منفرد انداز میں ترتیب دی اور معاشرہ کے ہر اس فرد تک پہنچے جونیویارک میں ہوش ربا مہنگائی اور دوسرے متعددشہری مسائل سے نبرد آزما ہے۔
ظہران نے اعلان کیا کہ وہ امیروں پر زیادہ ٹیکس لگاکر پریشان حال معاشرہ کو سہولتیں فراہم کریں گے۔مہم کے دوران بیشتر مبصرین نے لکھا کہ ان کا یہ اعلان ان کے جیتنے کے امکانات کو معدوم کردے گا ۔اس لئے کہ متمول تاجروں کی لابی ان کے خلاف کھل کر میدان میں آگئی اوراس نے 40ملین ڈالر ان کے خلاف خرچ کردئے۔لیکن ظہران نے شفافیت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو ووٹرس کے سامنے رکھا اور خود اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی بے نقاب کردیا۔انہوں نے نیویارک کی’ بلڈنگ لابی‘ کی پروا نہ کرتے ہوئے کرایہ داروں کے مسائل پر بھی بات کی اور انہیں راحت پہنچانے کا منصوبہ سامنے رکھا۔انہوں نے نیویارک کے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے ’ریسٹورینٹ مافیا‘ کو جھٹکا دیتے ہوئے ’پبلک گراسری اسٹورز‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تاکہ لوگوںکو مناسب داموں پر کھانا مل سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان کی خدمت کرنی چاہئے جو محنت کرتے ہیں ‘ ان کی نہیں جو لابنگ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا شہر کے وسائل پر اس کے شہریوں کاحق ہے‘ ڈویلپرس‘بینکرس اور چندہ دینے والوں کا نہیں۔اس الیکشن میں صدر ٹرمپ نے جس امیدوار کا ساتھ دیا وہ خود ان کی پارٹی کا بھی نہیں تھا۔انہوں نے اس کا ساتھ اس لئے دیا کیونکہ وہ ظہران کو شکست دے سکتا تھا۔ ظہران نے ٹرمپ کے ’پاگل کمیونسٹ‘کے جواب میں کہاکہ وہ ’ڈیموکریٹ سوشلسٹ‘ ہیں۔ یہ کہنا ان کے حق میں تریاق بن گیا۔ووٹروں کو پیغام گیا کہ ڈیموکریٹ ہونے کے باوجود ایک سوشلسٹ ان کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دے گا۔
امریکہ کے بیشتر مبصرین نے لکھا کہ ہرچند کہ ظہران کو اسرائیل مخالف اور فلسطین نوازکہہ کر ان کی شبیہ ایک سخت گیرمسلمان کی بنانے کی کوشش کی گئی لیکن نیویارک کی نئی نسل کو غزہ سے آنے والی قتل وغارت گری کی بھیانک اور لرزہ خیزتصویروںنے یقین دلادیا کہ اسرائیل انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور ظہران کا موقف بالکل درست ہے۔ظہران کی کامیابی فی الواقع نئی نسل کی بغاوت کا عروج ہے۔نئی نسل سچ سننا چاہتی ہے اورروایتی سیاست دانوں کی لفاظیوں سے اب بہلنے والی نہیں ہے۔پوری دنیا میں پچھلی دو دہائیوں نے اقتدار کا ایک نیا رجحان دیکھا ہے۔دنیا کے مختلف خطوںمیں سخت گیر‘شدت پسند اور اکثریت پسند عناصر نے کمزوروں‘انصاف پسندوںاور اقلیتوں کا جینا محال کرکے رکھ دیاہے۔لیکن یہ فطرت کا اصول ہے کہ صورت احوال ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔تبدیلی نظام الٰہی ہے۔تبدیلی نئی نسل کے ذریعہ آتی ہے۔دنیا کے بعض خطوں نے یہ تبدیلی دیکھ بھی لی ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بنگلہ دیش اور پھرنیپال کی نئی نسل نے اس کا عملی نمونہ دکھا بھی دیا ہے۔نیویارک شہرمیں بھی اس کی نئی نسل کے تمام طبقات نے اسی تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔نہ یہودیوں کے پیش نظر ظہران کا فلسطین نواز ہونا تھا اور نہ دس لاکھ مسلمانوں کے پیش نظر اس کا آدھا ادھورا مسلمان ہونا تھا۔اس نسل نے محض ایک خون پینے والی روایتی آمریت سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کیا اور تمام تر گمراہ کن پروپیگنڈوںاور اوچھے ہتھکنڈوں کو جھٹکتے ہوئے ظہران کو کامیابی سے ہم کنار کردیا۔لہٰذا 33فیصد یہودیوں نے بھی ظہران کو ووٹ دیا اور ظہران کے اس واضح اعلان کے باوجود دیا کہ اگر اسرائیل کا وزیر اعظم نتن یاہونیویارک آئے گا تو وہ اسے عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کی رو سے گرفتار کرلیں گے۔
نیویارک نے صرف امریکہ کو ہی نہیںبلکہ دنیا کے ہر اس ملک کوایک پیغام دیا ہے جہاں جمہوریت کے راستے آمریت نے معاشرہ کو جکڑ لیا ہے ۔پیغام صاف ہے: اب شہریوںاور نئی نسل کے اصل مسائل سے صرف نظر کرکے اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔اس وقت پوری دنیا میں نئی نسل بیدار ہورہی ہے۔اب وہ ایک اہم آبادیاتی قوت بن رہی ہے۔اب اس کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے۔اب وہ فعال طورپر سماجی اور تکنیکی تبدیلی کی مہم میں حصہ لے رہی ہے۔گوکہ روایتی اقتدار میں شرکت کیلئے اس کے سامنےایک مضبوط چیلنج بھی ہے تاہم اب وہ منافقت اور تابعداری کی حمایت کیلئے تیار نہیں ہے۔نیویارک کا پیغام یہ بھی ہے کہ اب سفاک اور ظالم حکمرانوں کا خوف نئی نسل کو دبا نہیں سکے گا۔نیویارک کا یہ پیغام صرف امریکہ کیلئے نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کیلئے ہے۔ظہران کا شہرہ بھی اس لئے نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے یا فلسطین نواز ہے بلکہ اس لئے ہے کہ پریشان حال دنیا اور خاص طورپر نئی نسل اس کے اندر ایک آئیڈیل دیکھ رہی ہے۔تبدیلی کی ہوا تو دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی چلے گی۔کوئی ظہران وہاں بھی کھڑا ہوگا۔عالمی مبصرین کہہ رہے ہیں کہ اب ’وال اسٹریٹ‘کا خوف بھی ختم ہوا۔یعنی اب دولت والوںکے سہارےاقتدار حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔اب تازہ خبر یہ ہے کہ ٹرمپ نے بھی ہتھیارڈال دئے ہیں اور ظہران کے تئیں اپنا لہجہ نرم کرلیا ہے۔ظہران کونیویارک کے ہر طبقہ نے اس لئے بھی ووٹ دیا کہ انہوں نے اپنی ’شناخت‘پر فخر کرنے کے باوجود ہر طبقہ کو گلے لگایا۔انہوں نے اپنی شناخت پر کسی ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا۔وہ اگر مندر‘گرجاگھر اور سنیگاگ گئے تو وہ مسجد میں بھی گئے۔
----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/victory-zohran-mamdani/d/137591
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism