New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:35 PM

Urdu Section ( 29 Dec 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔11)

22دسمبر،2025

حضرت بی بی فاطمہ سامؒ

ایلتتمش کی دلّی ہے۔عرب او رعجم کے بے شمار صوفیہ، مشایخ اور علماء پروانوں کی طرح یہاں جمع ہورہے ہیں۔لاہور سے لکھنوتی اوردلّی سے مالوہ تک ساراعلاقہ اس کے زیر نگیں ہے۔آسماں سے باتیں کرتے ہوئے مینار، آئینہ کی طرح شفاف پانی سے بھرے ہوئے حوض، عظیم الشان مسجدیں او رمدرسے کسی نئے دور کے آغاز کااعلان کررہے ہیں۔چنگیز کی فوجوں نے عجم کے سیاسی او رسماجی نظام کاتاروپود بکھیر دیاہے لیکن دہلی کی سلطنت اپنی پوری عظمت اور شان کے ساتھ ہزاروں برگشتہ قسمت انسانوں کی امیدوں کامرکز بن کر اُبھررہی ہے۔اور بقول امیر خسروؒ۔

حضرت دہلی کنف دین و داد

جنت عدن است کہ آباد باد

ہست چو ذات ارم اندر صفات

حرّ سہا اللہ عن الحاد ثات

ملک ز دروازہ او فتح یاب

سیز دہ دروازہ او فتح یاب

سیزدہ دروازہ وصد فتح باب

نام بلند ش رہ بالا گرفت

تا بہ ختن شد رہِ یغما گرفت

گر شنود قضہ ایں بوستاں

مکہ شود طائف ہندوستان

اس سیاسی تک ودو کے زمانہ میں اللہ کے کچھ بندے دنیاوی جاہ و جلال سے بے نیاز، شہر کے ہنگاموں سے دور، بوسیدہ جھونپڑوں اور ٹوٹے ہوئے  چھپّر وں میں بیٹھے اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں، اور جو بھی ان کے قریب پہنچ جاتاہے اس کے دل میں اللہ کی محبت او رانسانیت کے احترام کابیج بو دیتے ہیں۔ اندرپت میں ایک درویش عورت سلطان اور سیاست سے بے تعلق، ایوان امارت وتصدرسے دور،ایک شکستہ چھپّر کے نیچے اپنے خالق سے لَو لگائے بیٹھی ہے۔ اس کااندازِ نظراپنے زمانے سے جدا ہے۔ اس کے دل میں یہ بات جاگزیں ہوچکی ہے کہ عشق الہٰی کے بغیر انسان کی زندگی نامکمل ہے۔ ’الفقر فخری‘ سے اس کا جھونپڑا پرُنور بناہوا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سورج اس کے جھونپڑے پر چمکا ہو او راس کو روزہ سے نہ پایاہو۔ ایک کنیز شام کی جَو کی دوروٹیاں او رپانی کا ایک کوزہ اس کے مصلے کے پاس رکھ جاتی ہے لیکن اس کی درد مندی خلق اسے گوارا نہیں کرتی کہ کوئی انسان پڑوس میں بھوکا سویا ہو اور وہ خود اپنا پیٹ بھرلے۔ چنانچہ ان روٹیوں میں وہ ان لوگوں کو بھی شریک کرلیتی ہے جنہوں نے فاقہ سے رات گزاری ہے۔ فاقوں سے نڈھال ایک درویش کے پاس جب اس کی بھیجی ہوئی روٹی پہنچتی ہے توبے اختیار آسمان کی طرف دیکھ کرکہتاہے:”اے اللہ! اس عورت کی سی روشن ضمیری بادشاہوں کو بھی دے کہ غریبوں کی حالت باخبررہ سکیں“۔ اس کے ماحول سے روحانیت او رپاکیزگی کی شعاعیں ہر سمت میں پھوٹ رہی ہیں۔ عبادت اور ریاضت کے باوجود اس عورت کی طبیعت کی شگفتگی کا یہ عالم ہے کہ بات بات پر شعر زبان پر آتاہے اور ایسا محسوس ہوتاہے کہ عشق الہٰی کے شرار ے شعر کا پیکر اختیار کررہے ہیں۔ یہ تھیں بی بی فاطمہ سامؒ، جن کو ”رابعہ ئ دہلوی“ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا۔ انہیں کا ذکر اس مضمون میں کرناہے۔

ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں ہزارو ں صوفیہ او رمشایخ کے حالات اور کارنامے ملتے ہیں، لیکن ان بزرگ خواتین کے تذکرے تفصیل سے نہیں ملتے جنہوں نے اپنی پاک زندگیاں ان ہی مقاصد کے لیے وقف کردی تھیں جن کے لیے صوفیہ کوشاں رہتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا سبب غالباً یہ تھاکہ عورتوں کی زندگی او ران کی روحانی جہد وسعی کی تفصیلات معلوم کرنے کے ذرائع وجود نہ تھے۔ قرونِ وسطیٰ کے حالات کے پیش نظر یہ شاید ممکن بھی نہ تھا۔ شیخ اکبرمحی الدین ابن عربیؒ نے فتوحات مکیہ میں لکھا ہے:

وکل مانذ دکرہ من ھولای الرّجال باسم الرجال فقد یکون منھم النسای ولکن یفلب ذکرالرجال۔ قیل لبعضھم کم الابدل؟ قال: ار بعون نفسا لہ: لم لاتفول اربعون رجالا؟ فقال: قد یکون فیھم النساء۔

ترجمہ۔ وہ تمام لوگ جن کاذکر ہم ان لوگوں میں مردوں کے نام سے کرتے ہیں ان میں عورتیں بھی ہیں۔ لیکن مردوں کا ذکر غالب ہے۔ ان میں سے کسی سے پوچھا گیا کہ کتنا ابدال ہیں؟ کہا: چالیس افراد۔پھر پوچھا گیا کہ آپ چالیس مرد کیوں نہیں کہتے؟ تو انہوں نے کہا کہ ان میں عورتیں بھی توہیں۔

یہ صحیح ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے حالات کی طرف توجہ ہی بہت کم کی گئی ہے۔ شیخ ابوعبدالرحمن السلمی (م 1021ء) غالباً پہلے مصنف تھے جنہوں نے بزرگ عورتوں کے احوال میں علیحدہ کتاب تصنیف کی تھی۔بعد کو یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ کتاب کے آخر میں بزرگ عورتوں کا ذکر کیا جانے لگاجیسا مولانا جامیؒ نے نفحات الانس میں کیا ہے۔ ہندوستان کے صوفی تذکرہ نگاروں نے جن میں شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے، ان خواتین کاحال لکھے بغیر اپنے تذکروں کو نامکمل سمجھا۔

ہندوستان میں جن خواتین کی روحانی عظمت او ربزرگی کی داستانیں صوفی حلقوں میں گردش کرتی نظر آتی ہیں ان میں حضرت بی بی فاطمہ شامؒ کا نام خاص طورپرقابل ذکر ہے۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ:

”مشغولی ایں عورت مایہ وہ مردِ کاامل است“۔

ترجمہ: اس عورت کی (عبادت وریاضت میں) مشغولی دس کامل مردوں کے برابر ہے۔

چودہویں صدی عیسوی کے شروع میں ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بقول صاحب سیرالاولیاء:

”روضہئ اوقبلہ حاجات خلق گشتہ“

ترجمہ: ان کا روضہ خلق خدا کی حاجات کا قبلہ بنا ہوا تھا۔

حضرت بی بی فاطمہ سامؒ کے حالات زندگی تفصیل سے نہیں ملتے، لیکن قدیم ملفوظات اورتاریخ میں ان کے متعلق جو کچھ بھی درج ہے اس سے ان کی روحانی بزرگی، خدمت خلق کے بے پایاں جذبے اور غیر معمولی ادبی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ ان کی شخصیت میں روحانیت، انسانیت اور ادبیت کا وہ حسین امتزاج تھا جس کی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کا ذکرصرف دہلی ہی کی خانقاہوں میں نہیں رہتا تھا، بلکہ اوجودہن سے لے کر گلبر گہ تک ان کی شہرت پھیلی ہوئی تھی۔(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-11/d/138214

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..