New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:30 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔30)

10 جنوری،2026

(3) محمد بن تغلق کے بعد افکار کا یہ تصادم خیالات کے انتشار میں تبدیل ہوگیا۔ آزادیئ افکار اور انتشار افکار کے درمیان تو تھوڑا ہی ہے،لیکن مالاورنتائج کا زبرست فرق ہے۔

یہ دل کی موت! وہ اندیشہ ونظر کا فساد

شاید ہی ہندوستان کی تاریخ میں اتنے مختلف زاویہ ہائے فکر اور مختلف النوع فرقے پیدا ہوئے ہوں جتنے اس زمانہ میں نمودار ہوئے۔ اس دور کی فضا کا اندازہ فیروز شاہ تغلق کی تصنیف ’فتوحات فیروز شاہی‘ سے ہوتاہے۔ جب فضائیں ’اناالحق‘ کی صداؤں سے گونج رہی تھیں، خام کار صوفیہ گمراہی کے نئے نئے دروازے کھول رہے تھے۔ اباحتی نظریات کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی اور پرانا اخلاقی نظام دم توڑ نے پرآمادہ نظر آتا تھا۔حضرت گیسو درازؒ نے مذہبی فکر کے سارے تار وپود کو شریعت وسنت کے دامن میں سمیٹ لیا اور ایک گرتے ہوئے معاشرہ کو تجدید واحیاء کی راہ دکھائی۔ یہ ان کی اس کوشش کا نتیجہ تھاکہ اس دور میں ایک فکری تھماؤ کی کیفیت نظر آنے لگی۔ شریعت، طریقت، حقیقت میں جو خلیج پیداکی جارہی تھی اس کی انہوں نے شدید مخالفت کی اور خاتمہ میں اعلان کیا کہ جس طرح بادام میں پوست، مغز اورروغن ایک دوسرے سے جدا نہیں، اسی طرح شریعت، طریقت، حقیقت کو بھی جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی ساری علمی کادشوں اور تذکیر وتلقین کامقصد مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اس تضاد کو دور کرنا تھا جس نے فکر کے سوتے مسموم او رعمل راہیں پر خطر کردی تھی۔

(4) حضرت گیسودارؒ سے چشتیہ سلسلہ کی علمی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتاہے۔ ان سے پہلے چنداہم کتابیں ’اصول الطریقہ‘، ’ملہمات‘، ’تصریف باری‘، مخ المعنی‘، شرحِ مشارق‘ وغیرہ ضرو رلکھی گئی تھیں، لیکن مختلف علوم دینیہ پر باقاعدہ تصانیت کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ ہر چندکہ متقدمین مشایخ چشت بلند علمی مقام رکھتے تھے اور بہت سے علوم میں ان کی نظر مجتہدانہ تھی، خود حضرت محبوب الہٰیؒ کی محدثانہ بصیرت غیر معمولی تھی، ان کے مریدوں میں مولاناشمس الدین یحییٰؒ، مولانا فخرالدین زراویؒ وغیرہ فقہ پرگہری نظر رکھتے تھے، لیکن چشتیہ سلسلہ کی تعلیم کو باضابطہ صفحہ قرطاس پر مستقل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔حضرت گیسودرازؒ اس ہر خاموشی کو توڑا اور تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، سب موضوعات پر کتابیں لکھیں یا املا کرائیں، اس طرح کہ ان کا سجادہئ مشیخت ’سلطان القلم‘ کی مسندبن گیا۔چشتیہ سلسلہ کی کوئی فکر ی تاریخ حضرت گیسودرازؒ کی تصانیف کے گہرے مطالعے کے بغیر نہیں لکھی جاسکتی۔

حضرت محبوب الہٰیؒ کے زمانہ میں تصوف کی بہت سی اہم کتابیں، مثلاً ’قوت القلوب‘،’رسالہ قشیری‘، ’مکتوبات عین القضاۃ‘وغیرہ عام ہوگئی تھیں اور دہلی کے بازاروں میں کثرت سے ملتی تھیں۔حضرت گیسودرازؒ نے ’رسالہ قشیری‘،آداب المریدین‘، ’تمہیدات‘، ’رسالہ غوث الاعظمؒ وغیرہ کی شرحیں لکھیں۔ ان شرحوں کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں جگہ جگہ مشایخ سلسلہ چشت کی روش او ران کے اقوال کو درج کرکے  ان صوفی classics سے ان کی مطابقت ثابت کی گئی ہے۔غالباً دکن میں اس نوعیت کا کام وقت کا سب سے بڑاتقاضا تھا۔ اس طرح سلسلہ کی تعلیم کی جڑیں گہری اور مضبوط ہوگی۔ شیخ برہان الدین غریبؒ کے مرید مولانا حماد بن عماد کا شانیؒ نے ’احسن الاقوال‘ میں مشایخ کی روش اور’برہان‘ کو نقل کرکے اس طرح کی کوشش کی تھی، لیکن ان کا کام ایک خاص پس منظر میں اورمحدود پیمانہ پرتھا، گواس کے نتائج بھی بہت دور رس ہوئے۔ حضرت گیسو درازؒ نے خاتمہ (ترجمہ آداب المریدین) میں بابا صاحبؒ، محبوب الہٰیؒ، چراغ دہلویؒ کی روش کو جگہ جگہ نقل کیا ہے، اور مشاہیر صوفیہ کی تصانیف کو فکری اعتبار سے چشتیہ سلسلہ کی تعلیم کا جزو بنادیا ہے۔فقہ حنفی کی طرف بھی ان کی توجہ ہوئی اورامام ابوحنیفہ ؒ کی ’فقہ اکبر‘ پر انہوں نے شرح لکھ کر فقہ و تصوف کے درمیان بعد کو دور کیا اوراپنے شیخ کو روش پرمضبوطی سے کار بند ہوئے۔مسائل تصوف پر ان کی دو تصانیف ’اسماء لاسرار‘ اور ’حظائر القدس‘ فکر کی بلندی میں اپنا جواب نہیں رکھتیں۔ گو ان میں بعض مباحث اتنے دقیق او رنازک ہیں کہ عام ذہن ان کونہیں سمجھ سکتے۔

غلام معین الدین عبداللہؒ،صاحب ’معارج الولایت‘، جو دکن کے رہنے والے تھے او ر تصوف کے لٹریچر پر خاصی نظررکھتے تھے،لکھتے ہیں:”از غلبات شوق سخن را اکثر بے پردہ می گوید، واسر ا روانوار رافشامی نماید۔“

حضرت گیسودرازؒ کو خود اس کااحساس تھا۔اسرار ومعارف پر گفتگو کرتے کرتے بعض اوقات ایک دم چونک اٹھتے ہیں اور بے اختیار زبان پر آجاتا ہے:”محمد حسینی بس کن، چند خود نمائی چند شیریں سخنی و چرپ زبانی۔“

انیس العشاق میں فرماتے ہیں۔

سید گیسو دراز شد سخن تو بلند

کوتہ کُنی چو ں کسے محرم اسرار نیست

اسرار ومعارف پر اس انداز میں گفتگو کا بھی ایک منظر تھا۔وحدت الوجود پر بازار وخانقاہ میں گفتگو ہونے لگی تھی۔ جن کتابوں کو مشایخ نے عوام کی دسترس سے دور رکھا تھا، اور اگر ان پر حاشیے بھی لکھے تھے تو عربی زبان میں، اس وقت ہر کس وناکس کے ہاتھ میں تھیں۔ایک مرتبہ جب یہ نظریات عوام تک پہنچ گئے تو ان سے متعلق غلط فہمیوں کو دورکرنے کے لیے ان مباحث کی وضاحت بھی ضروری تھی۔

علاوہ ازیں حضرت گیسودرازؒ کو جن لوگوں میں کام کرنا پڑا تھا ان کاتمدنی، ذہنی، سماجی پس منظر بہت مختلف تھا۔ ان میں صوفیاء بھی تھے علماء بھی، دستار بندان بھی، برہمن بھی، جوگی بھی، اورمقامی قبائل کے لوگ بھی۔ غرض ہرذہنی سطح اورفکری معیار کے لوگ شامل تھے۔ ان سے گفتگو کرنے کے لئے ایک طرف دیگر مذاہب اور طریقہ ہائے فکر سے براہ راست واقفیت ضروری تھی،تو دوسری طرف تخاطب کے مختلف انداز و معیار بھی ضروری تھے۔ ان کی تصانیف کے مطالعہ کے وقت اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔خود لکھتے ہیں:”ہمت وغیرت جائز نہیں رکھتی کہ بلاتمیز اہل ونااہل کلام کیا جائے۔“

سنسکرت زبان اور قدیم ہندوستانی تہذیب سے ان کو براہ راست آگاہی تھی۔ فرماتے ہیں:(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-30/d/138474

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..