New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 02:23 PM

Urdu Section ( 18 Feb 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔61)

12 فروری،2026

شاہ عبدالعزیز صاحبؒ

حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے فرزند شاہ عبدالعزیز صاحب (1824-1746ء) اپنے زمانہ کے سب سے زیادہ متبحر عالم تھے۔ علم و فضل میں وہ وحید عصر او ریکتائے زمانہ تھے۔’فقر ہ دین، فضل وہنر،لطف و کرم، علم وعمل“ سب خوبیاں ان کی ذات میں جمع تھیں۔ وہ علمی دنیا کے آفتاب تھے۔جس سنگر یزہ پر شعاعیں پڑ جاتیں وہ فعل ناب بن کر چمکتا۔حدیث وقرآن کاجو چرچا ان کے زمانہ میں ہوا اس کی مثال اسلامی ہند کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ان کے خرمن کمال کے ہزاروں خوشہ چیں تھے جو ملک کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئے تھے۔ ایک عالم نے سارے ہندوستان کی سیاحت کی او راسے علم حدیث کاکوئی بھی ایسا استاد نہ ملا جو حضرت شاہ عبدالعزیز کاشاگرد نہ ہو۔

شاہ ولی اللہ صاحبؒ نے جس وقت وصال فرمایا تھا اس وقت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کی عمر 17 سال کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مکمل 60سال تک دلّی میں علوم دینیہ کی ترویج وتبلیغ میں صرف کئے۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کے جتنے بھی مذہبی مدارس ہیں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طو رپر شاہ صاحبؒ ہی کی کوشش کے مرہون منت ہیں اور ان ہی کی روشن کی ہوئی شمع سے روشنی حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کوبھولا ہواسبق یاددلایا او رعلم کا یک معیار قائم کیا کہ ہرکس وناکس علوم دینی میں بے جادخل دینے کی (جیسا کہ انحطاط کے زمانہ میں اکثر ہوتاہے) جرأت نہ کرسکتا تھا۔سرسید لکھتے ہیں:”یہ آفت جو اس جزوزمان میں تمام دیار ہندوستان خصو صاً شاہ جہاں آباد حرسھا اللہ عن الشرو الفساد میں مثل ہوائے وہابی کے عام ہوگئی کہ ہر عامی اپنے تئیں عالم اور ہر جاہل آپ کو فاضل سمجھتا ہے اور قفط اسی پرکہ چند رسالہ مسائل دینی اور ترجمہ قرآن مجید کو اور وہ بھی زبان اردو میں کسی نے استاد سے او رکسی نے اپنی زور طبیعت سے پڑھ لیا ہے اپنے تئیں فقیہ ومفسر سمجھ کر مسائل ووعظ گوئی میں جرأت کر بیٹھا ہے۔آپ کے ایام حیات تک اس کا اثر نہ تھا بلکہ علماء متبحر(۰۰۰۰) جب تک اپنا سمجھا ہوا حضرت کی خدمت میں عرض نہ لیتے تھے اس کے اظہار میں لب کووانہ کرتے تھے۔“

اس طرح علوم دینیہ کی ایک خاص عزت اور وقار قائم ہوگیا۔ جو لوگ دلچسپی رکھتے تھے وہ باقاعدہ تحصیل علوم کرتے تھے۔ہر جاہل کو بے سروپا اور گمراہ کن باتیں پھیلانے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔

شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے علمی فیوض سے سارا ہندوستان مستفیض ہوا۔ مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم کا خیال تھاکہ ”شاہ ولی اللہ ؒ کے خواص سے اگر دس آدمیوں نے استفادہ کیا تو شاہ عبدالعزیز کے خو اص سے دس ہزار مستفید ہوئے۔‘‘ شاہ صاحبؒ نے ہفتہ میں دوبار مجلس وعظ کہاکرتے تھے۔ ان مجلسوں میں خواص وعوام مورملخ سے زیادہ جمع ہوتے تھے۔ شاہ صاحبؒ کی پابندی کا یہ عالم تھاکہ شدید علالت کے زما نہ میں بھی پابندی سے وعظ فرماتے تھے۔ ان کا طرز بیان بڑا دلکش تھا۔ بات مختصر لیکن دل میں اتر جانے والی کہتے تھے۔ ان کے ملفوظات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اس زمانہ کے مسلمانوں کے دل میں مذہب سے متعلق بہت سے شبہات پیدا ہورہے تھے او ریہ شاہ صاحبؒ ہی کا تبحر اور قابلیت تھی کہ ان کومطمئن کردیتے تھے۔ایک انحطاط پذیر سوسائٹی میں عوام کے’مذہبی ذہن و شعور‘ کو انتشار سے بچالینا شاہ صاحبؒ کا بڑ ا عظم الشان کارنامہ ہے۔وہ عوام کی نفسیات سے واقف تھے۔ مذہب کی روح سے واقف تھے۔مرض کی تشخیص کرچکے تھے، اس لیے علاج ہمیشہ کارگر ہوتاہے۔ سائل ہمیشہ مطمئن ہوجاتا تھا او را س کی شبہات دور ہوجاتے تھے۔ ایک شخص نے سوال کیا ”شریعت محمدی چرا اکمل شرائع باشد“۔جواب میں ارشاد ہوتاہے:”وجبش آں است کہ دردیگر شرائع لحاظ خصوصیات استعدادامت خاص وزمان ومصلحت آں وقت بود کہ اگر خلاف آں کنند نقصان شود پس کامل بودہ دیں شریعت لحاظ مصلحت نوع انسانیت پس تخصیص اوقات واستعدادامت خاص نہ باشد، بلکہ برائے ہر امت از فرض ونوافل وسنت بہ تشدد وسہولت موجود است گویا معتدل تریں شرائع شد۔“

جواب مختصر تھامگر اس قدر جامع کہ اس سے بہتر جواب ناممکن تھا۔ روح، معراج اور دیگر مسائل کے متعلق ان سے سوال کیے جاتے تھے او رنہایت تشفی بخش جوا ب ملتاتھا۔

شاہ صاحبؒ نے جو خدمات اسلام کی انجام دی ہیں ان پر سیر حاصل بحث کرنے کیلئے ایک علیحدہ مضمون کی ضرورت ہے۔یہاں اس قدر عرض کردینا کافی ہے کہ شاہ صاحبؒ کی مساعی کے چار پہلو تھے:

(1) علوم دینی حدیث قرآن کا چرچا کرنا اور ان کا صحیح معیار قائم کرنا۔

(2) اس زمانہ کے مختلف غلط مذہبی نظریات کی تصحیح او رشہادت کارفع کرنا او رمسلمانوں میں مذہبی حیثیت سے ’ذہنی انتشار‘ پیدا نہ ہونے دینا۔

(3) ہندوستان کے عرب سے زیادہ قریبی تعلقات

(4) ہندوستان کی دارالحرب قرار دے کر جہاد کی روح پھونکنا او رمجاہدین کی ایک سرفروش جماعت کاپیدا کرنا۔

شاہ رفیع الدین صاحبؒ

شاہ رفیع الدین صاحبؒ ابن شاہ ولی اللہ صاحبؒ دہلوی اپنے زمانہ کے جلیل القدر عالم تھے۔ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ چونکہ کبرسنی، ضعیف مزاج اورکثرت امراض کے باعث آخر عمر میں درس وتدریس کاکام انجام نہیں دے سکتے تھے، اس لیے شاہ رفیع الدین صاحبؒ اس خدمت پرمامور تھے۔ دور دور سے علماء آپ سے استفادہ حاصل کرنے کی غرض سے دلّی آتے تھے۔ وہ ہرفن او رمضمون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ جس فن کی تعلیم کی طرف متوجہ ہوتے ایسا معلوم ہوتا کہ یہ ہی آپ کا خاص مضمون ہے۔ ریاضیات میں بہت ماہر تھے۔ شاہ عبدالعزیز صاحبؒ فرمایا کرتے تھے:”مولوی رفیع الدین درریاضیات چنداں ترقی کردہ اند کہ شاید موجد آں محمد علی ہم بودہ باشد باز“۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

”درفن ریاضی مثل مولوی رفیع الدین درہندہ ولایت نخواید بود۔“

آپ کا تصانیف میں ’مقدمۃ العلم‘، ’رسالہ عروض‘، ’کتاب التکمیل‘،’رسالہ دفع الباطل‘،’اسرارالحجۃ‘ بہت مشہور ہیں۔آپ نے اردو میں قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیاہے۔ کبھی کبھی شعر بھی کہتے تھے۔شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کو آپ سے بہت محبت تھی۔ جامع ’ملفوظات‘ نے مولانا رفیع الدین صاحبؒ کے جنازے کی پوری کیفیت اور شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کا باوجود نابینا ہونے کے چار پائی اٹھانے کی کوشش کرنا نہات درد ناک پیرایہ میں بیان کیا ہے۔(جاری)

-------------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/ufi-saints-sufism-part-61/d/138896

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..