New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:31 PM

Urdu Section ( 5 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔18)

29دسمبر،2025

گجرات میں شیخ احمد مغربیؒ کی مجلس میں شیخؒؒ کی روحانی عظمت پر گفتگو ہورہی تھی، تو ایک بزرگ نے کہا کہ اکثر مشایخ کواللہ تعالیٰ نے ایک قوت عطا فرمائی ہے اور وہ ہے مشغول بحق، لیکن شیخ نظام الدینؒ کو اللہ تعالیٰ نے دو قوتیں عطاکیں ہیں: مشغول بحق،او ربنی نوع انسان کے غم کا بوجھ اٹھانے کی اہمت اور طاقت۔ اس میں کوئی مبالغہ نہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف دوسروں کے غمو ں کابوجھ اٹھایا بلکہ اپنے رات اور دن انسان کو انسان بنانے میں صرف کردیئے۔ انہوں نے اپنے نفس گرم سے اخلاق کے بے روح تصورات میں جان ڈالی۔ وہ اپنی زندگی میں اخلاقی تعلیم اور روحانی تربیت کاایک روشن مینارہ تھے جس سے انسانی زندگی کی تاریک راہوں میں اجالا ہوگیا تھا۔ ان کی جہدو سعی کا مرکز محور اخوت کی جہاں گیری او رمحبت کی فراوانی تھا۔ وہ دشمن سے بھی بھلائی سے پیش آنے کا درس دیتے تھے۔فرماتے تھے کہ براکہنا برا ہے۔، براچاہنا اس سے بھی برا۔شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ کی یہ رباعی اکثر ان کی زبان پر رہتی تھی۔

ہرکہ مارا مار نبود ایزد او را یار باد

وانگہ مارا رنجہ دارد  راحتش بسیار باد

ہرکہ او در راہ خارے نہد از دشمنی

ہرگلے گز باغ عمر ش بشکفد بے خار باد

جو راہ میں کانٹے بچھانے والے کے لیے دعا کرے کہ اس کی زندگی کے باغ میں جو پھول بھی کھلے وہ بے خار ہو، اس کی اخلاقی اور روحانی بلندیوں کا اندازہ لگانے کیلئے قلب ونظر کی اورہی وسعت درکار ہے۔ ان کی ساری تعلیم کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ انسان کابقاکا راز انسانیت کے احترام میں ہے۔

ہندوستان میں کسی صوفی بزرگ کی زندگی میں خلفاء کی اتنی تعداد ملک کے طول وعرض میں نہیں پھیلی جتنی شیخ نظام الدین اولیاؒ، کی زندگی میں ان کے مریدوں کی۔ ان کی خانقاہیں گوشہ گوشہ میں قائم ہوگئی تھیں۔ صدیوں تک ان خانقاہوں نے انسان کے ضمیر کوبیدار کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ حضرت محبوب الہٰی کی تعلیم کو عام کرنے او رملک کے مستقبل کوسنوارنے کے لیے ہر انسان تک پہنچا نے کی ضرورت اتنی کبھی نہیں تھی جتنی آج ہے۔

اٹھ کہ خورشید کا سامان سفر تازہ کریں

نفس سوختہ شام وسحر تازہ کریں

حضرت محبوب الہٰیؒ کا پیغام انسانیت کے نام

حضرت محبوب الہٰیؒ کا قول ہے جس میں مشایخ سلسلہ کے نظام تعلیم و تربیت کی روح سمٹ آئی ہے کہ تعلیم زبان سے نہیں، عمل دینی چاہئے۔ عمل کی دلکشی طاقت زبان سے کہیں زیادہ ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ فضا میں گم ہوجاتے ہیں، عمل دل وجان میں اس طرح سرایت کرجاتاہے۔

شاخ گل میں جس طرح بادِ سحرگاہی کانم

چنانچہ حضرت محبوب الہٰیؒ کی پوری زندگی انسانیت کے نام ایک پیغام ہے ان کے عمل وکردار میں اخلاق وانسانیت کی اعلیٰ قدریں اس طرح سمٹ آئی تھیں کہ امیر خسروؒ ان کو بے اختیار ’شرف آدم‘ او ر’طبیب دل‘ کہہ کر خطاب کرتے ہیں۔ دردمندی خلق نے ان کو شرف انسانیت کے مرتبہ پرپہنچادیا تھا۔

دریائے جمنا ایک زمانہ میں حضرت کے جماعت خانہ کا عکس اپنے سینے سے لگائے برابر سے گزرتاتھا۔ وہاں کا منظر امیر خسرو نے اس طرح کھینچا ہے۔

برلب جوز آبِ خنک برہمناں

غسل کنند آخر شب غوطہزناں

ایک دن صبح سویرے ہندو جمنا کے کنارے اپنی پوجا پاٹ میں مصروف تھے۔ حضرت محبوب الہٰیؒ اپنے جماعت خانہ کی چھت پر یہ منظر دیکھ کر بولے۔

ہر قوم راست را ہے، دینے وقبلہ گاہے

ہر قوم کا ایک طریقہ عبادت او رمرکز ہوتاہے

اس جملہ میں ہندوستان کی مذہبی او رتہذہبی رنگا رنگی کا پورا تصور سمٹ آیا ہے۔ یہ جملہ صرف ا س شخص کی زبان سے ادا ہوسکتاتھا جس نے ہندوستان کے تہذیبی نقشے میں مختلف اقوام وملل کو ایک قوس قزح کی طرح دیکھا ہو۔ امیر خسروؒ نے اس مسلک کی وضاحت اس طرح دیوان نہایت الکمال میں کردی ہے۔

شناختی چو روش ہائے جملگی ادیان

طریق ملت احمد گزیں زکل ملل

مذہب پرحقیقی استقامت یہ ہے کہ اس کے بنیادی عقائد پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے دوسرے طریقہ ہائے فکر کی تعریف کھلے دل سے کی جائے۔اسی بنیادی تعلیم کے زیر اثر امیر خسروؒ نے ہندو علوم کامطالعہ کیا تھا او ربالآخر نتیجہ پر پہنچے تھے۔

نیست ہنود ارچہ کہ دیندار چوما

ہست بسے جائے باقرا ر چوما

ہندو اگرچہ ہمارا سامذہب نہیں دیکھتے،لیکن بہت سی باتیں ہم میں مشترک ہیں پھر کہا۔

اے کہ زبت طعنہ بہ ہندو بری

ہم زدے آموز پرستش گری

اقبال کا خیال تھا کہ حقیقی مذہبی رواداری کا آئینہ دار اس سے بہتر شعر ملنا مشکل ہے۔

مذاہب عالم سے اس نوع کابرتاؤ حضرت محبوب الہٰیؒ کی فکر کا بنیادی عنصر تھا۔ اس کی بنیاد قرآن حکیم کے اس ارشاد پرتھی جس میں اسلام کی راہ یہ بتائی گئی ہے: لا ئفرق بین اخد منھم ونحن لہ مسلمون

مولانا آزاداس کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

”ہم خدا کے رسولوں میں سے کسی کو بھی دوسرے سے جدا نہیں کرتے(کہ کسی کومانیں، کسی کونہ مانیں)، ہم تو خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں (اس کی سچائی کہیں بھی آئی ہو او رکسی کی زبانی آئی ہو، ہمارا اس پرایمان ہے)“۔

حضرت محبوب الہٰیؒ کے یہاں آنے والوں کا جو عالم تھا اس کی ایک جھلک ضیاء الدین برنی کی ’تاریخ فیروز شاہی‘ میں ملتی ہے۔دہلی غیاث پور جانے والی سڑکوں پر ایک ہجوم رہتا تھا۔ہزاروں محبت اور عقیدت سے سرشار انسان خانقاہ کی طرف جاتے نظر آتے تھے۔ ان لوگوں کی سہولت اور آرام کے لیے راستہ میں چبوترے بنائے گئے تھے چھپرڈالے گئے تھے، اور کنویں کھود کر ان پر مٹکے او رلوٹے رکھے تھے تاکہ ”صالحان ر ادرآمد وشد آستاہ شیخ از برائے وضو ساختن بوقت گزاردن نماز خاطر متعلق نہ گردو“۔(جاری)

------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-18/d/138306

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..