New Age Islam
Sat Apr 04 2026, 04:35 AM

Urdu Section ( 2 March 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Sufi Saints and Sufism-Part-73 تصوف اور صوفیہ

خلیق احمد نظامی

(حصہ۔73)

24 فروری،2026

شیخ مہائمیؒ کی دو اور مشہور کتابیں ’تفسیر تبصرۃ الرحمن‘ اور ’زوارف شرح عوارف المعارف‘ ہیں۔ ’تفسیر تبصرۃ الرحمن‘ کو حضرت مجدد صاحبؒ انتہائی ناپسند کرتے تھے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ ہی معلوم ہوتی ہے کہ شیخ مہائمیؒ نے اپنے نظریات کی روشنی میں قرآن پاک کی تفسیر کی ہوگی۔

شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کی ’شرح فصوص الحکم‘

حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ چشتیہ صابریہ سلسلہ کے مشہور بزرگ تھے۔ شیخ محدثؒ نے اُن کی ساری خوبیوں کو ایک جملہ میں بیان کردیا ہے :’’صاحبِ علم و عمل و ذوق و حالت و حلاوت وجد و سماع۔‘‘

شیخ اکبرؒ کے نظریات کا اُن پر بہت گہرا اثر تھا۔ محمد غوثیؒ کا بیان ہے کہ شیخ گنگوہیؒ نے ’فصوص‘ کی ایک شرح لکھی تھی۔ یہ شرح جہاں تک مجھے معلوم ہے اب دستیاب نہیں ہوتی۔

شیخ عمادالدین عارف کی ’شرح الفصوص‘

شیخ عمادالدین محمد عارف العثمانی المعروف بہ عبدالنبی شطاریؒ آگرا کے مشہور بزرگ شیخ عبداللہ شطاریؒ کے مرید تھے۔ انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی شرح ’شرح الفصوص‘ کے نام سے لکھی تھی۔

شیخ علی اصغر قنوجیؒ کی ’شرح الفصوص‘

شیخ علی اصغر (۱۶۴۱-۱۷۲۷ء) قنوج کے مشہور علماء میں تھے۔ ’حدائق الحنفیہ‘ میں لکھا ہے : ’’فقہ، حدیث، تفسیر، صرف، نحو، منطق، معانی میں وحیدالعصر ’فریدالدہر‘ تصوف و سلوک میں امام وقت تھے‘‘۔

انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی شرح ’جوامع الکلم فی شرح فصوص الحکم‘ کے نام سے لکھی تھی۔ اس کا ایک نادر نسخہ انڈیا آفس کے کتب خانہ میں ہے (نسخہ نمبر ۱۲۷۸)۔ شیخ قنوجیؒ کی بعض مشہور تصانیف یہ ہیں: ’ثواقب التزیل‘، ’تبصرۃ المدارج‘۔

محمد افضل الٰہ آبادیؒ کی ’شرح فصوص‘

شیخ محمد افضل الٰہ آبادی (۱۶۲۸ء-۱۷۱۲ء) میر سید محمد کالپیؒ کے مرید تھے۔ انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی شرح لکھی تھی، جو اُن کے زمانہ میں بہت پسند کی گئی تھی۔ اب یہ شرح نایاب ہے۔

شیخ نورالدین احمدآبادیؒ کی شرح

شیخ نورالدین (۱۶۴۵ء-۱۷۴۲ء) کا شمار گجرات کے مشاہیر علماء میں ہوتا تھا۔ حکیم سید عبدالحی مرحوم اُن کے متعلق لکھتے ہیں: ’’علامہ وجیہ الدین کے بعد گجرات میں باعتبار درس و تدریس اور کثرتِ تصنیفات کے اُن سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوا‘‘۔ آزاد بلگرامی نے لکھا ہے :

’’زیادہ بر یک صد و پنجاہ تصنیف صغیر کبیر در سلکِ تحریر کشید‘‘۔۲۹

انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی ایک شرح ’طریقۃ الامم فی شرح فصوص الحکم‘ لکھی تھی۔ اُن کی مشہور تصانیف کی فہرست ’یادِ ایام‘ اور ’حدائق الحنفیہ‘ میں درج ہے۔

سید عبدالاول دولت آبادیؒ کی ’شرح فتوحات‘

سید عبدالاول دولت آبادیؒ ہندوستان کے سب سے پہلے عالم ہیں جنہوں نے ’صحیح البخاری‘ کی شرح ’فیض الباری‘ لکھی ہے۔ شیخ محدثؒ نے اُن کے متعلق لکھا ہے:

’’دانش مند بود، جامع جمیعِ علوم عقلی و نقلی و رسمی و حقیقی۔‘‘

حضرت ابنِ عربیؒ کی تصانیف پر اُن کا عبور ضرب المثل تھا۔ ’گلزارِ ابرار‘ کے مصنف نے لکھا ہے:

’’شیخ محی الدین ابنِ عربی کی فتوحات میں خطبہ سے لے کر خاتمہ تک جو دشواریاں تھیں اُن کو مطالعہ کے زور سے حل کیا تھا، اور حاشیے اور تعلیقات لگاکر صاحبانِ استعداد کے واسطے آسان کردیا تھا۔‘‘

شیخ محب اللہ الٰہ آبادیؒ کی ’شرح فصوص الحکم‘

شیخ محب اللہ الٰہ آبادی (متوفی ۱۶۴۸ء) اپنے زمانہ کے مشہور علماء و مشایخ میں تھے۔ حضرت شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ کی تصانیف پر اُن کے عبور کا یہ عالم تھا کہ :’’تخلیقات و تدقیقاتش در علمِ تصوف بدرجۂ اجتہاد رسیدہ، بلکہ می رسد کہ شیخ ابنِ عربی را شیخ اکبر و وے را شیخِ کبیر گویند۔‘‘

انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی شرح عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں لکھی تھی۔

بحرالعلومؒ کی شرح ’فصوص الحکم‘

ملا عبدالعلی بحرالعلومؒ (المتوفی ۱۲۳۵ھ/ ۱۸۱۹ء) کا شمار ہندوستان کے نہایت ہی عظیم المرتبت علماء میں کیا جاتا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ صاحب فرماتے ہیں :’’ملا نظام الدین کے مشہور صاحبزادے ملا عبدالعلی ہیں، جن کے دم سے یہ چشمۂ فیض بڑھ کر دریائے فیض بن گیا۔ اور دنیا نے اُن کو بحرالعلوم کہہ کر پُکارا۔ یہ دریا لکھنؤ سے نکل کر بریلی اور رامپور سے ہوتا ہوا، خلیج بنگال کے پاس بوہار پہنچا اور وہاں سے مدراس ہوکر بحرہند کے کناروں سے مل گیا۔‘‘

انہوں نے ’فصوص الحکم‘ کی شرح ’شرح الفص النوحی من فصوص الحکم‘ کے نام سے لکھی تھی۔ اس کا ایک نادر نسخہ رامپور کے کتب خانہ میں موجود ہے (نمبر ۳۴۸)۔

ان شروح کے علاوہ بعض اور شرحیں بھی ہندوستان میں لکھی گئی تھیں۔ مثلاً شیخ عبدالکریم لاہوریؒ کی فارسی ’شرح الفصوص‘، مولوی احمد حسین کانپوریؒ کی فارسی شرح یا اُردو میں عبدالغفور دوستیؒ، مولوی سید مبارک علیؒ، اور مولوی عبدالقدیر صاحبؒ حیدرآباد کے ’فصوص الحکم‘ کے ترجمے۔ ظاہر ہے کہ ایک مضمون میں ان سب شرحوں کا ذکر ممکن نہیں۔ یہاں صرف چند اہم شرحوں کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔

مسئلہ وحدت الوجود پر لٹریچر

شیخ اکبرؒ کی تصنیفات پر شرحوں کے علاوہ اُن کے نظریۂ وحدت الوجود پر ہندوستان میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ بعض اہم کتابیں یہ ہیں :

(۱)                 شرح التوحید‘، شیخ علی مہائمیؒ، قلمی نسخہ انڈیا آفس میں ہے۔ (نمبر ۱۳۶۲)

(۲)               الرسالۃ فی اثبات الاحدیہ‘، شیخ امان اللہ پانی پتیؒ (آصفیہ کتب خانہ حیدرآباد میں قلمی نسخہ ہے۔ (نمبر ۱۳۶۲)

(۳)     کتاب الوحدۃ‘، صبغۃ اللہ بن روح اللہ حسینی گجراتی۔

(۴)               عقائدالمواحدین‘، شیخ عبدالکریم بن مخدوم الملک عبداللہ۔

(۵)               عقائدالخواص‘، شیخ محب اللہ الٰہ آبادی۔

(۶)               رسالہ فی مسئلہ وحدت الوجود‘، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی۔

(۷)     الروض المجود فی تحقیق الوجود‘، امام فضل حق خیرآبادی۔

(۸)               رسالہ الہامات الموجود‘، شیخ محمد تھانوی۔

(۹)      ریاض القدس‘، شاہ نظام الدین بلخی وغیرہ وغیرہ۔

(جاری)

-----------------

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-1 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-2 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-3 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-4 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-5 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-6 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-7 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-8 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-9 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-10 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-11 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-12 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-13 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-14 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-15 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-16 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-17 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-18 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-19 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-20 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-21 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-22 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-23 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-24 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-25 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-26 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-27 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-28 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-29 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-30 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-31 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-32 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-33 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-34 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-35 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-36 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-37 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-38 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-39 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-40 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-41 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-42 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-43 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-44 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-45 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-46 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-47 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-48 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-49 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-50 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-51 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-52 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-53 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-54 تصوف اور صوفیہ

Related Article:   Sufi Saints and Sufism-Part-55 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-56 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-57 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-58 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-59 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-60 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-61 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-62 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-63 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-64 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-65 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-66 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-67 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-68 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-69 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-70 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-71 تصوف اور صوفیہ

Related Article:    Sufi Saints and Sufism-Part-72 تصوف اور صوفیہ

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/sufi-saints-sufism-part-73/d/139075

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..