خلیق احمد نظامی
(حصہ۔44)
25 جنوری،2026
دہلی کے اکابر صوفیہ
حالی نے دہلی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار کہا۔
شاذ و نادر تھا تصوف میں کوئی تیرا نظیر
ٓآب وگل کاتیرے تھاگویا تصوف سے خمیر
تیرے کھنڈروں میں پڑے سوتے ہیں وہ مہر منیر
تھا کبھی انوار سے جن کے زمانہ مستفیر
آج جس دولت کا بازار جہاں میں کال ہے
تیرا قبرستان اس دولت سے مالا مال ہے
اور اس میں کوئی مبالغہ نہ تھا صدیوں تک دہلی تصوف کا گہوارہ رہی اور صوفیہ کے پہلے قافلے نے یہاں اپنا رختِ سفر کھولا تھا۔ اس کی فضاؤں میں مدتوں علم وعرفان، ارشاد وتلقین، رشدہ ہدایت کے زمزمے گونجتے رہے۔یہاں انسان کا رشتہ اللہ سے جوڑنے او رانسانی قلوب میں انسانیت کا احترام پیداکرنے کی جدوجہد صدیوں تک جارہی رہی۔ سیاسی عروج وزوال کی کتنی ہی داستانیں اس کے صفحات پر لکھی گئیں۔ لیکن صوفیہ کی سرگرمیوں اور ان کے مقصد و منہاج میں کبھی فرق نہ آیا۔ وقت کا سیل رواں بارہا ان سے ٹکراتا ہوا گذرا، لیکن ”عشق خود ایک سیل ہے، سیل کو لیتاہے تھام“۔ ان کے وجود محبت وشفقت کے قلعے تھے جہاں انسانیت کو پناہ ملی حالی نے جس چیز کا کال اپنے زمانے میں محسوس کیا تھا،وہ آج بھی جنس جیاب ہے، بلکہ بقول اقبال۔

یوں تو روشن ہے مگر سوز دروں رکھتا نہیں
شعلہ ہے مثل چراغ لالہ صحرا ترا
قرون وسطیٰ میں افریقہ اور ایشیا کے کم خطے ایسے رہے ہوں گے جہاں صوفیہ کے جماعت خانے، خانقاہیں، رباط، زاویے، یا دائرے قائم نہ ہوئے ہوں۔لیکن چار مقامات ایسے تھے جہاں تصوف کی تحریک نے نشوونما پائی، اس کی فکر کی تدوین ہوئی اور وہاں سے اس کے اثر ونفوذ کادائرہ دور دور تک پھیلا۔یہ چار مقام بخارا، بغداد، دمشق اور دہلی تھے۔ جب بخارا،بغداد اور دمشق کو منگولوں کی تباہ کاریوں نے نسیت ونابود کردیاتو دہلی تصوف کا ملجا اور مادیٰ بن کر ابھری اور صدیوں تک تصوف کی فکر اور ارادے اس کے دامن میں پرورش پاتے رہے۔ عصامی نے لکھاہے۔
بسے میدان صحیح النسب
رسیدند در وے ز ملک عرب
بسے کاسبان خرساں زمین
بسے نقشبندان اقلیم چین
بسے عالمان بخارا نژاد
بسے زاہد و عابد از ہر بلار
حکیمان یونان، طیبیان روم
بسے اہل دانش زہر مرز ویوم
دراں شہر فرخندہ جمع آمدند
چوپروانہ بر نور شمع آمدند
ہر چند کہ یہ محسوس ہوتاہے کہ ”بجھ گیا وہ شعلہ جو مقصود ہر پروانہ تھا“ لیکن آج بھی اس کی فضا دل فروز ہے اور اس کی ہواؤں میں اب بھی وہ نغمے محفوظ ہیں جنہوں نے دلی کی سماجی زندگی کو توانائی بخشی تھی۔
دہلی میں تصوف کی روایت کو قائم کرنے اور اس کے ارادوں کے لیے ساز گار فضا پیدا کرنے میں سلطان شمس الدین ایلتتمش کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ تصوف کی تحریک نے سیاسی اقتدار کے سائے میں پرورش پائی تھی، بلکہ اس کا پر منظر ایلتتمش کی ابتدائی زندی ہے جو بغداد بخارا میں فقر اء ومشایخ کے دامن تربیت میں گذری تھی۔ وہ وہاں کی خانقاہوں میں عقید ت مندانہ حاضر ہواکرتا تھا۔شیخ سعدیؒ کے پیر اور اپنے وقت کے مشہور بزرگ شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان کی توجہ کا طالب ہوا تھا۔ اس عسرت او رپریشانی کے زمانے میں اس نے بقول مولانا منہاج السراج ایک فقیر سے یہ عہد بھی کیا تھااس گروہ کبھی صاحب اقتدار ہوگیا تو صوفیہ ومشایخ کے حقوق کی پاسبانی کو اپنافرض سمجھے گا۔قسمت نے اس کو دہلی پہنچایا اور یہاں قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی سلطنت کا تخت وتاج اس کو نصیب ہوا۔حضرت نظام الدین اولیاؒ کابیان ہے کہ:
”اوخدمت شیخ شہاب الدین سہروردی راہ شیخ وحدالدین کرمانی را رحمتہ اللہ علیہم دریافتہ بود دیکے از رمہا گفتد بود تو بادشاہ خواہی شد۔“
وہ شیخ شہا ب الدین سہروردی اور شیخ اوحدالدین گرمانیؒ سے ملا تھا اور ان میں سے ایک بزرگ نے یہ فرمایا تھاکہ تو بادشاہ ہوگا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے تہذیبی اور ثقافتی اداروں کی داغ بیل اسی کی کوششوں کی رہین منت ہے اس نے بہت سی مضمحل صلاحیتوں کو جن میں حوادث زمانہ نے ’آرزوکی بے یقینی“ پیداکردی تھی، اور جو زندہ تھے تو اس لیے کہ ’نہ مرنے کا نام زندگی‘تھا، ایک نئے معاشرہ کی تعمیر میں لگادیا۔ایک طرف اس کے عزم جہاں بانی نے قنوطیت کی فضا کو دور کیا۔دوسری طرف اس کی تصوف سے دلچسپی نے اعلیٰ روحانی اور اخلاقی قدروں کے ذریعہ عروق مردہ میں بامقصد زندگی کا خون دوڑا دیا۔ حوض شمسی اور قطب مینار محض تعمیری کارنامے نہیں تھے، ان کے پیچھے ایک ایسا ماحول پیداکرنے کا جذبہ کارفرماتھا جس میں وسط ایشیا کی پڑمردہ صلاحیتیں زندگی کی نئی امنگ سے ہمکنار ہوئیں۔ حوض شمسی کی تعمیر میں خواجہ قطب الدین بختیارکاکیؒ نے سلطان کو مدد دی۔دہلی کے ابتدائی دور کا ثقافتی مرکز حوض شمسی کے کنارے ابھرا جہاں نہ صرف والیاء مسجد وجود میں آئی،بلکہ دہلی کی ثقافتی زندگی کامکمل عکس اس میں نظر آنے لگا۔ سیاسی تذکرہ نویسوں نے ایلتتمش کی سیاسی زندگی کی عظمت اس کے عزم جہاں بانی او رعسکری صلاحیتوں میں دیکھنے کی کوشش کی، لیکن حضرت محبوب الہٰیؒ نے فرمایا کہ اس کی بخشش حوض شمسی بنانے کی وجہ سے ہوئی جس سے دہلی کو پانی ملا۔ حضرت محبوب الہٰی ہی نے اس کے متعلق یہ اطلاع دی ہے کہ وہ شب بیدار تھا اور رات کا کافی حصہ عبادت الہٰی میں گذارتا تھا۔ یہ ممکن نہ تھا کہ اس کی مذہبی دلچسپیاں اور اس کا طرز زندگی دہلی کی فضا پراثر انداز نہ ہو۔(جاری)
------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-44/d/138659
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism