خلیق احمد نظامی
(حصہ۔9)
20دسمبر،2025
چھری بغل سے نکال کر سامنے رکھ دی اور ندامت سے کہنے لگا، ”آپ مجھ کو سزا دیجئے“۔ فرمایا: ”ہم درویشوں کامسلک یہ ہے کہ کوئی ہم سے بدی کرتا ہے تو ہم نیکی کے ساتھ آتے ہیں۔تم نے میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی“۔ اخلاق ومحبت کی اس قوت کے سخت دل کو پگھلا دیا او رجوبھی جان لینے کیلئے ان کے پاس آیاوہ اپنا دل دے کر گیا۔

خواجہ اجمیریؒ کی روحانی تعلم کامرکز ی نقطہ وحدت الوجود تھا۔ اس نظریہ کی فلسفیانہ توجیہ جو بھی ہو، عمل زندگی میں اس کامطلب یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی وحدت، رنگ، نسل، زبان، عقیدہ ہر چیز سے بالاتر ہے، اور انسانی برادری میں جو دیوار یں کھینچ گئی ہیں وہ بے حقیقت ہیں۔ انسان کا پہلارشتہ انسانیت کارشتہ ہے۔فرمایا کرتے کہ جب ہم جسمانی تعلقات سے باہر قدم رکھتے ہیں تو عالم توحید ساری دنیا ایک ہی نظر آتی ہے۔وحدتِ انسانی کے اس تصور نے خواجہ اجمیریؒ کی تعلیم میں تاثیر اور زندگی میں تابناکی پیدا کردی تھی۔
خواجہ اجمیریؒ کی تعلیم کا ایک انقلابی پہلو ان کا تصور عبادت تھا۔ وہ خدمتِ خلق کو انسانی عبادت کا نچوڑ سمجھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ خدا کی محبت کی راہ اس کے بندوں کی محبت میں سے ہوکر گزرہی ہے۔ جو انسان چاہتا ہے خدا سے محبت کرے اسے چاہئے کہ خدا کے بندو ں سے محبت کرناسیکھے۔ ایک دن مریدوں نے پوچھا کہ سب سے افضل عبادت کیا ہے؟ فرمایا: ”مظلوم اورعاجز وں کی فریاد رسی، ضعیفوں او ربے سہارا لوگوں کی حاجت روائی او ربھوکوں کاپیٹ بھرنا۔“خواجہ اجمیریؒ کاایک اور قول انسانی تاریخ میں آپ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔فرماتے ہیں کہ انسان کو دریا کی سی سخاوت، سورج کی سی شفقت اور زمین کی سی تواضع اختیار کرنی چاہئے۔ جس طرح دریا، سورج اور زمین اپنے فائدوں کو سب مخلوق کے لیے بلا کسی امتیاز کے عام کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں انسان انسان میں فرق نہیں کرناچاہئے۔
خواجہ اجمیریؒ نے 21مئی 1236ء کو وصال فرمایا۔ دل کے کانوں سے سنئے تو اب بھی مزار سے یہ آواز آتی سنائی دے گی۔
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہئ عالم دوام ما
حضرت بابا فرید گنج شکرؒ: تعلیم، افکار اور شخصیت
مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک جگہ لکھا ہے:”نظام شمسی کی طرح نظام انسانی کے بھی مرکز ومحور ہیں،مگر تم کو ان کا حال نہیں معلوم! تم کواجرام سماویہ کامرکز معلوم کرنے میں جب ہزاروں برس لگ گئے تو نہیں معلوم عالم انسانیت کے نظام ومراکز کے کشف کے لیے کتنا زمانہ درکار ہوگا۔ تاہم یہ معلوم رہے کہ ہر عہد او رہر دور میں خدا کے چند بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وجود ستاروں کے مرکز شمسی کی طرح تمام انسانوں کا مرکز محبت او رکعبہ انجذاب ہوتا ہے۔ اورجس طرح نظام شمسی کاہرمتحرک ستارہ صرف اسی لیے ہے کہ کعبہ شمسی کا طواف کرے، اسی طرح انسانوں کے گروہ اور آبادیوں کے ہجوم بھی صرف اسی لیے ہوتے ہیں کہ اس مرکز انسانیت اور کعبہ ہدایت کاطواف کریں۔“
حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی ذات بلاشبہ ایک ایسا ہی مرکزِ انسانیت تھی جس کے گرد ستر سال سے زیادہ انسانوں کے گروہ اور آبادیوں کے ہجوم اپنی روحانی پیاس بجھانے اور اخلاق وانسانیت کا سبق سیکھنے کے لئے جمع ہوتے رہے۔ اور آج بھی امیر اور غریب، عارف وعامی، شہری اور دیہاتی، عورت او رمرد، ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سب ہی ان کے آستانہ فیض پراس روحانی تسکین کی تلاش میں حاضر ہوتے ہیں، جو اس دورِ مادیت میں قلب انسانی کی سب سے قیمتی کھوئی ہوئی متاع ہے۔بابا صاحبؒ کی اس مقبولیت کارازان کی وہ تعلیم تھی جو زمان ومکان کی پنہائیوں سے بے نیاز ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئی تھی، اورجس کی صدائے بازگشت صدیوں بعد گروگرنتھ صاحب میں بھی سنائی دیتی ہے۔زمانہ روز وشب کی کتنی کروٹیں بدل چکاہے، لیکن ان کی تعلیم کی معنویت اور افادیت آج بھی ویسی ہے جیسی 700 سال پہلے تھی۔ اور یہ اس لیے کہ انسان کی سیرت سازی کاکام جتنا اہم اس وقت تھا، اتنا ہی اہم آج بھی ہے۔ بقول امیر خسروؒ انسان بڑھتے جاتے ہیں اور انسانیت کم ہوتی جاتی ہے۔
بابا صاحبؒ کی جہدوسعی کے مرکز ومحور دو تھے۔(1) انسان کا اس کے رب سے ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑنا، اور (2) انسانی دلوں کو ایک رشتہ الفت میں پرونا۔
ان کا خیال تھا کہ اس دنیائے آب وگل میں وہی انسان تخلیق کائنات کاراز پاسکتا ہے جو اللہ کیلئے جینے کاسلیقہ پیدا کرے۔ان کا بے چین دل رات کی خاموشیوں میں اپنے رب کو بے تابانہ یقین دلاتا تھا۔
مقصود من خستہ ز کونین توئی
از بہر تو میرم، زبرائے توزیم
اللہ کے لیے جینا کہنے کو تو ایک مختصر ساجملہ ہے، لیکن اس میں ایک جہانِ معنی پنہا ں ہے۔ یہ فکر ونظرکاایک ایسا انقلاب ہے جو انسان کے پیکر خاکی میں ایک نئی قوت، ایک نیا عزم او رایک نیا حوصلہ پیداکردیتا ہے۔ وہ روز مرہ کی زندگی کے سب کام کرتاہے لیکن ان کا مقصود مطلوب کچھ اور ہی ہوتاہے۔ جب منشائے الہٰی کے سانچے میں انسان اپنی زندگی کو ڈھال لیتاہے تو قرآن حکیم کی وہ وعید کہ رات اور دن انسان کیلئے مسخرکردیے گئے ہیں، پوری ہوجاتی ہے۔ بابا صاحبؒ کہاکرتے تھے کہ ”چالیس برس تک بندہ مسعود نے وہ کیا جو خدانے چاہا۔ اب جو بندہ مسعود چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے“۔اللہ کیلئے جینے کا یہ ثمرہ انسانی زندگی کی معراج ہے۔ جب انسان اس طرح جینے کا جگر پیداکرلیتا ہے تو وہ کائنات کی سب سے گراں بہا متاع بن جاتا ہے اور اس کے ذریعہ بنی نوع انسان کی اصلاح وتربیت کا کام لیا جاتاہے۔ ایسی ہی شخصیت کو اقبال نے ’بندہ ئمولا صفات‘ کے لقب سے یاد کیا ہے۔
با با صاحبؒ فرماتے تھے کہ معرفت الہٰی کی راہیں انسان دوستی کے کوچوں سے ہوکر گزری ہیں۔جو شخص اللہ کے تعلق پیداکرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی مخلوق سے محبت کرناسیکھے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کا یہ قول کہ سب سے بڑی عبادت شکستہ دلوں کو راحت پہنچانا ہے، ان کاہمیشہ مطمح نظرآرہا۔ انہوں نے خواجہ اجمیریؒ کے اس اعلان کو ایک روحانی قوت میں منتقل کردیا۔ وہ عملاً خواجہ صاحبؒ کے اس اعلان کی تفسیر تھے کہ انسان کودریا کی سی سخاوت،آفتاب کی سی شفقت اور زمین کی سی تواضع پیداکرنی چاہئے۔ دریا، سورج اور زمین اللہ کی شان ربوبیت کے مظہر ہیں کہ ان کی فیاضیاں ہر انسان کے لیے بلا تخصیص مذہب وملت عام کردی گئی ہیں۔ انسان فرض ہے کہ اپنی زندگی میں ربوبیت کی ان صفات کی عکاسی کرے اور انسانیت کے رشتہ کو اور سب رشتوں سے افضل سمجھے۔(جاری)
-----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-9/d/138179
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism