خلیق احمد نظامی
(حصہ۔56)
7 فروری،2026
شریعت کے اس احترام کی مثال قرآن وسطیٰ کے مسلمانو ں میں مل سکتی ہے۔شاہ صاحبؒ کی اس احتیاط کو دیکھ کر حضرت امام احمد حنبل کاوہ اہتمام یاد آجاتاہے جو انہوں نے بغداد میں قیام کے زمانہ میں موصل سے آٹا منگانے کے سلسلہ میں کیا تھا۔بغداد کو حضرت عمرؓ نے نمازیوں پر وقف کیا تھا اسلئے امام صاحب وہاں کا آٹا کھاناجائز تصو ر کرتے تھے اور موصل سے آٹا منگاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ شاہ عبدالغنی صاحبؒ شریعت کومذہبی زندگی کامرکز تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھاکہ مسلمان کے لئے سوائے اتباع شریعت دین ودنیا میں کوئی راہِ فلاح ونجات نہیں۔اسی لئے وہ مذہی معاملات میں نہایت سختی برتتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے ”سوائے انحراف از حکم شریعت کے سخت سے سخت کوئی مصیبت نہیں۔“
شاہ عبدالغنی صاحبؒ سے فیض یاب ہونے کے لئے ملک کے گوشہ گوشہ سے طلبا آتے تھے۔ ان کی خانقاہ سینکڑوں علماء کا مرکز بن گئی تھی۔ ان کے فیض تعلیم نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ جیسے عالم اور بزرگ پیدا کیے جو فقہ حنفی کے ایک راسخ القدم امام اور مجتہد تھے۔
غدر کے بعد شاہ صاحبؒ ہندوستان سے ہجرت کرگئے او رمدینہ منورہ میں قیام فرمالیا۔ 1296ھ (1879ء) میں وصال فرمایا اور وہیں شاہ ابوسعید صاحبؒ کے قریب مدفون ہوئے۔

شاہ محمد آفاق صاحبؒ
شاہ محمد آفاق صاحبؒ (1747ء۔1835ء) مجدد یہ سلسلہ کے بڑے عظیم المرتبت بزرگ تھے۔آپ شاہ ضیاء اللہ صاحب نقشبندی ؒ کے مرید اور خلیفہ تھے۔خواجہ میردرد کی صحبت میں بھی رہے تھے اور ان سے فوائد باطنی اخذ کیے تھے۔ آپ کے فیضان صحبت سے بہت لوگ مستفید ہوئے۔ ایک چشمہ فیض تھا جو جاری تھا اور جہاں سینکڑو ں تشتگان معرفت جمع ہوتے تھے۔دلّی میں آپ کا بڑا رعب اور احترام تھا۔شاہ غلام علی صاحبؒ نے کتاب’سید الرشدین‘ کے حاشیہ پر لکھا ہے:”حضرت شاہ محمد آفاق سلمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ضیاء اللہؒ سے جو حضرت خواجہ محمد زبیرؒ کے خلفاء میں ہیں اس خاندان کی نسبت سرگرمی کے ساتھ حاصل کی ہے اور اس وقت حلقہ او رمراقبہ اور افادہ نسبت میں ممتاز ہیں۔“
یہ ایک معاصر بزرگ کی رائے ہے اور لفظ بہ لفظ صحیح ہے۔یقینا آپ کاآستانہ مخزن فیض وبرکت بنا ہوا تھا۔ اور دور دراز سے لوگ آتے تھے او رفیض پاتے تھے۔ شاہ غلام علی صاحبؒ آپ کے علم وفضل، زہدوع سے اس قدر متاثر تھے کہ اپنے مریدو ں کو بعد تعلیم آپ کی خدمت میں تکمیل کیلئے بھیجتے تھے۔ شاہ صاحبؒ جب کابل تشریف لے گئے تو زماں شاہ بادشاہ کابل آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوا۔آپ میں زہدوامی اس درجہ تھا کہ ہر شخص حیرت میں رہ جاتا تھا۔ساتھ ساتھ کسر نفسی بے حد تھی۔آپ کے ہزاروں مرید اور بے شمار خلفا تھے۔بعض مرید نہایت ذی مرثبت عالم اوربزرگ تھے او راپنے زمانہ میں یگانہ و یکتا سمجھے گئے مثلاً شاہ فضل رحمان صاحبؒ، جن کے خرمن کمال سے سینکڑوں ہزاروں نے فیض حاصل کیا۔ اور شاہ نصیرالدین دہلویؒ جو شاہ رفیع الدین صاحب کے نواسہ اور شاہ محمد اسحٰق صاحب کے داماد تھے، ان دونوں بزرگوں نے شاہ محمد آفاق کے نام کو شہرہ آفاق کردیا۔ 1835 ء میں حضرت شاہ محمد آفاق صاحبؒ نے وصال فرمایا۔منڈی کے قریب مغل پورہ میں ایک چھوٹی سی مسجد میں آپ کا مزار ہے۔
حاجی علاء الدین صاحبؒ
حاجی علاء الدین صاحبؒ شاہ محمد آفاق کے خلیفہ اور سجادہ نشیں تھے۔ انہوں نے بڑا مجاہدہ کیا تھا۔تمام وقت عبادت میں صرف کرتے تھے۔ آخر عمر میں آپ آنکھوں سے معذور ہوگئے تھے اور پاؤں نہیں اُٹھ سکتے تھے۔ لیکن صوم صلوٰۃ کی پابندی کا وہی عالم تھا۔ایک لمحہ بھی اطاعت حق سے غافل نہیں ہوتے تھے۔ان کے زہدو انقا نے شاہ محمد آفاقؒ کی خانقاہ میں عقیدت مندوں کے ہجوم کوبرقرار رکھا۔
مولانا شاہ قطب الدین صاحبؒ
چشتیہ سلسلہ میں اس وقت سب سے زیادہ شہرت او رعزت حضرت شاہ فخرالدینؒکے خاندان کو حاصل تھی۔شاہ صاحبؒ نے دلّی میں جو مقبولیت عامہ حاصل کی تھی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ شاہ وگداز عارف وعامی، سب ہی ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے او ران سے فیض حاصل کرتے تھے۔ شاہ فخرالدین صاحبؒ کے بعد ان کے فرزند مولانا شاہ قطب الدینؒ مسند نشیں ہوئے۔ان میں اپنے با پ کی بہت سی خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ اس لیے وہ بہت جلد مرجع خلائق بن گئے۔ بادشاہ نے بھی ان سے بیعت کی۔ ’شجرۃ الانوار‘ میں لکھا ہے: ”حضرت ظل سبحانی محمد اکبر شاہ بادشاہ صاحبقران ثانی، دام اللہ سلطنتہ و ارفع درجۃ، با عتقاد تمام مریداں فرزند رشید حضرت فخر صاحب گشتنہ و بعضے فرزندان و متعلقان فود رانیز مرید کنا نید ندوبہ محبت تمام خودر ا داخل سلسلہ فخر یہ نمودہ بادشاہ کونین گشت۔“
1824 ء کو آپ نے وصال فرمایا او رحضرت قطب صاحبؒ کے جوار میں آسورہ ہوئے۔
میاں نصیرالدین عرف کالے صاحبؒ
میاں نصیرالدین عرف میاں کالے صاحبؒ مولانا قطب شاہؒ کے بیٹے اور شاہ فخرالدین صاحبؒ کے پوتے تھے۔ دلّی میں عوام وخواص سب ان کاادب واحترام کرتے تھے۔ امیر وغریب سب کو ان سے عقیدت والحامت تھی۔ سرسید نے لکھا ہے:”اس زمانہ میں ایسا نامی گرامی شیخ نہیں ہے، حضور والا اور تمام سلاطین وجمیع مراء عظام آپ کے نہایت معتقد ہیں۔“
ان کاا خلاق نہایت اعلیٰ اور وسیع تھا۔ اس لیے وہ بے حد مقبول بھی تھے۔ دلّی کے چھوٹے بڑے سب ان سے ملتے تھے او ران کے خلوص ومحبت کے گرویدہ تھے۔غالب کو ان سے خاص لگاؤ اورآس تھا۔ایک خط میں لکھتے ہیں:”میں کالے صاحب کے مکان سے اُٹھ آیا ہوں۔ بلی ماروں کے محلہ میں ایک حویلی کرایہ کو لے کر اس میں رہتا ہوں۔وہاں کا میرارہنا تخفیف کرایہ کے واسطے نہ تھا صرف کالے صاحب کی محبت سے رہتا تھا۔“
بہادر شاہ ظفر کوکالے صاحبؒ سے خاص عقیدت تھی۔اکثر ان کی خدمت میں حاضرہوا کرتاتھا۔ شاہ صاحبؒ خود بھی بادشاہ کے پاس تشریف لے جاتے تھے۔ بمبئی کے احسن الاخبار اور دلّی کے سراج الاخبار کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپس میں کس قدر گہرے تعلقات تھے۔ یکم فروری 1845 ء کی خبر ہے:(جاری)
--------------------
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ
Related Article: Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ
URL: https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-56/d/138834
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism