خلیق احمد نظامی
(حصہ۔21)
1 جنوری،2026
یہاں کی خاموشی علمی ودینی فضا نے نخشبیؒ کے دامن دل کو پکڑ لیااور وہ بدایوں پہنچنے کے بعد بدایوں کے ہوگئے۔

’تذکرۃ الواصلین‘ میں مولانا ضیاء الدینؒ کے بدایوں میں قیام کرنے کے سلسلہ میں ایک واقعہ لکھاہے۔ جب نخشبیؒ بدایوں تشریف لائے۔ تو جس مکان میں مقیم تھے اس کے ہمسایہ میں ڈھول بجتا ہوا سنا۔ لوگوں سے وجہ پوچھی، معلوم ہواکہ مالک خانہ کی سالگرہ کی خوشی میں لوگ عیش و نشاط میں مصروف ہیں۔ فرمایا:”یہ بہت اچھی جگہ ہے کہ یہاں کے لوگ عمر کے کم ہونے پر خوشی کرتے ہیں۔ یہاں سے نہ جاناچاہئے“۔
نخشبیؒ نے اپنے وطن کی بربادی اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔چنانچہ ان کی طبیعت آسائش کی زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوئی۔ انہوں نے ایک گوشہ میں اپنا مسکن بنالیا اور رہنے لگے۔خود کہتے ہیں۔
آنکہ ویرا جہاں دید است
خشت برخشت ہیچگہ نہ نہند
شیخ شہاب الدین مہمرہؒ سے تلمذ
ایسا معلوم ہوتاہے کہ جب ضیاء نخشبیؒ بدایوں پہنچے تو ان کی نوعمری کا زمانہ تھا اور وہ تکمیل علوم سے بھی پوری طرح فارغ نہیں ہوئے تھے۔چنانچہ بدایوں پہنچ کر شہاب الدین مہمرہؒ کے دامن کمال سے وابستہ ہوگئے اور ان سے کسب علوم کرتے رہے۔
شیخ مہمرہؒ سے تلمذ کی روایت ’تذکرہ الواصلین‘ میں درج ہے۔ خود نخشبیؒ نے کسی جگہ اس کی بابت کچھ نہیں لکھا۔صاحب تذکرۃ الواصلین نے اپنے ماخذکا حوالہ نہیں دیا۔ اور تذکرہ نویس بھی اس مسئلہ میں خاموش ہیں۔’معارج الولایت‘میں ان کے مزار کے سلسلہ میں لکھا ہے:”مرقدِ اودر بداؤں است، قریبِ روضہ صاحب پیش نماز گاہ شمسی پایاں قبر شیخ محمد استاذ ِ خود بسیار غریبانہ ومردانہ خفت است“۔
’تذکرۃ الواصلین‘ میں لکھا ہے کہ نخشبیؒ کی قبر چبوترہ شہاب مہمرہؒ پر واقع ہے۔میرے خیال میں ’معارج الولایت‘ کے کاتب نے شیخ مہمرہ کی جگہ غلطی سے شیخ محمد لکھ دیا ہے۔شیخ محمد نامی کسی بزرگ کاتذکرہ بدایوں کے سلسلہ میں نظر سے نہیں گزرا۔
بہر حال شیخ مہمرہؒ سے نخشبیؒ کااکتساب علوم کرنا کوئی ایسی با ت نہیں جس کے قبول کرنے میں کوئی تاریخی رکاوٹ پیش آتی ہو۔ شہاب مہمرہؒ اپنے عہدے کے مشہور عالم اوراستاد الشعراء تھے۔ بدایوں میں ان کا طوطی بولتا تھا۔امیر خسروؒ نے لکھا ہے۔
در بداؤں مہمرہ سرمست برخیزد ز خواب
گر بر آید غلغل مرغان دہلی زیں نوا
مہمرہؒ عالم بھی تھے او رشاعر بھی۔ نخشبیؒ کو ایسے ہی استاد کی ضرورت بھی تھی۔ انہوں نے استاد کے انتخاب میں یقینا بڑی دور بینی سے کام لیا۔ کسی زاہد خشک سے منسلک ہوجانے میں ان کی شاعرانہ فطرت اور کمالات کے ماند پڑجانے کا خطرہ تھا۔
شیخ فرید الدین ناگوریؒ سے ارادت
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ’اخبار الاخبار‘میں لکھتے ہیں:
”چنیں شنیدہ شدہ است کہ وے مرید شیخ فرید است کہ نبیرہ وخلیفہ سلطان التارکین شیخ حمیدالدین ناگوری است، واللہ اعلم“۔
ایسا سنا گیاہے کہ یہ شیخ فرید سے، جو حضرت شیخؒحمیدالدین ناگوریؒ کے پوتے اور خلیفہ تھے،بیعت تھے۔ شیخ محدثؒ بڑے محتاط راوی تھے۔ ان کی اس عبارت سے ایسا مترشح ہوتاہے کہ خود انہیں اس کایقین نہیں تھا۔صرف شہرت کی بنا پر انہوں نے یہ بات لکھ دی ہے۔ ضیاء نخشبیؒ کی کسی تحریر سے اس مسئلہ پر روشنی نہیں پڑتی۔’معارج الولایت‘ میں یہ بات یقینی طور پر اس طرح لکھی ہے:”مرید وخلیفہ شیخ فریدالدین نبیرہ حضرت سلطان اکتارکین است“۔
ان کا ذکر اسی ترتیب سے کیاہے۔
شیخ فریدالدین ناگوریؒ اپنے عہد کے مشہور مشایخ میں شمار کی جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے دادا شیخ حمید الدین سوالی ناگوریؒ کے ملفوظات (سرور الصدور) جمع کیے تھے۔اس ملفو ظ میں شیخ فریدؒ نے کچھ اپنے حالات بھی لکھے ہیں۔ اس میں کسی جگہ ضیاء نخشبیؒ کا ذکر نہیں۔ ایک بزرگ شیخ نجیب الدین نخشبیؒ کاذکر ضرو رہے جن کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ ایلتتمش کے زمانہ میں ہندوستان میں تشریف لائے تھے۔ سلطان نے ان کو شیخ الاسلام بنادیا تھا او ران کو پدر کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔
’سلک السلوک‘ کے ناشر کو شیخ فرید نام سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اورشاید اسی وجہ سے اس نے کتاب کے خاتمہ پر نخشبیؒ کو ’خلیفہ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ لکھ دیا، جو یقینا غلط ہے۔
نخشبیؒ کی زندگی عسرت وتنگی میں بسر ہوئی تھی۔ ان کے پاس ’تقدِ دین‘کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ ہی ان کی متاع عزیز تھی، یہ ہی ان کی تسلی کا باعث لکھتے ہیں۔
نخشبیؒ نقدِ دیں ز دست مدہ
خلق فضلِ کریم برہمہ یافت
فقرا ہائے بر سرِ گنج اند
نقد دیں ہر کہ یافت ہر ہمہ یافت
دہ فقر وفاقہ میں ’رازِ زندگی‘ پاتے تھے اور اس میں خوش ہوتے تھے۔لکھتے ہیں۔
نخشبیؒ ہاں بفقر خوش می باش
گرچہ کس در عنا نباشد خوش
فقرا آنچناں خوشند از فقر
کہ کسے در غنا نباشد خوش
نخشبیؒ کاعقیدہ راسخ تھا کہ رزق، اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقدر ہوتاہے۔ ’سلک السلوک‘ میں انہوں نے حضرت رابعہ بصریؒ کا ایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ لکھا ہے۔ بصرہ میں ایک مرتبہ قحط پڑا، لوگ بہت پریشان ہوئے اور اس کی اطلاع رابعہ بصریؒ کو بھی دی، سن کر فرمانے لگیں: ”اگر ہمہ دانہ غلہ بمثقال زر رسد من ہرگز ازبرائے رزق اندوہگیں نشوم فان علینا ان نعبدہ کما امر ناو علیہ ان یر زقنا کما وعدنا“۔
اگر غلہ کا ایک ایک دانہ سونے کے دانوں کے برابر بھی ہوجائے، (مجھے پرواہ نہیں) میں رزق کا غم کبھی نہ کھاؤں گی،کیونکہ جیسا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے ہمارا کام اپنے پروردکار کی بندگی ہے اور جیسا کہ اس نے وعدہ فرمایا ہے، ہمارا رزق اس کے ذمہ ہے۔(جاری)
----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-21/d/138347
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism