New Age Islam
Wed May 06 2026, 06:53 PM

Urdu Section ( 6 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sectarian Rhetoric, State Alignments, and the Politics of Religious Authority فرقہ وارانہ بیانیہ، سیاسی اتحاد، اور مذہبی اتھارٹی کی سیاست: پاکستان میں معاصر اہلِ حدیث کے بیانیے کا ایک تنقیدی جائزہ

 مشتاق الحق احمد سکندر، نیو ایج اسلام

02 مئی 2026

جمیعت اہل حدیث اور جدید پاکستان میں مذہبی اتھارٹی کی جدوجہد۔

 اس مضمون میں یہ اجاگر کیا گیا ہے کہ فرقہ پرست رہنما نہ صرف تھیولوجی، بلکہ پاکستان میں عوامی رائے اور سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں بھی، اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس میں ہشام الہی ظہیر کی غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا جیسی شخصیات، اور احمدیوں کے خلاف علیحدگی پسند بیانیے پر تنقید کی گئی ہے، اور اسے عوامی مقبولیت پسند اور نظریاتی طور پر سخت قرار دیا گیا ہے۔

اس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح مذہبی مباحثہ، ایک محتاط علمی تحقیق سے مخصوص بیانات کی طرف منتقل ہو رہا ہے، جس سے فرقہ وارانہ تقسیم گہری ہو سکتی ہے، اور فکری تنوع کمزور پڑ سکتا ہے۔

 اس میں ظہیر کے سیاسی مزاج کا جائزہ لیا گیا ہے، خاص طور پر ایران پر ان کی تنقید اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی ریاستی ثالثی کی حمایت، اور سعودی عرب کے دفاع کے تناظر میں، جس سے نظریات اور ریاستی اتحاد کے درمیان کشیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

 اس میں اہلِ حدیث کے تسلسل، عددی قوت اور اندرونی نظم و ضبط کے دعوں پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، اور آگاہ کیا گیا ہے کہ ایسی بیان بازی سیاسی اشارہ بازی کا کام کر سکتی ہے، اور سماجی تنازعہ میں اضافہ کر سکتی ہے۔

-------

پاکستان میں مذہب، سیاست اور شناخت کا امتزاج، طویل عرصے سے کثیر الجہات، اکثر متنازعہ فیہ اور گہرے نتائج کے حامل مباحثے کو جنم دیتا رہا ہے۔ اس پیچیدہ منظرنامے میں، فرقہ وارانہ تنظیمیں اور ان کی قیادت، نہ صرف تھیولوجکل مباحثے، بلکہ عوامی رائے اور سیاسی اتحادوں کی تشکیل میں بھی، ایک کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ان ہی عناصر میں، جماعتِ اہلِ حدیث پاکستان کی معاصر قیادت، خاص طور پر ہشام الہی ظہیر کے تحت، ایک بصیرت افروز نمونہ پیش کرتی ہے، کہ کس طرح ایک جدید قومی ریاست میں، جو نظریاتی کثرت رائے اور جغرافیائی و سیاسی دباؤ سے بھری ہوئی ہے، مذہبی اتھارٹی پر گفت و شنید کی جاتی ہے، اس کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اور اس پر بحث کی جاتی ہے۔

ظہیر کے عوامی بیانات اور نظریاتی موقف سے، ایک وسیع تر نمونہ اجاگر ہوتا ہے، جس میں تھیولوجکل مطلق العنانیت، فرقہ وارانہ حد بندی اور سیاسی اتحاد کا ایک ایسا گٹھ جوڑ ہے، جس کا تنقیدی تجزیہ ضروری ہے۔ اپنی تقریروں میں وہ اکثر مسلم شناخت کی ایک سخت گیر تعریف پیش کرتے ہیں، جس میں جاوید احمد غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا جیسی شخصیات اور ساتھ ہی ساتھ احمدی (قادیانی) برادریوں کو بھی دائرۂ اسلام سے واضح طور پر خارج ہو جاتے ہے۔ اگرچہ داخلی طور پر اسلامی عقائد پر مباحثے نہ تو نئے ہیں اور نہ ہی غیر معمولی، لیکن جس انداز میں لوگوں کو دائرۂ اسلام سے خارج کیا جا رہا ہے، وہ قابلِ غور ہے۔ اختلافِ رائے کی کلاسیکی روایات پر مبنی مسلسل علمی مباحثے کے بجائے، اس بیانیہ میں اکثر ایک ایسا تیور اور عوامی لب و لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، جس سے تشریحی تنوع کے لیے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔

اس طرح کے لب و لہجے سے، پاکستان کے اندر مذہبی بیانیے میں، ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے، جس میں منبر کی اتھارٹی بڑی تیزی کے ساتھ علمی اتھارٹیسے نبرد آزما نظر آتی ہے، اور بسا اوقات اس پر غالب بھی نظر آتی ہے۔ایک محتاط تھیولوجکل مباحثے سے یکسر اعلانات کی طرف منتقلی کے اثرات، نہ صرف علمی زندگی بلکہ سماجی ہم آہنگی پر بھی مرتب ہونے والے ہیں۔ پیچیدہ نظریاتی سوالات کو دو پہلوؤں —ایمان بمقابلہ کفر، اہلِ سنت بمقابلہ گمراہی—تک محدود کرنے سے، اس قسم کی بیان بازی سے فرقہ وارانہ تقسیم کو تقویت ملنے، اور مسلم علمی روایت میں موجود متبادل بیانیوں کو باطل قرار دیئے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس سلسلے میں اتنا ہی اہم وہ جغرافیائی و سیاسی فریم ورک بھی ہے، جو اس فرقہ وارانہ بیانیے کے ساتھ جنم لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ظہیر کے ایران کے حوالے سے  بیانات سے، ایک مخصوص علاقائی بیانیوں کے ساتھ ہم آہنگ، ایک خاص تنقیدی نمونے کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ کہ ایران نے "مسلم ممالک پر اسرائیل سے زیادہ حملے کیے ہیں"، اس قسم کے بیانیے کی مثال ہے، جس میں تجرباتی پیچیدگی کے مقابلے میں، فرقہ وارانہ فریم ورک کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ ایسے دعوں میں مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی کثیر الجہات نوعیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جہاں اتحاد، تنازعات اور مداخلتوں کو، فرقہ وارانہ شناخت کے ایک واحد محور تک، محدود نہیں کیا جا سکتا۔

اسی دوران، ظہیر نے ایران اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے، اور اس طرح انہوں نے پاکستانی حکومت کے سرکاری موقف کے ساتھ ہم آہنگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ یہ دوہرا رویہ، یعنی کشیدگی میں کمی لانے کی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنا، اور ساتھ ہی ساتھ اس کے ایک اہم کردار کے بارے میں شدید تنقیدی اور فرقہ وارانہ نقطہ نظر کو فروغ دینا—نظریاتی وابستگی اور سیاسی موقف کے درمیان ایک تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے، کہ ریاستی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگی، مطلق نہیں بلکہ مشروط ہے، جو اسٹریٹجک غور و فکر اور نظریاتی ترجیحات کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔

مذہب اور ریاست کے درمیان یہ باہمی تعلق اس وقت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے، جب ہم اتھارٹی کے حوالے سے، ظہیر کے وسیع تر رجحان کو دیکھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں اکثر پاکستانی حکومت اور سعودی عرب دونوں کے تئیں وفاداری پر زور دیتے ہیں، اور اس ہم آہنگی کو ایک سیاسی ضرورت اور مذہبی فرض دونوں قرار دیتے ہیں۔ سعودی عرب کے حق میں دفاع کے ان کے مطالبہ سے، جو واضح طور پر مذہبی لب و لہجے میں پیش کیا گیا ہے، فرقہ وارانہ شناخت کے ایک بین الاقوامی پہلو کی عکاسی ہوتی ہے، جو پاکستان کی سرحدوں سے بھی ماورا ہے۔

اس ہم آہنگی کا تاریخی پس منظر انتہائی اہم ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر میں، جنوبی ایشیا میں اہلِ حدیث اور متعلقہ سلفی تحریکوں کا پھیلاؤ، خلیجی ریاستوں، خاص طور پر سعودی عرب کی زبردست مالی اور نظریاتی حمایت کی بدولت تھا۔ یہ حمایت محض فلاحی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بھی تھی، جس کا مقصد اسلام کی مخصوص تشریحات کو فروغ دینا تھا، جو سعودی مذہبی عقائد کے مطابق تھیں۔ اس روشنی میں، سعودی عرب کے دفاع پر ظہیر کا زور دینا، نہ صرف مذہبی میلان کا اظہار ہے، بلکہ یہ ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی ہم آہنگی کا حصہ بھی ہے، جس کا خطے میں مذہبی بیانیے کی تشکیل میں، ایک اہم کردار ہے۔

تاریخی بیانیے کی سطح پر، ظہیر کے اس دعوے کی گہری تحقیق کی جانی چاہیے، کہ اہلِ حدیث کا موقف، ایک 1400 سال قدیم متصل روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے، کہ یہ تحریک ابتدائی اسلامی ماخذ سے استفادہ کرتی ہے، اور حدیث کی پابندی پر زور دیتی ہے، لیکن جنوبی ایشیا میں اہلِ حدیث کی، ایک الگ تحریک کے طور پر تنظیم و ترتیب، ایک حالیہ واقعہ ہے جو 19ویں اور 20ویں صدی میں پیش آیا۔ اس کی تشکیل و ترتیب میں، نوآبادیاتی جدیدیت، داخلی مسلم اصلاحی تحریکوں، اور بعد میں عالمی نظریاتی رجحانات کا بڑا گہرا اثر ہے۔

در اصل ان کے غیر منقطع تسلسل کے دعویٰ سے، ایک اہم مقصد کی تکمیل ہوتی ہے: اس سے اس تحریک کو ایک تخیلاتی معتبریت اور قدامت پسندی کا درجہ حاصل ہوتا ہے، اور اس طرح اس کی قبولیت کا دروازہ کھلتا ہے۔ تاہم، ایسے دعوے ان تاریخی حقائق کو دھندلا کر سکتے ہیں، جن کے ذریعے مذہبی شناختیں تشکیل پاتی ہیں، ان پر گفت و شنید ہوتی ہے، اور وہ تبدیلی کے مراحل سے گزرتی ہیں۔ اس کو تسلیم کرنے سے تحریک کی علمی خدمات کم نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک زیادہ درست اور محتاط تاریخی فریم ورک میں آ جاتی ہے۔

ظہیر کے بیانیے کا ایک اور پہلو, عددی قوت کے دعوؤں کے ذریعے، اجتماعی شناخت کی تحریک کاری ہے۔ ان کا یہ دعویٰ، کہ اہلِ حدیث کے پیروکار پاکستان میں 30 ملین افراد پر مشتمل ہیں، کسی معتبر آبادیاتی اعداد و شمار کی عدم موجودگی میں، ثابت کرنا مشکل ہے۔ ایسے اعداد و شمار، اگرچہ کہنے کے لیے تو مضبوط ہیں، لیکن تجرباتی طور پر مستند تخمینہ ہونے کے بجائے، سیاسی اشارہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس قسم کی باتوں سے اثر و رسوخ دکھانے، اہمیت کا اظہار کرنے، اور ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر، متحرک ہونے کے خدشے کا اظہار کر کے، ریاست پر دباؤ ڈالنے کا کام انجام دیا جاتا ہے۔

اس قسم کی چالبازیاں، خاص طور پر اہلِ حدیث علماء کے اجتماعات کے حوالے سے، ان کے بیانات میں واضح نظر آتی ہیں، جن میں مبینہ طور پر مسجد سے متعلق تنازعات کے حل کا مطالبہ کرنے، اور شورش پیدا کرنے کی وارننگ پر مشتمل قراردادیں منظور کی گئیں ہیں۔ اگرچہ اپنی کمیونٹی کی شکایات اور مسائل کا اظہار، جمہوری عمل کا ایک جائز پہلو ہے، تاہم ایسے مطالبات کو ممکنہ تصادم کے تناظر میں پیش کرنے سے، ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ حمایت اور دباؤ کے درمیان کوئی خط امتیاز ہے کہ نہیں۔ اس سے یہ بات کو بھی اجاگر ہو جاتی ہے، کہ مذہبی تنظیمیں نہ صرف مذہبی اداروں کے طور پر، بلکہ سیاسی اداکاروں کے طور پر بھی، کس حد تک جا سکتی ہیں۔

اہلِ حدیث برادری کے داخلی حالات، اس تصویر کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ظہیر کے ان لوگوں پر طعن و تشنیع کرنے سے، جو علاقائی تنازعات میں ایران کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں، تحریک کے اندر نظریاتی ہم آہنگی نافذ کرنے کی کوشش بھی ظاہر ہوتی ہے۔ ایسے موقف کو شرمندگی کا باعث قرار دے کر، اور ایک مخصوص موقف اختیار کرنے کی تلقین کر کے، وہ اس بات کی حد بندی کر رہے ہیں، کہ برادری کے اندر قابلِ قبول رائے کیا ہے، اور ناقابلِ قبول رائے کیاہے۔ اس داخلی نگرانی سے فرقہ وارانہ تحریکوں کے اندر، پائے جانے والے وسیع تر نمونوں کی عکاسی ہوتی ہے، جن میں اکثر اختلاف رائے کو دبا کر، اتحاد کو زندہ رکھا جاتا ہے۔

یہاں اس بات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، کہ "اہلِ حدیث" جیسی شناختی اصطلاح کو، ایک تھیولوجکل اور سیاسی لیبل دونوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ظہیر کی باتوں میں یہ اصطلاح، محض نظریاتی رجحان کے اظہار کے طور پر نہیں، بلکہ اسلام کی ایک مخصوص تشریح اور مخصوص جغرافیائی و سیاسی اتحادوں، دونوں کے تئیں وفاداری کی علامت کے طور پر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مدخلیت جیسے رجحانات کے ساتھ ضمنی تعلق، جس میں حکمرانوں کی اطاعت اور سیاسی اختلاف سے اجتناب پر زور دیا جاتا ہے، اس بیانیے کو مزید سلفی فکر کے عالمی دائرے میں لے آتا ہے۔

اس سے مذہبی اتھارٹی اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلق کے حوالے سے اہم سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کہ ریاست اور خارجی عناصر کے ساتھ ہم آہنگی، مذہبی قیادت کی خود مختاری کو، کس حد تک بڑھاتی یا محدود کرتی ہے؟ کیا ایسی ہم آہنگی فرقہ وارانہ مفادات کے حصول کو ممکن بناتی ہے، یا یہ آزادانہ تنقید کی صلاحیت سے سمجھوتا کرتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو صرف اہلِ حدیث تک محدود نہیں، بلکہ مختلف مذہبی روایات اور سیاق و سباق میں بھی پائے جاتے ہیں۔

یہاں ایک تقابلی نقطہ نظر کار آمد ہو سکتا ہے۔ ظہیر کے والد، احسان الٰہی ظہیر، اگرچہ خود ایک متنازعہ فیہ اور مباحثہ پسند شخصیت تھے، انہوں نے ریاستی اتھارٹی سے ایک حد تک آزادی کا مظاہرہ کیا، جس میں جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت کے، بعض پہلوؤں کی مخالفت بھی شامل تھی۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے، کہ مذہبی قیادت اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلق، نہ تو مستقل ہے اور نہ ہی یکساں، بلکہ یہ بدلتی ہوئی صورتِ حال کے مطابق، وقت کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتا رہتا ہے۔ ریاست کے خلاف زیادہ تصادمی موقف سے، زیادہ ہم آہنگ یا ہم خیال موقف کی طرف ظاہری تبدیلی، اس تبدیلی کے محرک عوامل پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

فرقہ وارانہ بیانیے کے نتائج محض نظریاتی نہیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے بھری پڑی ہے، جن میں سے بہت سے واقعات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اخراجی تقریر اور 'دوسروں' کو باطل قرار دینے کی وجہ سے پیش آئے۔ ایسے تناظر میں، مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری صرف نظریاتی موقف کے اظہار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسے بیانیے کو فروغ دینا بھی ان کی ذمہ داری بن جاتی ہے، جس میں سماجی ہم آہنگی اور علمی دیانتداری کو ترجیح دی گئی ہو۔

اس ضمن میں ایک مزید تعمیری نقطہ نظر یہ سمجھ میں آتا ہے، کہ مباحثہ کی کلاسیکی اسلامی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جائے، جس میں آپسی اختلافات کے باوجود، اکثر ایک حد تک باہمی اعتراف اور احترام کو زندہ رکھا جاتا تھا۔ اس کے لیے معاصر جغرافیائی و سیاسی حقائق کے ساتھ، مزید احتیاط کے ساتھ نمٹنے کی بھی ضرورت پیش آئے گی، ایک ایسے نقطہ نظر کی بھی ضرورت پیش آئے گی، جو پیچیدہ تنازعات کو فرقہ وارانہ تقسیم میں تبدیل ہونے سے روک سکے۔ اور اس نقطہ نظر میں گہرے عقائد کو ترک کرنے کا تقاضا نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کے اظہار کے لیے ایک ایسے انداز بیان کا مطالبہ کیا جائے گا، جو علمی طور پر مضبوط اور سماجی طور پر قابل قبول ہو۔

ہشام الٰہی ظہیر اور جماعتِ اہلِ حدیث پاکستان کے موجودہ بیانیے کا جائزہ لینے کے بعد، آخر کار یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ جدید مسلم دنیا میں مذہبی اتھارٹی کی نوعیت کیا ہوگی۔ اس کا جواز کیسے تشکیل پائے اور اس سے اختلاف کرنے کی صورت کیا ہو؟ داخلی مباحثوں کو تشکیل دینے میں، خارجی اثرات کا کردار کیا ہو؟ اور مذہبی قیادت روایت کے ساتھ وفاداری، اور عصری چیلنجوں کے جوابی تقاضوں کے درمیان، تناؤ کو کیسے سنبھالے؟

ان سوالات کے جوابات آسان نہیں ہیں، لیکن ان سے تنقیدی طریق کار کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ ایک ایسا مباحثہ جو سریع التاثیر اور متوازن دونوں ہو، اسے مذمت سے آگے بڑھ کر تجزیہ کی طرف، اور مناظرہ سے آگے بڑھ کر افہام و تفہیم کی طرف آنا ہوگا۔ تب ہی اس سے پاکستان اور اس سے باہر مذہب، سیاست اور شناخت کے حوالےسے جاری گفتگو میں، کوئی بامعنی نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

English Article: Sectarian Rhetoric, State Alignments, and the Politics of Religious Authority: A Critical Examination of Contemporary Ahl-e-Hadith Discourse in Pakistan

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/sectarian-rhetoric-state-alignments-politics-religious-ahl-e-hadith-discourse-pakistan/d/139911

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..