New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:33 PM

Urdu Section ( 3 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔16)

27دسمبر،2025

کسی نے سچ کہا ہے۔

چیست انسانی! تپیدن از تب ہمسائگاں

ازسموم نجد درباغِ عدن پژماں شدن

خواریدن خویش را از خواریئ ابنائے جنس

درشبستاں تنگ دل از محنت زنداں شدن

آتشے قحطے کہ کنعان بسوز دباغ وگشت

برفرازِ تختِ مصر از تابِ آں بریاں شدن

آگ کاذکر آیاہے تو ایک واقعہ سنتے چلئے۔گرمیوں کے دن تھے، خانقاہ کے قریب وجوار میں جھونپڑیوں میں غریب لوگ رہتے تھے۔ دوپہر کو ان جھونپڑیوں میں آگ لگی اور بہت سے لوگ دیکھتے دیکھتے بے گھر ہوگئے۔ حضرت محبوب الہٰیؒ گھبرا کر ننگے پیر اور ننگے سر چھت پر پہنچ گئے۔خانقاہ سے لوگوں کو دوڑایا کہ آگ کو قابو میں لائیں۔خود بے چین او رمضطرب چھت پر کھڑے تھے۔ آگ کاجو شعلہ بھی اٹھتا تھا اس سے خود ان کا دل سلگنے لگتا تھا۔ جو شخص اپنی مجلس میں کسی شخص کو دھوپ میں دیکھتاتو بے اختیار پکار اٹھتا تھا کہ ’دھوپ میں بیٹھے تو یہ ہیں اورجلتا میں ہوں‘۔اس پر ان چند گھنٹوں میں جو گزری اس کا اندازہ کون لگاسکتا ہے۔ جب آگ کے شعلے دب گئے تو کچھ لوگوں کو بھیج کر یہ شمار کرایا کہ کتنے گھر متاثر ہوئے ہیں۔ پھر ہر گھر کو ایک طشت میں کھانا،ایک صراحی پانی اور دو تنکے بھیجے۔

ایک دن جمنا کے کنارے ٹہل رہے تھے۔ دیکھا کہ ایک کنویں سے بوڑھی عورت پانی بھررہی ہے۔ اس کے پاس پہنچے اورپوچھا کہ جمنا کے اتنے قریب ہوتے ہوئے کنویں سے پانی کھینچنے کی مشقت کیوں برداشست کرر ہی ہو؟ بولی: ”میرا شوہر بہت مفلس او رغریب ہے۔ہم جمنا کا پانی پیتے ہیں تو بھوک جلد لگنے لگتی ہے“۔ یہ جملہ سن کر محبوب الہٰیؒ کادل بے چین ہوگیا اور پابندی کے ساتھ روزانہ اس کو کھانا جماعت خانہ سے جانے لگا۔

جب انسانی دل اس طرح دوسروں کے غموں کا بوجھ اپنے اوپر اٹھالے تو وہ ایک ایسی قوت بن جاتا ہے جس کے ذریعہ تخلیق انسانی کا مقصد پوار ہوتا ہے۔

بقول اقبال۔

یہی مقام ہے مؤمن کی قوتو ں کا عیار

اسی مقام سے آدم ہے ظلِ سبحانی

حضرت محبوب الہٰیؒ کی تعلیم کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ آدم گری کو ایک کارنبوت سمجھ کر انجام دیا جائے۔ انہوں نے سترسال سے زیادہ دہلی میں انسانیت کی ذہنی او رعملی سطح کو بلند کرنے میں صرف کیے۔ انسان کو انسانیت کا سبق دیا اور بتایا کہ ان خاکدانِ ارضی پر فوز وکامرانی کے الفاظ اس وقت تک شرمندہئ معنی نہ ہوں گے جب تک انسان انسانیت کا احترام کرنانہ سیکھے گا۔کہتے ہیں کہ انسان کو نظام ربوبیت سے اپنے فکر و عمل کے اصول سیکھنے چاہئیں انسان خلیفۃ اللہ فی الارض کی مسند کا اسی وقت مستحق ہوسکتاہے جب وہ عملاً الخلق عیال اللہ کا قائل ہوجائے اور انسانی کنبہ میں اتحاد واتفاق کی فضا پیدا کرنے کو اپنا فرض سمجھنے لگے۔ سنت اللہ انسانوں میں فرق نہیں کرتی۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو دریا جیسی سخاوت، آفتاب کی سی شفقت اور زمین کی سی تواضع پیدا کرنی چاہئے۔ جب تک انسان نظام ربوبیت سے ہم آہنگی پیدا نہیں کرے گا وہ تخلیق انسانی کا مقصد کبھی پورا نہیں کرسکتا۔ حضرت محبوب الہٰیؒ ایک قصہ اکثر اپنی مجلسوں میں بیان فرمایا کرتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بغیر مہمان کو شریک کیے کھانا نہ کھاتے تھے۔ایک بار ایک مشرک مہمان تھا، اس کو شریک طعام کرنے میں ان کو تامل ہوا، فوراً وحی الہٰی نازل ہوئی:

”اے ابراہیم! ہم اس شخص کوجان دے سکتے ہیں، اور تو اس کوروٹی نہیں دے سکتا؟“۔

’سنن ابوداؤد‘ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل کو آخر شب میں اپنے رب سے جو سرگوشیاں اور دعا ومناجات کرتے ہوئے سنا گیا تھا اس میں ایک فقرہ یہ تھا:”میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سب بندے بھائی بھائی ہیں۔“ حضرت محبوب الہٰیؒ کا عمل اسی حدیث پر تھا اور انسانی قلوب کو ایک رشتہ الفت میں پرونے کی کوشش کرتے تھے۔

حضرت محبوب الہٰیؒ نے انسان کی اخلاقی سطح بلند کرنے کی جو جدوجہد کی، اس کے نتائج کو معاصر مؤرخ ضیاء الدین برنی نے ایک جملہ میں بیان کردیاہے:”معاصی میانِ مرد ماں کم شدہ بود“۔ یعنی انسانوں میں گناہو ں سے رغبت کم ہوگئی تھی۔لکھا ہے کہ شراب نوشی، فسق و فجور، احتکار، سود خوری وغیرہ سے لوگ اجتناب کرنے لگے تھے او رایک عظیم الشان نتیجہ یہ نکلا تھا کہ شیخ کی تعلیم کے زیر اثر حفظِ قرآن کی طرف رغبت پیدا ہوگئی تھی۔

”بیشترے مرد ماں درآں ایام خیر

اہتمام یادگرفتن قران پیدا آمد ہ بود“۔

یہ کیفیت کس طرح صورت پذیر ہوئی! اگر ’فوائد الفؤد‘ کا مطالعہ اس طرح کیاجائے کہ اس میں ہوئی مجلسوں کی تاریخوں کو ا س دور کے سیاسی اور سماجی حالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو فکر ونظر کی ایک نئی دنیا آنکھوں کے سامنے آجائے اور شیخ نظام الدین اولیاؒ کے نظام اصلاح وتربیت کو تاریخی حقائق کی روشنی میں سمجھا جاسکے۔ خاکسار اپنی علمی بے بضاعتی کے باوجود اس سلسلہ میں جو کوشش کررہا ہے اس کے تفصیلی تنائج انشاء اللہ جلد پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جائے گا۔ مثال کے طور پردو واقعات سنئے۔ ’خزائن الفتوح‘ میں لکھا ہے کہ 24 محرم 710ھ کو ملک کا فوردکن کی مہم سے واپس آیا اور بے پناہ مال ودولت، زر وجواہر ساتھ لایا۔چبوترہ ناصری پر یہ دولت سجادی گئی۔جو دیکھتا تھا اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی تھیں۔ ’فوائد الفؤاد‘ سے معلوم ہوتاہے کہ 25محرم 710ھ کو یعنی اگلے دن حضرت محبوب الہٰیؒ نے اپنی مجلس میں دولت اور اس کے استعمال پر گفتگو فرمائی اور کہاکہ اس کاصحیح مصرف یہ ہے کہ عوام کے فائدہ کے لیے استعمال کی جائے:

”از جمع سیم وزر کار آنست کہ ازدیگر منفعت برسد“۔

سلطان علاء الدین خلجی کی زندگی کے آخری دن ہیں۔ مجلس شیخؒ میں ایلتتمش کاذکر ہوتاہے۔ فرماتے ہیں اس کی بخشش حوض شمسی کی تعمیر کے باعث ہوئی کہ اس سے تمام دہلی کو پانی ملا تھا۔ دہلی کے لوگ جانتے تھے اور سلطان علاء الدین بھی اس سے واقف تھا کہ شیخؒ تاریخ وتمثیل سے کیا کام لیتے تھے۔(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-16/d/138289

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..