New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:32 PM

Urdu Section ( 30 Jan 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔43)

24 جنوری،2026

آج یہ بات ایک گونہ حیرت سے سنی جائے گی،لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے حملوں او رسلطان شہا ب الدین غوری کی فتوحات کے درمیان جو ڈیڑھ سو سال گزرے ہیں، ان میں مسلمانوں کی خاصی تعداد دریائے راوی کو عبور کرکے شمالی ہندوستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوگئی تھی اور اس نے مکمل خود اعتمادی او رپورے یقین کے ساتھ اپنے تمدنی اداروں کی تعمیر وتشکیل کاکام انجام دیا تھا۔ حالات کی نامساعدت او رماحول کی برگستگی کبھی ان کے حوصلوں کوپست نہ کرسکی۔ انہوں نے اپنی مسجدیں بھی بنائیں او رخانقاہیں اورمدرسے بھی۔ بدایوں میں محمود غوری کی فتوحات سے قبل مسلمانوں کی آبادی کا ثبوت شہداء کے دومزارات ہیں جن کی زیارت سے آج بھی دلوں کو زندگی ملتی ہے۔حضرت میر لہم شہیدؒ، حضرت حیدر شہیدؒ اور حضرت برُہان قتال شہیدؒ صبح کے اس تارے کی مانند تھے جو چند منٹ چمک کرنظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے، لیکن جس کا غائب ہوجانا طلوع آفتاب کی بشارت دیتاہے۔ تاریخ کے صفحات ان بزرگوں کے احوال سے خالی ہیں، لیکن جو نظریں تاریخ کے خاموش اشاروں کو سمجھتی ہیں ان کے لیے شہدا ء کے یہ مزارات ایک زبرست قدرتی انقلاب کے نقیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان بزرگوں نے اپنے خون جگر سے اس چمن کی آبیاری کی تھی جس میں مولانا رضی الدین حسن نونہالؒ نے پرورش پائی۔ بدایوں کا یہ قابل فخر فرزند جو جنگ ترائن سے دس سال قبل پیدا ہوا تھا، جب اسلامی دنیا کے سب سے بڑے مرکز بغداد میں پہنچا تو بڑے بڑے عالموں کے سراس کے سامنے جھک گئے۔

بدایوں کی تاریخ کا ایک اہم باب اس وقت شروع ہوا جب 1197-98ء میں قطب الدین ایبک نے اس کو فتح کرکے اسلامی مقبوضات میں شامل کرلیا۔ بدایوں کے محل وقوع کے پیش نظر یہاں ایک زبرست چھاؤنی بنائی گئی تاکہ قرب وجوار کے راجاؤں او رزمینداروں کی نگرانی کی جاسکے۔ تھوڑے ہی عرصے میں بدایوں کی فوج نے تہور وشجاعت میں نام پیدا کرلیا اور یہاں کے سپاہی دور دراز مہموں پر جانے لگے۔ 1205 ء میں جب سلطان شہاب الدین محمدغوری نے سرحدی علاقے کی باغی قبائل خصوصاً کھوکھروں کی سرزنش کا ارادہ کیا تو بدایوں ہی کی فوج سے مدد لی۔ تاج المآثر میں اس جنگ کی تفصیل درج ہے۔ بدایوں کے جاں باز سپاہیوں نے 3لاکھ کھوکھرو ں کی موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔ ایلتتمش کی گورنری کے زمانے میں بدایوں کی شان وشوکت میں اور اضافہ ہوگیا، اور فوجی مستقر کی حیثیت سے ا س کا شمار شمالی ہندوستان کے بہترین مراکز میں ہونے لگا۔

دہلی کی بہترین فوجیں ملتان میں رہتی تھیں یا پھر بدایوں میں۔نتیجہ یہ ہواکہ یہاں کا گورنر دوسرے گورنروں کے مقابلے میں زیادہ باعزت اور طاقتور سمجھا جانے لگا۔ بدایوں کی گورنری ایک ایسا امتیاز تھا جو سلطنت کے ممتاز ترین اوراہم ترین اشخا ص کو دیا جاتاتھا۔ تاج الدین سنجر قتلوں کو بدایوں کی گورنری پر مبارک باد دیتے ہوئے امیر خسرو کہتے ہیں۔

اے زدرگاہ شہ اقطاع بدایو ں یافتہ

مسندے بالاتر ازبالائے گردوں یافتہ

بدایوں کی گورنری دہلی کے لیے چبلی سیڑھی تھی۔ ایلتتمش،رکن الدین وغیر ہم اس علاقے میں یہ خدمت انجام دے چکے تھے۔بدایوں کے گورنروں کی فہرست پر غور کیجئے تو معلوم ہوگاکہ ترک امراء میں سے بہترین اشخاص یہاں بھیجے جاتے تھے۔ سپہ سالار وزیر الدین حسن، ملک نصیر الدین طغال، ملک اعزالدین طغرل خاں، اعزالدین محمد سالاری، ملک اختیارالدین سبکتگین، بدرالدین سنقر رومی،تاج الدین سنجر قتلو، ملک جلاالدین مسعود، ملک اعزالدین بلبن بزرگ عرف کشلوخان اپنے زمانہ کے مشاہیر امراء میں شمار کیے جاتے تھے اور ان کو بدایوں میں متعین کرنا اس علاقے کی انتظامی اور سیاسی اہمیت کاآئینہ دار ہے۔

بدایوں کی تمدنی ترقی میں ایلتتمش کا بہت بڑاحصہ تھا۔ وہ خو د بڑا علم دوست اور صوفی منش انسان تھا۔ بغداد وبخارا میں مشاہیر صوفیہ، مثلاً شیخ شہاب الدین سہروردیؒ، خواجہ معین الدین سنجریؒ، شیخ اوحد الدین کرمانیؒ اور قاضی حمیدالدین ناگوریؒ کی صحبت سے فیضیاب ہوا تھا۔ اس نے بدایوں پہنچ کر ایسا ماحول پیدا کردیا تھا جس کی کشش نے دور دور سے علماء ومشایخ کو کھینچ بلایا۔

بدایوں کی علمی فضا کو جس واقعہ نے چار چاند لگادیے وہ فتنہ منگول تھا۔ جب وسط ایشیا میں منگولوں کا طوفان کف بردہان امنڈنا شروع ہوا، تو وہاں کے علماء واکابر کی ایک کثیر تعداد ہندوستان کی طرف رجوع ہوگئی۔ عام طور سے جو لوگ عزت وشہرت کے خواہاں ہوتے تھے، وہ دہلی میں رُک جاتے تھے کہ دارالسلطنت کی زندگی میں بہر حال بڑی دل فریبی تھی۔ جو لوگ گوشہئ علم کے سکون کو دارالحکومت کے شور وغوغا پر ترجیح دیتے تھے، وہ بدایوں کا رُخ کرتے تھے۔ حضرت شیخ نظا الدین اولیاؒ کے دادا اور نانا جو سرکاری ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے اورگوشہ تنہائی میں زندگی گزارناچاہتے تھے، جب ہندوستان آئے، تو بدایوں ہی کو اپنی مستقربنالیا۔ اسی طرح شیخ شاہی روشن ضمیرؒ کے والد ماجد یمن سے،مولانا علاء الدین اصوفیؒکے والد ماجد قبا سے، او رشہاب الدین مہمرہ سے بدایوں آکر مقیم ہوئے۔مولانا ضیاء الدین نخشبیؒ اپنے وطن نخشب کو چھوڑ کر جب ہندوستان آئے تو بدایوں نے ان کے دامن دل کو پکڑلیا۔ غیرملکی علماء ومشایخ کے علاوہ خود ہندوستان کے بہت سے علاقوں سے مشاہیر بزرگ یہاں آکر قیام پذیرہوگئے۔حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے ایک بھائی نے بدایوں کواپنامسکن بنایا۔حاجی جمال سہروردیؒ اپنے سلسلہ کے مرکز ملتان کو چھوڑ کر بدایوں میں رہنے لگے۔ شیخ احمد نہروافیؒ اور دیگر بزرگوں نے اس زمین میں کچھ ایسی کشش محسوس کی کہ جب یہاں آگئے تو پھرکہیں جانے کا نام نہ لیا۔

سلاطین کی کوششوں او رعلماء ومشایخ کی جدوجہد کایہ نتیجہ ہواکہ بدایوں علم وفضل اور ارشاد وتلقین کاایک عظیم الشان مرکز بن گیا۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیاؒ اپنی مجلسوں میں نہایت محبت کے ساتھ اپنے وطن کا ذکر فرمایا کرتے تھے او رکہتے تھے:

”دربدایوں بسیار بزرگان خفتہ اند۔“(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-43/d/138644

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..