خلیق احمد نظامی
(حصہ۔50)
1 فروری،2026
شیخ نصیرالدین چراغ دہلویؒ کے بعد دہلی کی مرکزی حیثیت ختم ہوگئی، اورجس طرح صوبوں میں خود مختارحکومتیں وجود میں آئیں اسی طرح مرکز سے بے تعلق خانقاہیں بھی قائم ہوگئیں۔ دہلی سے تصوف کا فکری سرمایہ دکن،بنگال، گجرات کو کثیر مقدار میں منتقل ہوا، اور بعض مقامی ضروریا ت کو پیش نظر رکھ کر نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔دکن میں جو تصوف کا لٹریچر وجود میں میں آیاوہ سب خواہ ’قوام اعقائد‘لویا ’احسن الاقول‘، تنائس الانفاس‘ ہو یا ’شمائل الاتقیاء‘، نہ صرف دہلی کی روایات اس میں متحرک نظر آتی ہیں، بلکہ’یاد وطن‘ کے ولآویز جذبات بھی ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پندرہویں صدی میں دہلی میں مختلف خانوادوں کے بزرگ موجود تھے، اور اپنی اپنی جگہ تصوف کے افکارکی نشرواشاعت میں مصروف تھے،لیکن ان میں کوئی ’کل ہند‘ شخصیت موجود نہ تھی۔ ا س زمانہ میں شیخ سماء الدین سہروردیؒ اور ان کے مرید خاص شیخ فضل اللہ المعروف بہ درویش جمالی نے سہروردیہ سلسلہ کو دہلی میں پھیلانے کی کوشش کی۔جمالیؒ نے اسلامی ممالک کا سفربھی کیا اور وہاں سے واپسی پر ’سیرالعارفین‘ مرتب کی ’سیرالعارفین‘ جامی کی نفحات الانس‘ کی صدائے بازگشت ہے۔جمالی ہرات میں مولانا جامیؒ کی مجلس میں پہنچے تو جسم پر کپڑا نہ تھا سر سے پیر تک گرد آلود،چہرہ پریشان حال، جامی کی مجلس میں پہنچے جو نفاست، صفائی اور باقاعدگی میں مشہور تھی،او ران کے قریب بیٹھ گئے جامیؒ نے تعجب او ریک گونہ ناراضگی سے ان کی طرف دیکھا اور پو چھا: ”کہاں سے آئے ہو؟“عرض کیا:”ہندوستان سے۔”پوچھا“ جمالی سے واقف ہو؟“ جمالی کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں جاری ہوگئے اورنہایت روکے ساتھ یہ شعر پڑھا۔
مارا نہ خاک کویت پیراہنے ست برتن
آں ہم ز آب دیدہ صد چاک تا بدامن
جمالیؒ جب یہ شعر پڑھ رہے تھے تو آنسو ان کے جسم پر بہہ کر گرد کو چاک چاک کررہے تھے۔جامیؒ بے اختیار لپٹ گئے۔یہ پہلا موقع تھا جب دہلی اور ہرات کی فکر ملی اور ہندوستان میں حالات مشایخ کی ترتیب وتدوین کا نیا دور شروع ہوا۔ جمالیؒ نے ہندوستان کے تمام تذکرہ نویسوں کو جنہوں نے آئندہ صدی میں کتابیں لکھیں متاثر کیا۔ گو شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے اصول اسناد کو پیش نظر رکھ کر’اخبارالاخبار‘ کو دوسرے انداز میں ترتیب دیا، لیکن بہر حال جمالیؒ اس راہ پر پہلے چلے تھے۔’گلزار ابرار، سیرالاقطاب،”اخبارالاصفیاء‘، سب نے اس سے فائدہ اٹھایا اور صوفیہ کے تذکروں کی ترتیب میں ’سیرالاولیاء‘ سے جو روایت قائم ہوئی تھی اس کو تقویت حاصل ہوتی رہی۔
اکبر کا بالکل آخری دور تھا جب حضرت خواجہ باقی باللہؒ کا کابل سے دہلی پہنچے۔ان کا انتقال صرف چالیں برس کی عمر میں ہوا اور دہلی میں کام کرنے کا وقت بھی کم ملا۔ لیکن ان کی شخصیت میں عجیب کشش اور ان کے اخلاق میں غیر معمولی دلنوازی تھی کہ جو انکے قریب پہنچ جاتا ان ہی کاہوجاتا۔ صوفیہ، علماء، امراء سب یکساں عقیدت کے ساتھ ان کے دامن میں تربیت سے وابستہ ہوگئے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، نواب مرتضیٰ خاں شیخ فرید، عبدالرحیم خان خاناں ان کے معتقدات اور ارادت مند تھے۔عشق الہٰی کے استغراق کا ترجمان ان کا یہ شعر ہے۔
دریا دریا اگر بکامت ریزند
گم باید گرد وخشک لب بایدبود
ایک مرتبہ لاہور گئے وہاں قحط سالی کا دور تھا۔انہوں نے کئی دن تک کھانا نہیں کھایا۔جب بھی کھاناسامنے لایاجاتا، کہتے: ”انصاف سے بعید ہے کہ کوئی بھوکا پیاسا گلی کوچوں میں جان دے اور ہم کھاناکھائیں۔“ اور ساراکھانا بھوکوں کو بھیجوا دیتے۔ان کی سیرت میں علم، دلنوازی اورانسان دوستی کوٹ کوٹ کربھری گئی تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ سلوک کا حاصل تہذیب اخلاق ہے۔کبھی سختی سے امر معروف نہ کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ا مرِ معروف عالموں اورمحتسبوں کا کام ہے۔ ان کا انداز انتا مثلقانہ اور طرز اتنا دلکش تھاکہ لوگوں پر ان کی تعلیم اثر کیے بغیر نہ رہتی تھی۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ ساری جدوجہد کااصلی مقصود آدمی کو ”آدمی“ بنانا ہے۔ ان کی زندگی زبان حال سے پکارتی تھی۔
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے، اور آئینہ سازی
ان کی خلفاء میں شیخ احمد سرہندی مجدّد الف ثانیؒ تھے جنہوں نے نقشبندی سلسلہ کی نشرواشاعت میں غیر معمولی کارنامے انجام دیے اور ان کے مریدین جیسا کہ جہانگیر نے اپنی ’تزک‘ میں لکھا ہے، ہر شہر اور دیار میں پہنچ گئے۔خواجہ باقی باللہؒ کے زیر اثر دہلی نقشبندی سلسلہ کا ایسا مرکزبنی کہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ، شاہ ولی اللہ،مرزامظہر جان جاناں ؒ اور شاہ غلام علیؒ کی سرگرمیوں نے یہاں کی فضا بدل دی۔دورِ سلطنت کی دلّی پر اگر چشتیہ سلسلہ کا رنگ غالب تھا تو عہد مغلیہ میں نقشبندی سلسلہ یہاں کی روحانی زندگی کا مرکز ومحور تھا۔انڈیا آفس کے کتب خانہ میں DelhiCollection (جو ان مخطوطات پرمشتمل ہے جو لال قلعہ سے منتقل کیے گئے تھے) بیشتر کتابیں نقشبندی سلسلہ سے متعلق ہیں، جس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ قلعہ تک یہ اثرات کام کررہے تھے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا حقیقی کام توبحیثیت محدثین او رعلمائے دن ہے، لیکن دہلی میں تصوف کے نشوونما کی کوئی تاریخ ان کے افکار واثرات کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔دونوں نے علم حدیث کی آبیاری کی اور شریعت کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔دونوں نے علم حدیث کی آبیاری کی اور شریعت اور طریقت کے درمیان خلیج کو پرُ کیا۔ شاہ ولی اللہؒ نے قرآن پاک کا ترجمہ کرکے مذہبی احساس وشعور کو ایک نیا رُخ دیا۔ اور مجتہدانہ فکر کے دروازے کھول دیے۔ تصوف کی جو کتابیں ان دونوں نے خود لکھی ہیں یا ان کے زیر اثر لکھی گئی ہیں، ان میں تصوف ’احسا ن‘ کی شکل میں نمودار ہواہے۔ اس طرح تصوف کی بنیادی حیثیت بہت مضبوط ہوگئی۔ اور صوفیہ اور علماء کے درمیان جو فکری خلیج تھی، اس کے پرہونے کاسامان مہیا ہوگیا۔
شیخ عبدالحق محدثؒ کے چچا شیخ رزق اللہ مشتاقیؒ فارسی اور ہندی دونوں میں شعر کہتے تھے۔ ہندی میں راجن اور فارسی میں مشتاقی تخلص تھا۔ ’صبح گلشن‘ میں ان کے متعلق لکھا ہے:
”درکتب علمیہ ہندوں مہارتے کامل داشت۔“
ہند و علوم میں دستگاہ کی جس روایت کو مشتاقی نے تقویت پہنچائی، وہ بنیادی طور پر وہی تھی جس کو امیر خسروؒ نے رواج دیاتھا او رکہا تھا۔(جاری)
-------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-50/d/138758
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism