خلیق احمد نظامی
(حصہ۔22)
2 جنوری،2026
اس قول کو نقل کرنے کے بعد نخشبیؒ نے یہ قطعہ لکھا ہے۔
نخشبیؒ از خدا ست رزق ہمہ
می برد ز آفتاب عالم نور
ہست اندر جہاں کون و فساد
نان شاہ وگدا ز یک تنور
اس کے معنی یہ ہر گرز نہ سمجھے جائیں کہ وہ روزی حاصل کرنے کے لیے کسی جدجہد کو ضروری نہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے محنت ومشقت کے ساتھ روزی حاصل کرنے کا”مذہبی فریضہ“ کادرجہ دے کر اس پربحث کی ہے۔ ارشاد نبوی”طلب الحلال جہاد“ پرانہوں نے بے حد زور دیا ہے اور لقمہ حرام کی شدت کے ساتھ مذمت کی ہے۔لکھتے ہیں۔

”چنیں گویند ہر کہ یک لقمہ حرام خورد چہل روز تیر دعا ء او ربرتشانہ
اجابت نرسد وچیز ے حلال حاصل کردن ازاعظم امور واصعب اعمال است“۔
کہتے ہیں کہ جوکوئی حرام کا ایک لقمہ بھی کھاتاہے چالیس روز تک اس کی دعا کا تیرنشانہ اجابت پرنہیں پہنچتا (یعنی اس کی دعا قبول نہیں ہوتی) اور رزق حلال کی طلب اعمال میں نہایت مشکل عمل اور کاموں میں نہایت عظیم الشان کام ہے۔
نخشبیؒ کاعقیدہ تھا کہ حصول روزی کے لئے جس طرح جدوجہد ضروری ہے اسی طرح یہ یقین بھی جز وایمان ہے کہ روزی کا دینے والااللہ ہے، اور کوئی انسانی قوت رازق ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔
امراء و سلاطین سے بے تعلقی
چشتیہ سلسلہ کی دیرینہ روایات کے مطابق نخشبیؒ نے شاہان وقت یا امراء سے کوئی رابطہ یا تعلق رکھنا پسند نہیں کیا۔لکھتے ہیں۔
”عزیز من! امرا ئے کہ برفقرا آیند سعادتِ آں امراء باشد، وفقرائے کہ بردر امراء رو ند شقاوت آں فقراء بود۔“
عزیزم! امیروں کا فقیروں کے پاس جانا ان امیروں کے لیے وجہ سعادت ہے اور جو درویش کہ امیروں کے گھر کا طواف کرتے ہیں یہ ان فقیروں کی شقاوت کی نشانی ہے۔
اس اصول کی وضاحت میں انہوں نے چند ایسے واقعات لکھے ہیں جو خود ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ایک بادشاہ ایک درویش سے ملنے گیا اوردینار پیش کیے۔درویش نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔بادشاہ نے کہا: اگر دینار قبول نہیں کرتے تو او رکوئی حاجت بتاؤ جو میں پوری کردوں۔ درویش نے جواب دیا:
”حاجتِ من آنست کہبارِ دیگر مرازحمت نہ دہی۔“
میری حاجت وضرورت یہ ہے کہ دوبارہ یہاں آکر مجھے تکلیف نہ دینا۔
حکیم سنائی کا ایک واقعہ خود ان کی زبان سے سننے کے قابل ہے:
بشنو بشنو چنیں گویند بادشاہے کہ سنائی حکیم دروقت سلطنت اوبود ہوس دیدن سنائی کرد۔ ہر جا اورابطلبید ندنیا فتند تاعاقبت از خانہ مخنثے بیاوردند۔ چوں بیا مدد ستہا درکش کردہ آمد وچوں بنشست پائے دراز کردہ بنشست، بادشاہ گفت: اے خواجہ! ماشنیدہ ایم کہ تو حکیمے سنائی۔ گفت،درمن چہ خلافِ حکمت دیدی؟ گفت من سہ چیز درتودیدم کہ آں ہرسہ چیز از قاعدہ حکمت خارج اند۔گفت آں کدام اند؟ بادشاہ گفت اول آنست کہ تو درخانہ مخنث چہ کنی؟ سنائی گفت من ہیچ کس را درعمل خود ہمچوخود نیا فتم مگر آں مخنث را۔بنا براں کہ مراتمام برہیئت مرداں آفریدہ اند، اما از من کارِ مرد اں برنمی آید۔ مخنث طریقیم و اومخنث شریعت۔دوم گفت چوں آمدی دستہا بستہ چرآمدی؟ گفت ازانکہ پیش تووقتے بسوال نخواہم کشاد۔گفت سوم چوں بنشستی پائے چرا دراز کردی؟ گفت از برائے آنکہ تابدانی کہ من شخصے ام بے ادب تا بارد یگر مرابر خود نخوانی ووقت خودر اووقت مراضائع نکنی“۔
سنو! سنو! کہتے ہیں مشہور حکیم سنائی کے زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کو سنائی سے ملاقات کا اشتیاق ہوا۔ چنانچہ ان کو تلاش کیا گیا مگر کہیں نہ ملے۔تلاش بسیار کے بعد بالآخر ایک ہیجڑے کے یہاں سے برآمد ہوئے اور ان کو بادشاہ کے پاس پہنچایا گیا۔جیسے ہی یہ بادشاہ کے یہاں پہنچے اپنے ہاتھوں کو سمیٹ لیا او ربیٹھے تو پاؤں پھیلا کر بیٹھے۔ بادشاہ نے کہا ہم نے سناہے کہ آپ حکیم سنائی ہیں۔ سنائی بولے: تو پھر آپ نے مجھ میں حکمت کے خلاف کون سی بات دیکھی کہ آپ کوتعجب ہوا؟ بادشاہ نے جواب دیا، میں نے تم میں تین چیزیں ایسی دیکھی ہیں جو اصول حکمت پر پوری نہیں اُترتیں، حکیم سنائی نے دریافت کیا: وہ کیا ہیں؟ بادشاہ نے کہا: پہلی بات تویہ ہے کہ تم ہیجڑے کے گھرکیوں تھے او رکیا کرتے تھے؟ سنائی نے برملاجواب دیا: میں نے عمل کے اعتبار سے اس مخنث کے علاوہ کسی کو اپنے جیسا نہیں پایا،کیونکہ باوجود یکہ میرے جسم کی ساخت مردوں جیسی ہے او رمجھے مردوں کی ہئیت وصورت پر پیدا کیا گیا ہے تاہم مجھ سے مردو ں کا کوئی کام نہیں ہوتا۔لہٰذا میں مخنث طریقت ہوں اور وہ مخنث شریعت۔ دوسری بات بادشاہ نے یہ کہی کہ تم جب آئے تو بندھے اور سکڑے ہاتھوں کیوں آئے؟ سنائی نے کہا: اس لیے تاکہ تم سمجھ لو کہ میں کسی وقت بھی تمہارے سامنے دست سوال نہیں پھیلاؤں گا۔ تیسری بات یہ کہی کہ تم نے یہ کیا کیا کہ بیٹھے تو پاؤں پسار کر بیٹھے؟ حکیم دانا نے جواب میں کہا: اس لیے تاکہ آپ یہ سمجھ لیں کہ میں ایک بے ادب شخص ہوں او رپھر آپ مجھے دوبارہ نہ بلائیں او رمیرا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔
قرون و سطیٰ میں سلاطین وامراء کو نصیحت کرنے اور ان کو گمراہیوں سے آگاہ کرنے کاایک موثر طریقہ تھا کہ گزشتہ بادشاہوں کی عبرت آموز داستانیں کچھ اس انداز میں بیان کی جاتی تھیں کہ بادشاہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔نخشبیؒ نے بادشاہ کو ہدایت کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیاہے۔ انہوں نے ’سلک السلوک‘ میں حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ، خلیفہ ہارون الرشید وغیرہ کے واقعات بادشاہوں کی عبرت کے لیے درج کیے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک شخص ان سے ملنے کے لیے گیا۔ دیکھا کہ جسم پرہلدی ملی ہوئی ہے، اوربچوں کی طرح رورہے ہیں۔ اسے سبب دریافت کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ ان کے بیٹے کے پاس آکر وجہ پوچھی۔انہوں نے جواب دیا، میرے باپ ہفتہ میں چھ دن خلقت سے احتساب کرتے ہیں، ساتویں روز خود اپنے نفس سے امورِ دین پر پرسش کرتے ہیں۔ آج انہوں نے خود اپنے اتنے کوڑے لگائے ہیں کے سارا جسم زخمی ہوگیا۔(جاری)
-----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-22/d/138362
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism