New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:31 PM

Urdu Section ( 1 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔45)

26 جنوری،2026

حقیقت یہ ہے کہ ایلتتمش نے دہلی میں وہ فضا پیداکردی جن میں صوفیہ ومشایخ سیاسی اقتدار سے دور ایک گونہ اطمینان کے ساتھ جھونپڑوں میں بیٹھ کر انسان کو اس کے خالق سے ملانے اور انسانی دلوں کو ایک رشتہ الفت میں پرونے کاکام انجام دے سکے۔ معاصر مؤرخ منہاج السراج کابیان ہے:

”غالب ظن آنست کہ ہر گزبادشاہے بحسن اعتقاد وآب دیدہ وتعظیم علماء ومشایخ مثل واز مادر خلفت درقما ط سلطنت نیا مد۔“

ظن غالب یہ ہے کہ کوئی بادشاہ جو علماء ومشایخ کی اس درجہ تعظیم کرتاہو اور اتنا اعتقاد رکھتا ہو پیدا ہی نہیں ہوا۔

ا س نے صدہا علماء ومشایخ کو جو وسط ایشیا کے بے رحم حالات سے عاجز ہوکر ادھر کا رخ کررہے تھے، دہلی میں پناہ میں دی، ان کا پرجو ش خیر مقدم کیا او رکبھی کبھی شاہی مہمان بھی رکھا۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا تھا جب کسی بزرگ کی آمد کی خبر ملتی تھی تومیلوں تک استقبال کے لیے نکل جانا تھا۔ جب شیخ جلال الدین تبریزی بغداد سے دہلی تشریف لائے تو سلطان ان کے استقبال کے لیے دور تک گیا اور!

”چوں شیخ رادید از اسپ فرہ دآمد ہ بجانب ایشاں دوید۔“

جو ں ہی شیخ کو دیکھا گھوڑے سے اتر پڑا اور ان کی طرف دوڑا۔

حضرت سید محمد گیسودرازؒ کا بیان ہے کہ ہر جمعہ کی رات کو وہ فقیر وں اور بوڑھی عورتوں کے گھر پرجاتا تھا، ان کو ’ماں‘ کہہ کر پکارتا تھا او ر تنکے او رمٹھائیاں دیتا تھا قطب صاحبؒ اپنے سلسلے کی روش کی پابندی کرتے ہوئے دربار میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔توسلطان نے ہفتہ میں دوبار ان کی قیام گاہ میں حاضری کو اپنا معمول بنالیا تھا۔ ”رسالہ حال خانوادہئ چشت“ میں لکھا ہے کہ ایک بار انہوں نے سلطان کو ہدایت کی تھی: ”اے والی دہلی! باید کہ باغریباں وفقیراں ودرویشاں ومسکیناں نیکو ہاشی وباخلق نیکوئی کنی ورعیت پرورہاشی۔ہر کہ بارعیت رعایت کندو باخلق نیکوئی کند، خدائے تعالیٰ اور انگاہ داردوجملہ اعدا، و(ر) دوست یدارند“۔

اے والی دہلی! تجھے چاہیے کہ غریبوں، فقیروں، مسکینوں کے ساتھ نیکی سے پیش آئے اور خلق خدا کے ساتھ نیکی کرے اور رعیت پرورہو۔ جو بھی رعیت کے ساتھ رعایت کرتاہے اور خلقت کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو حفاظت کرتاہے اور اس کے دشمن بھی اس کو دوست سمجھنے لگتے ہیں۔

ایلتتمش کے کرداری کشش اور مشایخ سے عقیدت کی شہرت نے باہر سے آنے والے صوفیہ کے قدم دہلی میں رو ک لیے۔ دہلی کے جن مشایخ سے اس کے خصوصی مراسم قائم ہوئے ان میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ، قاضی حمیدالدین ناگوریؒ، خواجہ موئینہ دوڑ، سید نورالدین مبارک غزنویؒ، شیخ نجیب الدین نخشبیؒ وغیرہ ہم خاصل طور پر قابل ذکر ہیں۔ پھر دہلی میں صوفیہ کی بہت سی رسوم وروایات بھی ایلتتمش کی وجہ سے قائم ہوئیں۔ جب قاضی حمید الدین ناگوریؒ نے سماع کی محفلیں منعقد کی۔ معاملہ کی حیثیت شرعی تھی، اس لئے محضرطلب کیا گیا۔ قاضی حمیدالدین ناگوریؒ نے سلطان کو بچپن کا وہ واقعہ یاددلایا جب بغداد کی ایک محفل سماع میں وہ تمام رات ایک نوکرکی حیثیت سے مشایخ کی خدمت میں حاضر رہا تھا، اور مشایخ نے اس خدمت سے خوش ہوکر۔

دروں شب ترا ملک ہندوستاں

بدادند ز آں چاکریئ عارفاں

اپنی ابتدائی زندگی کا یہ واقعہ اس کے پردہ ذہن پر ایک تصویر کی طرح دوڑ گیا، اس نے قاضی حمیدالدین ناگوریؒ سے معذرت کی او رسماع پر کوئی پابندی عاید نہیں کی۔’فوائد الفؤاد‘ میں لکھا ہے کہ دہلی میں سماع کا رواج قاضی حمید الدین ناگوریؒ کے ذریعہ ہوا۔دہلی کے قاضی مولانامنہاج الدین نے جب ان کی ہم نوائی کی تو سماع کا رواج عام ہوگیا۔ سلطان غیاث الدین تغلق کے عہد تک ایلتتمش کے اس فیصلہ کااحترام ہوتا رہا اور دہلی میں صوفیہ کی کسی محفل سماع پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔

ایلتتمش کے زمانے میں دہلی میں چشتیہ سہرورد یہ،فردوسیہ مشایخ کی خانقاہیں قائم ہوئیں، اوربہت سے متفرق صوفی گروہ یہاں آکر بس گئے۔ طوسی،حیدری، قلندری وغیرہ سب نے اپنے زاویے قائم کرلیے۔ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ فرمایا کرتے تھے کہ ان کے بہت سے خلفاء ہندوستان میں مقیم ہیں، ان میں سیدنورالدین مبارک غزنویؒ شیخ ترک یابانیؒ، مولانا مجدالدین حاجی، شیخ ضیاء الدین رومیؒ دہلی میں مقیم ہے۔ لیکن بعض اسباب کی بنا پر جن کا ذکر سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ نے اپنے مکتوب میں کیاہے دہلی سہروردی سلسلہ کا مرکز نہ بن سکی، گو بعض مشایخ سلسلہ مختلف اوقات میں یہاں سرگرم عمل رہے۔ فردوسی سلسلہ کی خانقاہیں شیخ رکن الدین فردوسیؒاور شیخ نجیب الدین فردوسیؒ نے قائم کیں۔ لیکن اس سلسلہ کو دہلی سے زیادہ بہار میں عروج حاصل ہوا،جہاں شیخ نجیب الدین فردوسیؒ کے خلیفہ شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ نے تصوف کی تعلیم اور سلسلہ کی تنظیم کو پھیلانے کے لیے پرُ خلوص او رمسلسل جدوجہد دکی۔

ایلتتمش کے بعد پوری ایک صدی بھی نہ گزرنے پائی تھی کہ دہلی میں، بقول صاحب ’صبح الاقحشیٰ‘ دوہزار خانقاہیں رشد وہدایات کے چراغ جلائے ہوئے نظر آنے لگیں۔ سلطان محمدبن تغلق کے زمانہ میں ایلتتمش کی بسائی ہوئی دلّی نے آخری سانس لیا۔خانقاہوں میں خاک اڑنے لگی، اوربقول سیدمحمد گیسودرازؒ، قطب صاحبؒ اور حضرت محبوب الٰہیؒ کی درگاہوں کے علاوہ کہیں چراغ بھی نظر نہ آتا تھا۔ یہاں کے بیشتر صوفیہ جبراً دکن بھیج دیے گئے او ر دہلی میں ایک ہوکا عالم ہوگیا۔لیکن دہلی کی قسمت میں بن بن کر بگڑنااور بگڑ بگڑ کر بننا لکھا تھا۔ فیروز شاہ نے اس کو از سرنو آباد کیا، اوردہلی کی عظمت گذشتہ پھرواپس آگئی۔ اس کے بعد دہلی سیاسی عروج اور زوال کی اہمیت ہی منزلوں سے گذری کتنے ہی خاندان تخت پر آئے اور ختم ہوگئے،بیرونی حملہ آوروں کی فوجیں اس کے دور درازوں پرکھڑی رہیں، سیاسی اقتدار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا،لیکن یہاں کی خانقہی زندگی اور صوفیہ کی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہواجتنی تیز وتند ہوئی اتناہی چراغ کو روشن رکھنے کا جذبہ مضبوط ہوتا رہا، شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کا بیان ہے کہ محمد شاہ کے زمانہ میں بایکس صاحب ارشاد بزرگ ہرخانوادے کے دہلی میں موجود تھے۔غالباً اسی وقت سے ’بایکس خواجہ کی چوکھٹ‘ کاجملہ رائج ہوا۔(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-45/d/138676

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..