New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:30 PM

Urdu Section ( 22 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔35)

15 جنوری،2026

ان تصانیف کے علاوہ شاہ صاحبؒ نے اپنے مکتوبات بھی چھوڑے ہیں جن کا مجموعہ ’مکتوبات کلیمی‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ یہ مکتوبات کئی اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ ان میں اگر ایک طرف شاہ صاحبؒ کی جیتی جاگتی تصویر ہمارے سامنے آجاتی ہے تو دوسری طرف ان کی تبلیغی کوششوں کاپورانقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے کھینچ جاتاہے۔شاہ صاحبؒ کی اعلاء کلمۃ الحق کے لیے یہ خلوص جدوجہد، چشتیہ سلسلہ کی ترقی کے لیے ان تھک کوشش، لشکریوں او ر عوام میں روحانی تعلیم وتربیت کے لئے سعی بلیغ، ان سب کااندازہ ان ہی مکتوبات سے ہوتاہے۔

تعداد میں کل مکتوبات 132 ہیں۔ یہ سب اپنے مریدوں کے نام مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ سو سے زیادہ خطوط شاہ صاحب نے اپنے عزیز مرید شیخ نظام الدین اورنگ آبادیؒ کو دکن بھیجے ہیں۔باقی خطوط مولانامحمد دیارام، عبدالرشید وغیرہ کے نام ہیں۔ شیخ نظام الدین صاحبؒ کے نام جو مکتوبات لکھے گئے ہیں وہ نسبتاً زیادہ صاف او رمفصل ہیں اور حقیقت میں تمام مجموعہ کی جان ہیں۔ چونکہ اکثرمکتوبات شیخ نظام الدین صاحبؒ کے نام ہیں، اس لیے بے جانہ ہوگا اگر ان کے متعلق بھی یہاں کچھ عرض کردیا جائے۔

شیخ نظام الدین اورنگ آبادیؒ

شیخ نظام الدین اورنگ آبادیؒ، شاہ کلیم اللہ صاحبؒ کے عزیز ترین مرید اور خلیفہ راستین تھے۔ ان کے وطن کے متعلق معلوم نہیں۔’تکملہ سیرالأولیاء‘، ’خزینتہ الأصفیاء‘ اور ’مناقب فخریہ‘ میں یہ لکھا ہے کہ ان کا وطن پورب میں تھا۔ وہاں سے علوم ظاہری کی تحصیل وتکمیل کے لیے دہلی چلے آئے تھے۔’مناقب فخریہ‘ میں لکھا ہے کہ پہلی بار جب شیخ نظا م الدین شاہ صاحبؒکی خدمت میں حاضر ہوئے تو محفل سماع منعقد ہورہی تھی۔شاہ صاحبؒ کا دستور تھاکہ سماع کے وقت مکان کے دروازے بند کردیتے تھے اور پھر کسی ناآشنا شخص کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ شیخ نظام الدینؒ نے دروازہ پر دستک دی۔شاہ کلیم اللہ صاحبؒ نے آواز سن کر ایک مرید کو اشارہ کیا کہ باہر جاکر دیکھے۔مرید نے ایک غیر متعارف شخص کو دروازہ پر کھڑادیکھا تو نام دریافت کیا اور آکر شیخ ؒ سے عرض کیا کہ ایک بیگانہ شخص گداصورت نظام الدین نامی طالب ملاقات ہے۔شیخؒ نے نام سنتے ہی فوراً حکم دیا کہ جلدی سے اس کو اندر لے آؤ۔ مریدوں کو یہ سن کر حیرت ہوئی کہ شیخ نے کیوں ایک نا آشنا او ربیگانہ شخص کو سماع کے وقت اندر آنے کی اجازت دی لیکن شیخ نے فوراً یہ کہہ کر ان کی تسلی کردی۔”ازیں شخص ونام نامی وے بوئے آشنائی می آید، غیر نیست۔“ اور شیخ نظام الدینؒ سے نہایت خلوص ومحبت سے ملے، او ران کی ظاہری تعلیم وتربیت کی ذمہ داری قبول فرمالی۔

عرصہ تک شیخ نظام الدینؒ شاہ صاحبؒ کی خدمت بابرکت میں رہے، او رعلوم ظاہری میں دستگاہ حاصل کرتے رہے۔ایک دن شاہ کلیم اللہ صاحبؒ مجلس سے اٹھے اور فرش کے کنارے پرآئے۔ شیخ نظام الدینؒ نے فوراً جوتے اٹھائے اور صاف کرکر رکھے۔شاہ صاحبؒ کو شیخ نظام الدینؒ کی یہ ادا بہت پسند آئی۔ او رکمال محبت سے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا:”نظام الدین! تو ہمارے پاس علوم ظاہری حاصل کرنے آیا ہے یا فوائد باطنی حاصل کرنے جو زیادہ اچھے او ربہتر ہیں؟”شیخ نظام الدینؒ نے فوراً جواب دیا۔

سپردم بتو مایہئ خویش را

تو دانی حساب کم وبیش را

شاہ صاحبؒ کو یہ شعر سنکر اپنے پیر شیخ یحییٰ مدنیؒ کی وہ پیشین گوئی یاد آگئی جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ایک شخص ایسے موقع پر یہ شعر پڑھے گا، وہ ہماری نسبت کا مالک ہوگا۔اس سے سلسلہ چشتیہ کوبے حد ترقی ہوگی۔شاہ صاحب سمجھ گئے کہ۔

آمد آں یارے کہ ما می خواستیم

او راس وقت سے ان پر خاص التفات اورتوجہ فرمانے لگے۔ ان کی تعلیم وتربیت میں خاص دلچسپی کااظہا رکیا۔جب تعلیم وتربیت کاسلسلہ ختم ہوا تو شاہ صاحبؒ نے ان کو دکن روانہ فرمادیا۔ یہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت کا آخری زمانہ تھا۔ہندوستان کی سیاست کا مرکز نقل شمال سے جنوب کی طرف منتقل ہوچکاتھا۔ بادشاہ، شاہی خاندان، فوج کابیشتر حصہ، سب دکن میں پہنچ چکا تھا۔ شمالی ہندوستان کی اہمیت نسبتاً کم ہوگئی تھی۔دہلی، آگرہ، لاہور، سب اپنی عظمت ویرینہ کو خیرباد کہہ چکے تھے۔ محلات میں حسرت ناک خاموشی طاری تھی۔ سارا ساز وسامان تالوں میں بند پڑا تھا۔ اسلامی ہند کی تاریخ کا یہ بہت نازک وقت تھا۔ شاہ صاحبؒ نے وقت کی آواز کو پہچانا او راپنے عزیز ترین مرید شیخ نظام الدینؒ کو تبلیغ واصلاح کے کام کے لئے دکن روانہ فرمایا۔ خود ایک مکتوب میں شیخ نظام الدین کو لکھتے ہیں:

”تم کو اللہ تعالیٰ نے دکن کی ولایت عطا فرمائی ہے۔تم یہ کام پورے طور پر انجام دو۔میں نے اس سے پہلے تم کو لکھا تھاکہ لشکر میں جاؤ۔ لیکن اب یہ حکم ہے کہ جہاں کہیں ہو اعلائے کلمۃ اللہ میں مصروف رہو، او ر اپنے جان ومال کو اس میں ہی صرف کردو“۔

مکتوبات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ شیخ نظام الدینؒ لشکر شاہی کے ہمراہ دکن گئے تھے اورکچھ عرصہ دکن میں ان کی نقل وحرکت لشکر کے ساتھ ہوتی رہی۔ ان کے خطوط لشکریوں کے ذریعہ آتے جاتے تھے اور شاید اسی وجہ سے شاہ صاحبؒ نے ایک مکتوب میں تاکید کی تھی کہ وہ دکن کے حالات بڑی احتیاط سے لکھا کریں۔

مکتوبات میں جگہ جگہ لشکر کا ذکر ملتاہے۔مثلاً:

(1) ”از ابتدائے آمدن شمادر لشکر بادشاہی کہ تاتاریخ حال ہفت ہشت ماہ گذشتہ باشد دو کتابت رسیدہ۔“

(2) ”در لشکر ے کہ شما ہستید اکثر شنیدہ می شود کہ معتقدات رفض بغایت رائج است۔“

(3) ”قبل ازیں می نوشتم کہ بہ لشکر بروید، اکنوں ایں امر است ہرجا باشید دراعلائے کلمۃ الحق باشید۔“(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-35/d/138534

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..