New Age Islam
Fri Feb 27 2026, 03:28 PM

Urdu Section ( 6 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔49)

31 جنوری،2026

حضرت محبوب الہٰیؒ انسانوں کو انسانیت کااحترام سکھانے کے لیے بے چین رہتے تھے۔ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ ان کی کوششوں کانتیجہ یہ ہواکہ ”معاصی میان مرد ماں کم شدہ بود۔“انہوں نے جذبہ انتقام سے دلو ں کو پاک کرنے کی تعلیم دی، غصہ پی جانے کے بجائے معاف کرنے کوبہتر بتایا، برُائی کابدلہ بھلائی سے دینے کی تلقین کی، اورفرمایا کہ اگر کوئی تمہاری راہ میں ایک کانٹا رکھ دے، اور تم اس کے جواب میں ایک رکھ دو، تو زندگی میں کانٹے ہی کانٹے ہوجائیں گے۔ وہ شیخ ابوسعید ابوالخیرؒ کی یہ رباعی اکثر اپنی مجلسوں میں پڑھا کرتے تھے۔

ہر کہ مارا یا ر نہ وارد او را یار باد

وانکہ مازا رنجہ دارد راحتش بسیار باد

ہرکہ او در راہِ ما خارے نہد ا ز دشمنی

ہر گلے کز باغ عمر ش بشکفد بے خار باد

ایک دن صبح کے وقت اپنے جماعت خانہ کی چھت پرٹہل رہے تھے،جمنا ان کی خانقاہ کاعکس اپنے سینے پرلیے دبے پاؤں برابر سے بہہ رہی تھی،نیچے نظر گئی تو دیکھا کہ ہندو اپنے بتوں کی پوجا میں مصروف ہیں۔ فرمایا۔

ہر قوم راست راہے دینے وقبلہ گاہے

اس مصرع کی و سعتوں کو ذہن میں پھیلا ئیے تو اندازہ ہوگا کہ دہلی کی اس گنگا جمنی تہذیب کاعکس اس آئینہ میں اتر آیا ہے جس کے گرد دلّی کی مخصوص تہذیبی زندگی نے نشو ونما پائی تھی۔ خسرو کا یہ شعر اس فکر کی صدائے باز گشت ہے، یا یہ کہیے کہ تفسیرہے۔

اے کہ طعنہ ز بُت بہ ہندو بری

ہم ز وے آموز پرستش گری

اس شعر کو اقبال رواداری کا بہترین مظہر سمجھتے تھے، اور خود ان کے اس شعر میں محبوب الہٰیؒ کے اس مصرع کی روح سمٹ آئی ہے۔

ہے تہِ دامان بادِ اختلاط انگیز صبح

شورش ناقوس آوازِ اذاں سے ہمکنار

حضرت محبوب الہٰیؒ کی تعلیم پر اگر بعد کو آنے والی نسلوں نے عمل کیاہوتا تو مذہبی رواداری اور انسان دوستی کی روایات ایک آفاقی نقطہ نظرپیدا کردیتیں۔

تصوف کا سارا تربیتی نظام بے اثر تھا اگر اس میں خود ی کی تعلیم کا فرمانہ ہو۔بقول اقبال۔

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور

تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

امیر خسروؒ کے کلام کا اس نظر سے مطالعہ کیا جائے تو انداز ہوگا کہ دہلی کے اکابر مشایخ نے اس خودی کی نگہبانی کس طرح کی تھی۔ انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

جان جہان ہمہ عالم توئی

وانچہ جہانِ ہمہ عالم توئی

وانچہ نگنجد بحیہاں ہم توئی

نور تو ہنگامہ انجم شکست

دست تو تسبیح ملائک گسست

انسان کی نگاہ پاک او رمقاصد بلند ہونے چاہئیں، اس کو چاند میں اپنی گزرگاہیں تلاش کرنی چاہئے۔کہتے تھے۔

مرتبہ بجو کہ برانی بماہ

جس نے ستاروں پر کمند نہیں ڈالی، وہ تخلیق آدم کا مقصد نہیں سمجھا۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ اپنے تصورِ خودی کو مستحکم کرنے میں خسروؒ کی مثنوی ’مطلع الانوار‘ سے روشنی حاصل کی تھی۔ شیخ نظام الدین اولیاؒ کے زمانہ میں شاید ہی دہلی کی کوئی اہم شخصیت ہو، عالم، شیخ، صوفی، مؤرخ، ادیب، شاعر، امیر، جوان سے عقیدت وار ادت کا تعلق نہ رکھتا ہو۔برنی نے ان کے زمانہ میں غیاث پور کانقشہ کھینچا ہے کہ عقیدت مندوں کاہجوم غیاث پور کی طرف ہروقت دیکھا جاسکتا تھا۔ راستہ میں چھپّر ڈال کر نماز کاانتظام کردیا گیا تھا، جہاں مٹکے پانی سے بھرے رہتے تھے۔ عقیدت مند والہانہ انداز میں غیاث پور کی طرف بڑھتے تھے۔شاہ عبدالعزیزؒ تو یہ کہا کرتے تھے کہ غیاث پور میں قدم رکھتے ہی آدمی کی حالت بدلنی شرو ع ہوجاتی تھی۔ ہندوؤں کوجوان سے عقیدت تھی اس کی دومثالیں شاید بے محل نہ ہوں۔ خاکسار کے پاس ’فوائد الفؤاد‘ کاایک قلمی نسخہ ہے جو ایک ہندوراجہ نے اس اعتقاد سے لکھوایا تھا کہ جو دل کی مراد ہو وہ کتابت کے دوران پوری ہوجاتی ہے۔دوسرے لالہ چرنجی لال جنہوں نے ’سیر الاولیا‘ ء وغیرہ شائع کی تھیں اپنے نام کے ساتھ بڑی عقیدت کے ساتھ ’غیاث پوری‘ لکھاکرتے تھے۔ اس زمانہ میں بعض دیگر سلاسل کے بزرگ بھی دہلی میں موجود تھے، جن میں شیخ نورالدین یار پراں ؒ، شیخ ابوبکر طوسی حیدریؒ وغیرہ خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔ محمد بن تغلق نے جب مشایخ دہلی کو جبراً دکن روانہ کیا تو دہلی میں تصوف کی روایات اور اس کے اداروں پرپژ مردگی چھاگئی۔ صرف شیخ نصیر الدین چراغ دہلویؒ کی ذات تھی جو اس طوفانی دور میں عزم وہمت کا ستون بنی اپنی جگہ قائم رہی۔انہوں نے حضرت محبوب الہٰیؒ کی روایات کی اس طرح پاسبانی کی کہ بقول مولانا حمید قلندر ان کی مجلس سے وہی خوشبو آتی تھی جو شیخ نظام الدین اولیاؒ کی مجلس میں آیا کرتی تھی۔محمد بن تغلق امام ابن تیمیہؒ کے نظریات سے متاثر تھا۔ خانقہی نظام، صوفیانہ رسوم اور تصو ر ولایت کا سخت ناقد تھا۔شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ نے اس کو تصوف سمجھانے کی کوشش بھی کی، لیکن سود مندنہ ہوئی۔شیخ نصیرالدین چراغؒ نے بعض تصورات کی اصلاح کی، اور یہ اعلان کرکے کہ:

”شرب پیر حجت نمی شود، دلیل از کتاب وسنت می باید“

تصوف کی تحریک کو ایک زبردست crisis سے بچالیا۔انہوں نے ایک فکری انقلاب کاجو سلطان وقت کی سرکردگی میں بڑھتا آرہا تھا بڑی ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ مقابلہ کیا۔دہلی کے دو مشایخ جنہوں نے سلطان محمد بن تغلق کی مخالفت کی شیخ صلاح الدین درویشؒ اورشیخ شہاب الدین حق گو تھے۔شیخ صلا ح الدین ؒ کی ’مناجات صلاح‘ ایک زمانہ میں بہت مقبول تھی۔ شیخ شہاب الدینؒ میرٹھ کے شاہ ولایت مولانا فخرالدین زاہدیؒ کے بیٹے تھے۔(جاری)

----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-49/d/138741

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..