خلیق احمد نظامی
(حصہ۔55)
6 فروری،2026
شاہ صاحبؒ کے رات دن علوم دین کے درس میں صرف ہوتے تھے۔وقت بچتا تو کلام اللہ لکھ کر وقف کرتے تھے۔ اتباعِ سنت نبوی کا خاص اہتمام تھا۔ شاہ غلام علی صاحبؒ کے بعد 9یا10 سال تک سجادہ پربیٹھے او رہمیشہ اتباع سنت کی تلقین کرتے رہے۔ آپ کی شکل بے حد نورانی تھی اور ”بے اختیار آپ کی صحبت میں حاضر رہنے کو جی چاہتا تھا۔“ اخلاق کی وسعت کا یہ عالم تھاکہ ہر ملنے والایہ سمجھتا تھا کہ جس قدر خصوصیت مجھ سے ہے کسی سے نہیں۔ مولوی حسین مصنف مشایخ نقشبند یہ لکھتے ہیں ”چونکہ آپ کے مزاج میں ایثار بدرجہ غایت تھا اس سبب سے تلخی وسختی فقر وفاقہ کہ حسن درویشی ہیں بہت جھیلیں۔تحمل و بردباری و شکست ومسکنت آپ کے مزاج میں اس قدر تھی کہ جو شاہ صاحب قبلہ کے منکر تھے وہ بھی آپ کے مرید ہوگئے۔“

شاہ صاحب کا گھربار بھی تھا او ربال بچے بھی۔ ان علائق کے باوجود ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ شاہ غلام علی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے ”مجھ کوابوسعیدؒ پرفخر ہے۔میں نے اگر فقیری کی تو کسی کا غم نہیں رکھتا۔ ابوسعید ؒ کو دیکھو کہ باوصف علائق دنیاوی کے اپنے معبود کی عبادت میں مصروف ہے کہ گویا مطلق کوئی تعلق نہیں رکھتا۔“
شاہ ابوسعیدؒ سے ہزاروں آدمیو ں نے فیض حاصل کیا۔ انہو ں نے تمام غیر ممالک سے جہاں سلسلہ مجددیہ جاری تھا اپنا رابطہ قائم رکھا۔شیخ خالد کردیؒ کے خطوط برابر آتے جاتے تھے۔ ایک خط جس سے سلسلہ کی اشاعت کا پتہ چلتا ہے ذیل میں نقل کیاجاتاہے۔
”مرکز دائرہ غربت و مہجوری خالد کردی سہردوری بعرض مقدس عالی مخدومی جناب ابی سعید مجدی معصومی میر ساند اگر چہ بہ یمن ہمت حضرت قبلہ عالم روحی فداہ فیوض خاندان عالیہ آباد، واجداد کرام آں مخدوم عالی مقام کہ بیرون از خیز تحریر وخارج از حوصلہ تقریر است اما بفحوائے مالا بدرک کلمہ لابئرک کلمہ بمقام شکر گذاری برآمدہ عرض حضوری نماید کہ یک قلم تمامی مملکت روم وعربستان دیار حجاز و عراق وبعضے از ممالک قلمر وعجم وجمیع کردستان از جذبات و تاثیرات طریقہ علیہ سرشار در ذکر ومجامد حضرت امام ربانی۔“
آخر عمر میں آپ کو حرمین شریفین کی زیارت کاشوق ہوا۔ راستے میں بمقام ٹونک وصال فرمایا۔ آپ کی دہلی لاکر حضرت شاہ غلام علی صاحبؒ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
شاہ احمد سعید صاحبؒ
شاہ ابوسعید صاحبؒ کے چار صاحبزادے تھے۔آپ کے بعد بڑے لڑکے شاہ احمد سعیدؒ مجدوی(1802ء۔1860ء) سجادہ نشین ہوئے۔ شاہ احمد سعید صاحبؒ حافظ تھے او راپنے والد ماجد کی طرح عالم و فاضل تھے۔ حدیث وفقہ میں نہایت مہارت رکھتے تھے۔مولوی فضل امام صاحب او رمفتی شرف الدین صاحب سے علوم عقلیہ ونقلیہ حاصل کیے تھے۔اور مولوی رشیدالدین صاحبؒ سے، جو شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے علم حدیث کی سند حاصل کی تھی۔ درس وتدریس آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ دور دور سے طلباء آپ کے پاس آتے تھے۔علم دین پرپورے عبور اور کامل واقفیت کی وجہ سے استفتاء آپ کے پاس بھیجے جاتے تھے او رآپ کے فتوی کو نہایت عزت او راحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
شاہ صاحبؒ اپنے بزرگوں کی طرح سنت وشریعت کی تلقین میں مشغول رہتے اور مریدوں کو اتباع سنت کی ہدایت فرماتے رہتے تھے۔ شاہ غلام علیؒ فرمایا کرتے تھے:”ابوسعید، رؤف، بشارت للہ اور احمد سعید، اس زمانہ میں ستون دین محمدی ہیں۔“
شاہ صاحبؒ کے زمانہ میں شاہ غلام علی صاحبؒ کی خانقاہ کی شان وشوکت برقرار رہی، ان کے یہاں ہندوستان وخراساں سے لوگ آتے تھے او ران کے خلفاء قندھار وکابل میں موجود تھے۔انہوں نے شاہ غلام صاحبؒ کے سلسلہ کے بین الاقوامی نظام کو قائم رکھا۔ ہندوستان سے باہربھی ان کے عقیدت وارادت کایہ ہی عالم تھا۔ حاجی امداد اللہ صاحب مہاجرمکیؒ سے روایت ہے:”شاہ احمد سعید مجھ سے پہلے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تھے جب میں وہاں پہنچا تو آپ بہت مریض تھے۔ترک لوگ قلعہ میں معالجہ کے لیے اٹھا لے گئے تھے۔ ترک ان کی بہت تعظیم وتوقیر کرتے تھے۔“
غدر کے ہنگامہ میں شاہ صاحبؒ اپنے اہل وعیال کو لے کر مجبوراً حرمین شریفین چلے گئے تھے۔ ان کے ہندوستان سے چلے جانے کا نتیجہ یہ ہواکہ عقیدت وارادت کا ایک ایسا مرکز ٹوٹ گیا جس کے ذریعہ ہندوستان کے مسلمانوں کا تمام ممالک اسلامیہ سے قریبی روحانی رشتہ بندھا ہوا تھا۔ ان کے ہندوستان میں قیام کے زمانہ میں عجم وعرب کے بہت سے لوگ دلّی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے 1277 ھ میں وصال پایا حضرت عثمانؓ کے روضہ کے قریب مدفون ہوئے۔
شاہ عبدالغنیؒ
شاہ عبدالغنی صاحبؒ (1819 ء۔1879ء) شاہ احمد سعید صاحبؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور ان کے بعد سجادہ پربیٹھے تھے۔ ان کا علمی تبحربے مثال تھا۔انہوں نے حدیث کی کچھ کتابیں اپنے والد ابوسعید صاحبؒ سے پڑھی تھی او رکچھ شاہ محمد اسحاق صاحبؒ سے۔شاہ اسحاق صاحبؒ اور شاہ ابوسعید صاحبؒ دونوں محدث زماں حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے شاگرد ہیں۔ اس طرح ہر دوسلسلہ سے آپ کی اسناد حدیث تیسری پشت پر شاہ ولی اللہؒ سے جا ملی ہے۔مشکوٰۃ شریف حضرت شاہ صاحبؒ نے شاہ رفیع الدین صاحبؒ کے صاحبزادے مولانا مخصوص اللہ صاحبؒ کو پڑھ کر سنائی تھی اور بعد ہجرت مدینہ میں بخاری شریف کاکچھ حصہ تبرکا شیخ محمد عابد انصاریؒ السندھی ثم المدنی کو سنایا تھا۔مدینہ منورہ ہی میں مقدونیہ کے مشہور عالم شیخ اسمٰعیل بن ادریس الرومیؒ نے خود اپنی خوشی سے صحاح کی اجازت آپ کو عطا کی۔ ان سب اساتذہ کی اسانید باالتفصیل ایک مستقل کتا ب کی صورت میں طبع ہوچکی ہیں جن کا نام ’الیانع الجنی‘ ہے۔
غرض شاہ عبدالغنی صاحبؒ حدیث میں یگانہ روزگار تھے۔ اپنے عہدکے پانچ بہترین اساتذہ سے سند حاصل کرچکے تھے۔ علمی تبحرسے قطع نظر ان کا تقدس اور تقویٰ بے مثال تھا۔سرسید نے اسی وجہ سے ان کو ”فنانی السنت“ لکھا ہے۔ شریعت کے مقابلہ میں احتیاط کا یہ عالم تا کہ صرف اس خیال سے کہ ”ہندوستان میں جو طریق بیع وشرابعض بعض فواکہ وغیرہ کا جاری ہے وہ از روئے شرع درست نہیں، ان چیزوں کے مزہ سے واقف نہیں۔“ (جاری)
----------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/ufi-saints-sufism-part-55/d/138818
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism