New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:33 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔19)

30دسمبر،2025

ان سب آنے والوں کو جماعت خانہ سے کھانا ملتا تھا۔ خانقاہ کے دروازے پر گھڑے، مٹکے اور صراحیاں رکھی رہتی تھیں، جس کو ضرورت ہو لے جاسکتا تھا۔

دوسری طرف فتوحات کا یہ عالم تھا کہ بقول شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دریائے جمنا کو سونے چاندی میں بدل کر خانقاہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

ایک دن حضرت محبوبِ الٰہیؒ دریائے جمنا کے کنارے ٹہل رہے تھے۔ دیکھا ایک بڑھیا کنویں سے پانی بھر رہی ہے۔ ٹہر گئے۔ پوچھا: ’’بی بی! دریائے جمنا اتنے قریب ہوتے ہوئے کنویں سے پانی کھینچنے کی مشقت کیوں اٹھا رہی ہو؟‘‘ بڑھیا نے جواب دیا : ’’میں اور میرا میاں بہت تنگدست ہیں۔ جمنا کا پانی پی کر کھانا جلدی ہضم ہوجاتا ہے۔‘‘ حضرت محبوبِ الٰہیؒ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ فوراً خانقاہ واپس آئے اور خادم اقبال کو بھیجا کہ اس عورت کے گھر کا پتہ لگائیں اور پھر روزانہ اس کے گھر کھانا بھیجتے رہے۔

ایک دن خانقاہ کے قرب و جوار میں آگ لگ گئی اور بہت سے جھونپڑے جل کر خاکستر ہوگئے۔ آپ کو پتہ چلا تو گھبرا کر ننگے پیر جماعت خانہ کی چھت پر پہنچ گئے اور خانقاہ کے لوگوں کو آگ بجھانے کے لیے بھیج دیا۔ جب تک آگ نہ بجھ گئی بے تابانہ چھت پر کھڑے رہے۔ پھر ہر ایک کے گھر میں کھانا اور پانی کا ایک گھڑا بھیجا اور ان کی آبادکاری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

خدمتِ خلق میں اس طرح مصروف انسان کی خود اپنی زندگی کیا تھی؟ خانقاہ میں کھانا دن بھر چلتا رہتا، لیکن خود ان کا روزہ ہوتا تھا۔ سحر کے وقت بھی بہت کم کھاتے تھے۔ ایک  دن خواجہ عبدالرحیم نے بہت ہمت کرکے کہا، مخدوم کم کھانے سے بہت کمزوری ہوجائے گی۔ فرمایا : ’’عبدالرحیم! اس وقت دہلی کی سڑکوں اور دکانوں پر بعض ایسے لوگ سوئے ہوئے ہیں جن کو رات کھانا نہیں ملا ہے۔ ان کا خیال آتا ہے تو یہ لقمے حلق میں اٹکنے لگتے ہیں۔‘‘ کسی نے سچ کہا ہے   ؎

چیست انسانی؟ تپیدن از تپ ہمسائگاں

از سمومِ نجد در باغِ عدن پژماں شدن

انسانیت کیا ہے؟ یہی کہ اپنے ہمسائے اگر گرمی میں ہوں تو وہ گرمی خود انسان محسوس کرنے لگے۔ باغ عدن میں ہوتے ہوئے، نجد کی گرم ہواؤں کے تصور سے رنجیدہ ہوجائے۔

پھر اسی تصویر کا ایک اور رخ دیکھئے۔ حضرت محبوبِ الٰہیؒ کو گنے پسند تھے۔ ایک مرتبہ بہت دن گنا کھائے ہوئے ہوگئے تھے۔ کچھ گنے دور سے کوئی شخص لے کر آیا۔ ان کی گنڈیاں کروائیں اور حاضرین میں تقسیم کردیں اور خود نہیں چکھیں، بلکہ فرمایا ان کو کھلا کر ایسا ہی مزہ آرہا ہے گویا میں خود کھا رہا ہوں۔

ایک دن حاضرین میں سے ایک شخص بے اختیار کہہ اٹھا کہ حضور کو سب وہ نعمتیں حاصل ہیں جن کے لیے لوگ دن رات کوشاں ہوتے ہیں۔ لوگ بلاطلب سب چیزیں آپ کی خدمت میں لاتے ہیں۔ آپ کی زندگی بڑے آرام کی زندگی ہے۔ یہ بات سن کر آپ تڑپ اٹھے۔ فرمایا : ’’لوگ اس اعتقاد و یقین سے میرے پاس آتے ہیں اور تحائف لاتے ہیں کہ میری دعا سے ان کے دکھ درد دور ہوجائیں گے۔ میں جب اُن کے لیے دعا کرتا ہوں ان کے دکھ درد کو خود اپنے اوپر طاری کرتا ہوں کہ بغیر اس کے دعا قبول نہیں ہوتی۔ پس جو شخص بے شمار انسانوں کا دکھ درد اپنے اوپر طاری کرکے رب العزت سے دعا کرتا ہو، اس کی زندگی میں راحت کہاں؟‘‘ یہ تھی محبوبِ الٰہیؒ کی وہ تعلیم جس نے ان کو ہر خاص و عام کی نگاہ میں محبوب بنا دیا تھا۔

حضرت محبوبِ الٰہیؒ نے اپنی زندگی اور اپنے کردار سے انسان کو انسانیت کا احترام سکھایا اور خدمتِ خلق کو عبادت کا درجہ دیا۔ ایک دن ایلتتمش کی جہانکشایانہ ہمتوں اور کامیابیوں کا کسی نے ذکر کیا۔ فرمایا: ’’اس کی بخشش حوض شمسی کے بنانے سے ہوئی، جس سے مخلوق کو پانی ملا۔‘‘ دکن سے بے شمار دولت علاء الدین خلجی کے زمانہ میں آئی اور چبوترہ ناصری پر سجا دی گئی۔ ساری مخلوق اس کو دیکھنے کے لیے ٹوٹ پڑی، خانقاہ میں اس کا ذکر ہوا تو فرمایا: ’’دولت کا اصل استعمال یہ ہے کہ خلقِ خدا کے فائدے کے لیے استعمال کی جائے۔‘‘ اسی تعلیم کی آوازِ بازگشت خسروؒ کے یہاں ملتی ہے۔ مبارک خلجی کو نصیحت کرتے ہیں   ؎

آں عمل آرند کہ در دیہ و شہر

منعم و مفلس شود آسودہ بہر

اس طرح کا نظام ہونا چاہیے کہ شہر و دیہات میں منعم و مفلس دونوں کو فائدہ پہنچے۔

پھر حضرت محبوبِ الٰہیؒ نے خدمتِ خلق کو مذہبی عبادت سے اونچا درجہ دے کر مذہبی فکر میں ایک انقلاب پیدا کردیا۔ فرمایا : ’’طاعت دو طرح کی ہوتی ہے: طاعت لازمی، یعنی نماز روزہ اوراد وغیرہ اور طاعت متعدی یعنی غریبوں کا پیٹ بھرنا اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا۔‘‘ پھر فرمایا : ’’طاعت متعدی کا ثواب طاعت لازمی سے زیادہ ہے۔‘‘ اس تعلیم نے انسانیت کے احترام کا ایک نیا باب کھول دیا تھا۔

حضرت محبوبِ الٰہیؒ نے اپنی زندگی اور اپنے کردار و عمل سے انسان کو انسانیت کا احترام سکھایا۔ انسانی برادری کو عملاً الخلق عیال اللہ سمجھا۔ ایک مرتبہ فرمایا،: ’ ’روٹی دینے اور بھوکے کا پیٹ بھرنے میں کسی طرح کا کوئی فرق مذہب یا عقیدہ کی بنا پر نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بار ایک غیرمذہب کے آدمی کو کھانے میں شریک کرنے سے گریز کیا تھا، تو وحی الٰہی نازل ہوئی : اے ابراہیم! ہم اس انسان کو جان دے سکتے ہیں اور تو روٹی نہیں دے سکتا۔‘‘ اس سلسلہ میں انہوں نے چنگیز خاں کی تعریف کی کہ وہ روٹی دینے میں کسی طرح کا کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔’فوائدالفؤاد‘ میں وہ عملی کردار جس کا ذکر ابتدا میں کیا ہے پورے ملفوظات میں متحرک نظر آتا ہے۔ اس میں بے شمار کہانیاں اور واقعات درج ہیں، لیکن وہ کسی نظریہ کے عملی پہلو کو واضح کرتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ’فوائدالفؤاد‘ کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ خاکسار کے پاس ’فوائدالفؤاد‘ کا ایک قلمی نسخہ ہے جس کو ایک ہندو راجہ نے اس عقیدہ سے نقل کرایا تھا کہ جو شخص جس مقصد کے لیے اس کو نقل کراتا ہے وہ مقصد دوران کتابت ہی پورا ہوجاتا ہے۔ یہ نسخہ میں نے ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر تارا چند کو دکھایا تھا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے بغداد میں، جب وہ ہزار سالہ جوبلی میں شرکت کے لیے گئے تھے اور خاکسار بھی شریک ہوا تھا، متعدد محفلوں میں اس کا ذکر کیا۔ ذاکر صاحب نے ’فوائدالفؤاد‘ کا نسخہ خود اپنے ہاتھ سے نقل کیا تھا۔ (جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-19/d/138319

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..