New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:33 PM

Urdu Section ( 18 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔31)

11 جنوری،2026

”من کتابِ سنسکرت ایشاں خواندہ ام وافسانہ ہائے ایشاں می دانم“۔

ان حالات میں کوئی تعجب نہیں کہ انہوں نے دکھنی اور قدیم اردو میں اپنے خیالات کا اظہار ضروری سمجھا ہو۔ان کی جو تصانیف ضائع ہوگئیں ان کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے جو دستیاب ہوتی ہیں۔ وہ عربی اور فارسی زبانوں کے ماہر، سنسکرت سے واقف اور دکھنی زبان میں بول چال کی قابلیت رکھتے تھے۔ ان کی شرحوں کے مطالعہ سے یہ احساس محکم ہوجاتاہے کہ یہ کتابیں محض شرحیں نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے اس framework میں بہت سے نئے افکار ونظریات پیش کیے ہیں۔ ان کی فطرت کی Originality یہاں نمایاں نظر آتی ہے۔

(5)حضرت گیسودرازؒ کی ذات چشتیہ سلسلہ کی اخلاقی او ر روحانی تعلیم کی مکمل آئینہ دار تھی۔علمی اوراکتسابی پہلو سے قطع نظر،ان کی ر گ رگ میں مشایخ سلسلہ کی محبت اس طرح سما گئی تھی۔

شاخِ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم

ان کے باپ اور نانا دونوں حضرت محبوب الہٰیؒ کے دامن تربیت سے وابستہ رہے تھے۔ حضرت محبوب الہٰیؒ سے محبت ان کو ورثہ میں ملی تھی، اور خون زندگی کی طرح ان کی رگوں میں دوڑتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت محبوب الہٰیؒ کی جنتی مکمل دلکش اورجیتی جاگتی تصویر ان کے ملفوظات میں ملتی ہے، کسی دوسری تصنیف یا ملفوظ میں نہیں ملتی۔

اس فکری او رسماجی پس منظر میں چشتیہ سلسلہ کے بنیادی اصولوں کو، جو تصورِ دین، سماجی خدمت اور اخلاقی اصلاح وتربیت سے متعلق تھے،حضرت گیسودرازؒ نے غیر معمولی روحانی بصیرت کے ساتھ پھیلایا۔

مشایخ چشت کے سمانی اوراخلاقی نظریات کی پرورش ان کے تصورِ دین اورنظریہ کائنات کے سایہ میں ہوئی تھی۔ حضرت محبوب الہٰیؒ فرمایا کرتے تھے کہ عبادت دوطرح کی ہوتی ہے: لازمی اورمتعدی۔ روزہ، نماز، حج وغیرہ لازمی عبادت ہے۔ اس کافائدہ کرنے والے کی ذات کو پہنچتا ہے۔عبادت متعدی یہ ہے کہ دوسرے کی چارہ سازی کی جائے، ان کے دکھ درد میں مدد کی جائے۔پھر فرماتے ہیں کہ عبادت متعدی کا ثواب عبادت لازمی سے زیادہ ہے۔چشتیہ سلسلہ کی تاریخ میں یہ جملہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔عبادت کے اس انقلابی تصور نے انسانی فکر وعمل کی دنیا کو صرف وسیع سے وسیع ترہی نہیں بنایا، بلکہ اس میں زندگی کی ایک نئی لہر، عزم کی ایک نئی تپش،اورمقصد کا ایک نیا ولولہ بیدار کردیا۔ مذہب کاکوئی مقصد اور عبادت کا کوئی تصور اس طاعت متعدی کی وہ قوت اورافکار کی وہ بلندی پید ا ہوئی جس نے قلوبِ انسانی کو ایک رشتہ الفت میں پرونے میں مدد دی، اوراجتماعی زندگی کے لیے یہ فوز وفلاح کی ایک بشارت بن گیا۔ چشتیہ سلسلہ کے اعتقاد وعمل کی ساری عمارت اسی اصول پر قائم تھی کہ دلنوازی مخلوق ہی کے ذریعہ خالق کائنات تک رسائی ہوسکتی ہے۔خدا سے محبت کی راہ اس کے بندوں کی محبت میں سے ہوکر گزری ہے۔ کسی دل کو راحت پہنچانا، اعلیٰ ترین عبادت ہے۔

دل بدست آور کہ حج اکبر است

خواجہ اجمیریؒ سے ایک بار پوچھا گیاکہ بہترین عبادت کیاہے؟ فرمایا:

”در ماندگان رافریادرسیدن، وجاجتِ بے چارگان روا

”مظلوموں اورعاجزوں کی فریاد کو پہنچنا،ضعیفوں اور بیچاروں کی حاجت روائی کرنا، بھوکوں کا پیٹ بھرنا۔“

ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ دمشق میں ایک وقف تھا جس کی آمدنی صرف ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے میں صرف کی جاتی تھی۔ مشایخ چشت کی زندگیاں خود اس طرح کا وقف بن گئی تھیں۔گریباں کاچاک ہویاٹوٹا ہوا دل،وہ سینے اور جوڑنے کو مقصد حیات سمجھتے تھے۔ ان کی نظرمیں ساری مخلوق اللہ کا کنبہ تھی اور ان کا یقین تھاکہ۔

چیست انسانی؟ تپیدن در تپ ہمسائیگان

از سموم نجد درباغ عدن پژما ں شدن

کسی شخص نے حضرت محبوب الہٰیؒ کے متعلق یہ کہہ دیا کہ ان کو زندگی میں بڑااطمینان اورآسایش حاصل ہے۔ شیخؒ نے سناتو دود بھر ے لہجہ میں فرمایا:’جس قدر غم واندوہ مجھے رہتاہے کسی کو اس جہاں میں نہ ہوگا، اس واسطے کہ انتی مخلوق میرے پاس آتی ہے اور اپنے رنج اورتکلیف بیان کرتی ہے۔ ان سب کابوجھ میر ے دل اورجان پرپڑتا ہے۔“

ان کی زندگی کے شبوروز اس قلبی کیفیت کی تائید کرتے تھے۔ سحری کے وقت لقمے ان کے حلق میں اس خیال سے اٹکنے لگتے تھے کہ دہلی میں اس وقت کچھ لوگ بازاروں او ردکانوں کے چبوترے پر بھوکے سوئے ہوئے تھے۔ حضرت گیسودرازؒ نے خود تکلیف اٹھاکر دوسروں کی خدمت کرنااپنی زندگی کامشن بنالیاتھا۔ ایک مرتبہ فرمایا:

”درخت خود تو دھوپ میں کھڑا رہتاہے، لیکن دوسروں کو سایہ دیتاہے، لکڑی خود تو جلتی ہے،لیکن اوروں کو راحت پہنچاتی ہے۔ اسی طرح خود انسان تکلیف اٹھائے اوراپنی تکلیف کا خیال نہ کرے۔“

خدمت خلق کے اس تصور کے پیچھے مشایخ چشت کا یہ نظریہ بھی تنہا تھاکہ انسان اس کرہئ ارضی پراللہ کا خلیفہ ہے۔ تَخَلّقُو ا بِاَخُلاَقِ اللہ ہی کے ذریعہ وہ اس نیابتِ خداوندی کی ذمہ داریاں پوری کرسکتاہے۔ حضرت خواجہ اجمیریؒ فرماتے ہیں کہ جس شخص میں تین خصلیتیں جمع ہوگئیں وہ اللہ کادوست بن گیا۔

”اوّل سخاوتے چوں سخاوتِ دریا، دوم شفقتے چوں شفقت آفتاب، سوم تواضع چوں تواضعِ زمین۔

”دریا جیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت، زمین کی سی تواضع“۔

کہ ان کی فیاضیاں او رگرم گستریاں اپنے اور پرائے کافرق نہیں کرتیں، او رہر کس وناکس کے لیے عام ہیں۔ دریا کی سخاوت کی سی تشنگی پر چشم پوشی نہیں کرتی۔ بادل اٹھتے ہیں تو چمن وصحرا سب کا دامن بھردیتے ہیں۔ سورج نکلتاہے توامیر، غریب،عاصی وعابدسب کے لیے یکساں اجالے کاپیغام لاتاہے۔ زمین کا دامن ہرذی روح کے لیے کھلا رہتاہے۔ جب تک انسان’ربوبیت‘ کے ان مظاہر کو اپنی زندگی کا رہبر نہ بنائے گا، اس دنیا میں فوزوکامرانی کے الفاظ شرمندہئ معنی نہ ہوں گے۔(جاری)

---------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-31/d/138485

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..